Sunday , June 24 2018
Home / اداریہ / ہندوستان کی ترقی میں ریاستوں کا حصہ

ہندوستان کی ترقی میں ریاستوں کا حصہ

بے وقت چلا آتا ہے پتھراؤ کا موسم حق دار کو جب حصہ برابر نہیں ملتا ہندوستان کی ترقی میں ریاستوں کا حصہ

بے وقت چلا آتا ہے پتھراؤ کا موسم
حق دار کو جب حصہ برابر نہیں ملتا
ہندوستان کی ترقی میں ریاستوں کا حصہ
ہندوستان کی ترقی میں ریاستوں کو شامل کئے بغیر آگے بڑھنے کا حوصلہ کوئی بھی حکومت نہیں کرسکتی۔ وفاقی سطح پر ہندوستان کو مستحکم بنا کر ہی ترقی کی منزلیں طئے کی جاسکتی ہیں۔ وزیراعظم مودی نے ریاستوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنا کر ترقی کرنے کی نیت سے ٹیم انڈیا کا نعرہ دیا ہے۔ ان کا نعرہ ’’میک ان انڈیا‘‘ کو بھی بیرون ملک پھیلایا جارہا ہے۔ حالیہ دورہ چین کے موقع پر بھی وزیراعظم نے میک ان انڈیا کی ہی تشہیر کرتے ہوئے سرمایہ داروں کو راغب کرنے کی کوشش کی غور طلب امر یہ ہیکہ ہندوستان میں ریاستوں کو ان کا حق نہیں دیا گیا تو وفاقی ڈھانچہ کمزور پڑجاتا ہے۔ اس وقت نئی ریاست تلنگانہ کا مسئلہ بھی مرکز کے رحم و کرم پر ہے۔ آندھراپردیش سے علحدہ کردیئے جانے کے بعد تلنگانہ کو مرکز سے اس کا حق دینے میں کوتاہی کی جارہی ہے۔ ریاستوں کو ساتھ لیکر ٹیم انڈیا کی شکل میں ہندوستان کی ترقی کا خواب دیکھنے والے وزیراعظم مودی پر صرف اپنی پارٹی کی حکمرانی والی ریاستوں کے ساتھ ہمدردی کا مظاہرہ کرنے کا الزام عائد ہورہا ہے۔ ہندوستان کی ہر ریاست کو بہ یک وقت یکساں ترقی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ مگر اس کیلئے وقت درکار ہے۔ جو ریاستیں زیادہ پسماندہ ہیں ان کی ترقی پر توجہ دی جانی چاہئے۔ تلنگانہ میں بھی ان میں سے ایک ہے۔ ہندوستان کی 29 ویں ریاست کی حیثیت سے تلنگانہ کا وجود عمل میں آیا ہے تو اس ریاست کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ تمام ریاستوں کی ترقی میں ہی قومی ترقی مضمر ہے۔ مودی نے کوآپریٹیو فیڈر یلزم کا اشارہ دیا ہے۔ اس کا مطلب ریاستوں کے چیف منسٹروں کے ساتھ مرکزی حکومت کو مل جل کرکام کرنا ہے۔ جب قومی ترقی کی بات آتی ہے تو تمام ریاستوں کو متحد ہوکر آگے بڑھنا چاہئے۔ اس طرح مغربی بنگال، تریپورہ اور دیگر ریاستوں کے بارے میں مرکز کے رویہ خاص کر مودی حکومت کی پالیسیوں پر نکتہ چینی ہورہی ہے۔ اب تک کی حکومتوں نے بھی ہندوستان کی بعض ریاستوں کو یکسر نظرانداز کردیا تھا۔ ٹیم انڈیا کا نظریہ اس صورت میں کامیاب ہوگا جب تمام کے ساتھ دیانتدارانہ سلوک کیا جائے جبکہ مودی حکومت پر الزام ہیکہ وہ صرف رشوت ستانی میں ملوث افراد کی ٹیم بنا کر راج کرنا چاہتی ہے بظاہر وہ رشوت کے خلاف کام کرنے کا مظاہرہ کررہی ہے۔ دوسری طرف کارپوریٹ گھرانوں کی سرپرستی کرتے ہوئے مودی حکومت نے ہندوستان کے 65 سال پرانے قومی منصوبہ بندی کمیشن کو برخاست کردیا۔ اس کی جگہ نیتی آیوگ کو لایا گیا۔ اس ادارہ کا قیام صرف وزیراعظم کی یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ سے کی گئی تقریر کی ایجاد بن کر رہ گیا ہے۔ منصوبہ بندی کمیشن کی اپنی افادیت تھی۔ قومی ادارہ برائے ٹرانسفارمنگ انڈیا (نیتی آیوگ) قائم کرنے کے معاملہ میں حکومت پارلیمنٹ اور ملک کے وفاقی ڈھانچہ کو اہمیت نہیں دینا چاہتی تھی۔ ٹیم انڈیا کی پالیسی کے ذریعہ مودی حکومت پورے ملک کی ریاستوں کی حکمرانی کو مرکزیت کا درجہ دینا چاہتی ہے اور اس کا سارا کنٹرول مرکز کے ہاتھ چلا جانے کی ایک ترکیب کا حصہ ہے۔ اس سے وفاقی ڈھانچہ کو ضرب پہنچتی ہے۔ حال ہی میں مغربی بنگال میں چیف منسٹر ممتابنرجی نے بھی وزیراعظم مودی کی ٹیم انڈیا پالیسی کی حمایت کی ہے۔ اس میں ان کی اپنی پالیسی اور مطلب براری پوشیدہ ہے۔ وزیراعظم مودی ریاستوں کے اختیارات بھی اپنے ہاتھوں میں لینے کی پالیسی پر کام کرنے جارہے ہیں تو اس کی مخالفت و حمایت میں بھی فرق پایا جارہا ہے۔ مودی حکومت کے ایک سال کی تکمیل پر ہی یہ حکومت اپنے نازک دور میں داخل ہورہی ہے تو پھر آئندہ چار سال کے دوران یہ حکومت 2019ء کے انتخابات میں اپنے دوبارہ منتخب ہونے کے امکانات کو دھکا پہنچا رہی ہے۔ بلاشبہ ملک کی معیشت کے احیاء کو یقینی بنانے کیلئے حکومت کی کوشش کامیاب ہوتی ہیں تو اس سے سارے ملک کے عوام کو فائدہ ہوگا مگر جب پالیسی میں خراب نیت کا عمل دخل ہوتا ہے تو پھر اس حکومت اور اس کی پالیسی کے دوسرے رپورٹ کارڈ کا عوام کو انتظار رہے گا۔ وزیراعظم مودی کے تعلق سے بعض گوشوں کا خیال ہیکہ ان کی حکومت بعض شعبوں میں کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ کوئلہ کا ہراج ہو یا غذائی افراط زر کے خلاف جدوجہد میں یہ حکومت کامیاب ہورہی ہے لیکن پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے بعد تیزی سے اضافہ کا رجحان خراب ہے۔ خراب مانسون سے پیدا ہونے والی صورتحال بھی حکومت کیلئے پریشان کن حالات پیدا کرسکتی ہے۔
راہول گاندھی کی پدیاترا
کسانوں کے مسائل پر کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی کی پدیاترا کے دوران تلنگانہ کے ضلع عادل آباد میں وہی ہوا جو اس سے پہلے ان کے دورہ پنجاب اور مہاراشٹرا میں ہوا تھا۔ راہول گاندھی کو کسانوں کے حق میں زوردار آواز اٹھاتے ہوئے دیکھا جارہا ہے مگر ان کی موجودگی کو کسانوں نے خاطر میں نہیں لایا۔ راہول نے اپنی تقریروں میں کسانوں کے مسائل کی یکسوئی کیلئے راہ بنانے سے زیادہ مرکز کی مودی حکومت اور ریاستوں کی حکومتوں کو نشانہ بنایا۔ تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کو ’’منی مودی‘‘ قرار دیتے ہوئے راہول گاندھی نے تلنگانہ میں ٹی آر ایس حکومت اور بی جے پی میں خفیہ اتحاد کا اشارہ دیا ہے۔ مرکز کی مودی حکومت نے اور تلنگانہ کی ٹی آر ایس نے کسانوں کے لئے کچھ نہیں کیا ہے۔ وزیراعظم مودی نے لوک سبھا انتخابات کیلئے چلائی گئی مہم کے دوران تلنگانہ میں وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار پر آنے کے بعد کسانوں کو زرعی پیداوار کی منفعت بخش قیمت ادا کریں گے اور قرض راحت فراہم کریں گے لیکن اس سلسلہ میں اب تک نہ ہی مرکز نے اور نہ ہی ریاستی حکومت نے کسانوں کی پیداور پر منفعت بخش قیمت ادا کی اور نہ ہی مرکز نے قرض راحت کا انتظام کیا۔ کانگریس کی حکومتوں میں بھی کسانوں کے مسائل یہی تھے مگر راہول گاندھی کو اپنی پارٹی کی ناکامی کی وجوہات کا علم ہی نہیں ہے تو وہ کسانوں کے مسائل پر کوئی مثبت رائے زنی نہیں کرسکتے۔ پدیاترا صرف ایک لیڈر کی تشہیری مہم سے زیادہ کچھ نہیں ہوسکتی۔

TOPPOPULARRECENT