Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / ہندوستان کی ترقی و کامیابی تنوع و تکثیری معاشرہ میں مضمر

ہندوستان کی ترقی و کامیابی تنوع و تکثیری معاشرہ میں مضمر

مضبوط و خوشحال سماج کیلئے غیر مراعات یافتہ طبقات کے موقعوں میں اضافہ کی ضرورت، 14 ویں صدر کووند کا پہلا خطاب
نئی دہلی 25 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) نئے صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند نے آج کہاکہ ہندوستان کی کامیابی تنوع اور اس کے تکثیری معاشرہ میں مضمر ہے۔ ایک مضبوط و مستحکم معاشرہ کیلئے غیر مراعیات یافتہ طبقہ کو مزید مواقع فراہم کرنے کے ضرورت پر زور دیا۔ ملک کے 14 ویں صدر کی حیثیت سے پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال میں حلف برداری کے بعد 71 سالہ کووند نے ایک ایسے ہندوستان کی تعمیر پر زور دیا جو ایک اقتصادی رہبر اور اخلاقی مثال ثابت ہوسکے۔ اُنھوں نے مختلف ریاستوں کے گورنروں، چیف منسٹروں، سینئر سیاستدانوں اور دیگر ممتاز شخصیات کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے لئے یہ دو سنگ میل کبھی ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوسکتے۔ وہ ہمیشہ ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزم رہیں گے۔ تنوع ہی ہندوستان کی کامیابی کی کلید ہے۔ ہماری تنوع ہی ایک ایسی اساس ہے جو ہمیں غیرمعمولی طور پر منفرد بناتی ہے۔ کووند جنھوں نے آج سبکدوش صدر پرنب مکرجی سے اپنے عہدہ کا جائزہ لیا، مختلف ریاستوں، علاقوں، مذاہب، زبانوں، تہذیبوں اور طرز حیات اور دیگر کئی مشترکہ اقدار کا حوالہ دیا اور کہاکہ یہ منفرد امتزاج ہی اصل ہندوستان ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ’’ہم بے پناہ مختلف و جداگانہ ہونے کے باوجود یکساں اور متحد ہیں‘‘۔ کووند نے کہاکہ ہندوستان ایک ملک و قوم کی حیثیت سے بہت کچھ حاصل کیا ہے لیکن مزید کرنے کی مساعی، کچھ مزید بہتر کرنے اور تیز رفتار اقدامات کیلئے انتھک جستجو و جدوجہد جاری رکھنا چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ بالخصوص اس لئے بھی سچ ہے کہ ملک 2022 ء میں اپنی آزادی کے 75 ویں سال میں داخل ہوجائے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ ہندوستان کو اپنے آخری گاؤں کے آخری گھر کے آخری غیر مراعات یافتہ خاندان کی بیٹی اور آخری شخص تک رسائی اور اُنھیں موقع کی فراہمی کے لئے اپنی صلاحیتوں میں اضٓفہ کرنا چاہئے۔ کووند نے جو ایک دلت رہنما ہیں، کہاکہ اس عمل میں ایک قابل دسترس اور جلد انصاف رسانی کے نظام کو بھی شامل کرنا چاہئے۔ صدر ہند نے کہاکہ یہ انتہائی موزوں و مناسب ہوگا کہ گوتم بدھ کی اس سرزمین کو امن، دوستی، اُخوت اور ماحولیاتی توازن کی تلاش میں دنیا کی قیادت کرنا چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ ہمیں مہاتما گاندھی اور دین دیال اُپادھیائے کے نظریہ کے مطابق ایک مضبوط و مستحکم معاشرہ کے ساتھ تیز رفتار معاشی ترقی، ایک تعلیم یافتہ ، بااخلاق اور مشترکہ برادری کو فروغ دینے کی ضرورت ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہاکہ یہ اصول ہمارے احساس انسانیت کا اٹوٹ عنصر ہیں۔ کووند نے کہاکہ یہ ہمارے خوابوں کا ہندوستان ہے۔ ایک ایسا ہندوستان جو مساویانہ مواقع فراہم کرسکتا ہے۔ یہ 21 ویں صدی کا ہندوستان ہوگا‘‘۔ کووند نے ملک و قوم کی تعمیر میں خواتین کے رول کا خصوصی حوالہ دیا اور کہاکہ گھریلو کام کاج اور بچوں کو ایک مثالی شہری بنانے کے لئے مؤثر نگہداشت کی ذمہ داریوں کے باوجود خواتین میں اصل معمارِ قوم ہوتی ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ صرف حکومتیں ہی قومیں تعمیر نہیں کرسکتیں بلکہ حکومتیں بہتر انداز میں اس کے اسباب مہیا کرسکتی ہیں جس سے سماج میں ایک تحریک پیدا ہوسکتی ہے اور اس کے اختراعی نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ کووند نے کہاکہ ساتھی شہریوں کو غذا فراہم کرنے کے لئے کڑی دھوپ میں محنت کرنے والے کسان بھی قوم کے معمار ہیں۔ پولیس اور نیم فوجی فورسیس جو جرائم و دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں صف آراء ہیں وہ بھی قوم کے معمار ہیں۔ سیارہ مریخ کو ہندوستانی خلائی مشن روانہ اور ایک ٹیکہ ایجاد کرنے والے سائنسداں بھی قوم کے معمار ہوتے ہیں۔ کووند نے مزید کہاکہ ’’دور دراز کے کسی دیہات میں وباؤں کے خلاف جدوجہد کرنے والے اور ایک مریض کو صحتیابی میں مدد کرنے والے ڈاکٹرس اور نرسیس بھی قوم کے معمار ہوتے ہیں۔ نوجوان جو کوئی کاروبار شروع کرتے ہیں اور روزگار کے مواقع پیدا کرتے ہیں وہ قوم کے معمار ہوتے ہیں۔ کووند نے اپنے پیشرو صدور راجندر پرساد، ایس رادھا کرشنن، اے پی جے عبدالکلام اور پرنب مکرجی کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ملک کی آزادی دراصل مہاتما گاندھی کی قیادت میں ہزاروں مجاہدین آزادی کی مساعی کا نتیجہ ہے۔ کووند نے اپنے معمولی پس منظر کی یاد دلاتے ہوئے کہاکہ وہ ایک چھوٹے سے گاؤں کے مٹی کے گھر میں پلے بڑے ہیں اور وہاں سے اُنھوں نے اپنی اس زندگی کا طویل سفر شروع کیا تھا۔ یہی ہماری قوم اور سماج کی کہاوت بھی ہے جو اپنے تمام مسائل کے لئے وہ دستور کے دیباچہ میں دیئے گئے بنیادی منتر پر عمل کرتی ہے جس میں سب کے لئے انصاف، آزادی اور مساوات اور اُخوت کی ضمانت دی گئی ہے اور میں بھی ہمیشہ اس پر عمل کرتا رہوں گا‘‘۔ کووند نے اپنی حلف برداری کے فوری بعد کہاکہ ’’ہندوستان کے 14 ویں صدر کی حیثیت سے حلف برداری پر فخر اور اعزاز محسوس کررہا ہوں اور پورے عجز و انکساری کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھاتا رہوں گا‘‘۔

 

کووند کی حلف برداری کی جھلکیاں
نئی دہلی 25 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کے 14 ویں صدر کے جلیل القدر منصب پر رامناتھ کووند نے ایک عظیم الشان تقریب میں حلف لیا۔
٭ پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال میں منعقدہ تقریب میں کئی یادگار واقعات ریکارڈ کئے گئے۔
٭ ہندوستان کے 14 ویں صدر کووند اِس عہدہ پر فائز ہونے والے بی جے پی کے پہلے لیڈر اور دوسرے دلت ہیں۔
٭ مودی تقریب کے آغاز سے قبل ہی سنٹرل ہال میں پہونچ چکے تھے۔
٭ وزیراعظم نریندر مودی کی آمد پر بی جے پی قائدین نے میزیں تھپتھپا کر استقبال کیا اور واپسی کے وقت مودی نے شرکاء میں موجود مغربی بنگال کی چیف منسٹر ممتا بنرجی کو دیکھ لیا اور انتہائی خوشگوار انداز میں ہاتھ لہراتے ہوئے اُن کا استقبال کیا جس پر ٹی ایم سی رہنما نے نمستے کہتے ہوئے جواب دیا۔ دونوں قائدین نے طویل عرصہ سے جاری سیاسی تلخیوں کو ایک لمحہ کیلئے درکنار رکھتے ہوئے کچھ دیر بات کی۔
٭ اِس کے برخلاف بہار کے چیف منسٹر نتیش کمار اور لوک سبھا کی سابق اسپیکر میرا کمار جنھیں صدارتی انتخابات میں کووند کے مقابلے شکست ہوئی ہے، اگرچہ ایک ساتھ بیٹھے رہے لیکن شاید ہی اُنھیں بات کرتا دیکھا گیا۔
٭ کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی کے ساتھ اُن کی پارٹی کے وہ 4 ارکان بھی تھے جو پارلیمنٹ میں گزشتہ روز ہنگامہ آرائی کے دوران معطل کئے جانے والے کانگریس کے 6 ارکان میں شامل ہیں۔
٭ ممتا بنرجی عقبی نشستوں پر اپنی پارٹی کے ارکان کے ساتھ بیٹھی تھیں جبکہ اکثر چیف منسٹرس ابتدائی نشستوں پر بیٹھے تھے۔

TOPPOPULARRECENT