ہندوستان کی جمہوریت کا نازک دور ، سیکولر جماعتوں کو متحد ہونے کا مشورہ

بابری مسجد مقدمہ میں عقیدہ کی بنیاد پر فیصلہ ناقابل قبول ، محمد مشتاق ملک کا خطاب
حیدرآباد ۔ /14 فبروری (راست) ہندوستان کی جمہوریت نازک دور سے گزررہی ہے ۔ آر ایس ایس و سنگھ پریوار ملک کوہندو راشٹرا میں تبدیل کرنے کے درپے ہے ۔ تمام سیکولر طاقتوں کو جمہوریت کی بقاء کی سخت جدوجہد کرنا چاہئیے ۔ سپریم کورٹ بابری مسجد مقدمہ میں ٹائیٹل سوٹ کا فیصلہ کرتا ہے تو قابل قبول ہے ۔ عقیدہ کی بنیاد پر فیصلہ ناقابل قبول ہوگا ۔ شریعت محمدی ﷺ میں مداخلت ناقابل قبول ہوگی ۔ تحریک مسلم شبان کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں جناب محمد مشتاق ملک صدر تحریک مسلم شبان کی زیرصدارت ، صدر دفتر شبان اعظم پورہ نزد مسجد صحیفہ ان امور پر فیصلے کئے گئے ۔ مجلس عاملہ نے کچھ گوشوں کی جانب سے درپردہ بی جے پی حکومت سے بابری مسجد اور شریعت کے مسئلہ پر ہاتھ ملانے کی کوششوں کی سخت مذمت کی ۔ شریعت اور بابری مسجد پر ہم کسی قسم سے سنگھ پریوار کے موقف کی تائید نہیں کرسکتے ۔ مجلس عاملہ نے اتحاد ملت کو وقت کا تقاضہ قرار دیا ۔ ملت کو نہ صرف متحد رکھنے کی ضرورت ہے بلکہ ملت کے نام پر مفاد پرستوں کی سازشوں سے بھی چوکس و چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔ مجلس عاملہ نے اس بات پر سخت تشویش ظاہر کی کہ مسلکی ، جماعتی عصبیت کی وجہ سے ملت کمزور ہورہی ہے ۔ محمد مشتاق ملک نے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے اس بیان کو جس میں انہوں نے فوج سے زیادہ آر ایس ایس کے کارکنوں کی تیاری کی بات کی جمہوریت اور فوج کے تناظر میںبہت ہی اہم اور تشویشناک ہے ۔ کیا کسی جماعت کو ملک میں (Militeant Training) کی تربیت دینے کی کھلی چھوٹ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں نے ملک کی آزادی اور اس کی سالمیت کیلئے بے شمار قربانیاں دی ہیں مگر آج مسلمانوں کو بار بار ملک چھوڑدینے اور چلے جانے کی بات کی جاتی ہے ۔ 25 کروڑ مسلمان نہ بے بس ہیں نہ کمزور وہ اگر ناانصافی کے خلاف متحد ہوکر کھڑے ہوجائیں تو حالات بدل جائیں گے ۔ ملت کے اتحاد ، تحفظ ملت اور پچھڑے طبقات سے روابط جو شبان کے بنیادی مقاصد ہیں۔
اس پر کام کرنے پر 17 رکنی مجلس عاملہ پر زور دیا گیا ۔ جناب عارف قادری نے کہا کہ شبان ایک فکری اور نظریاتی تحریک ہے ۔ اجلاس میں مسرس ایم اے غفار نائب صدر ، محمد رحیم غوری ، محمد محبوب ، فاتح عالم خاں ،محمد نعیم الدین ، مشتاق ، صلاح پرویز ، مفتی منظور ، محمد عظیم ، علی کلی و دیگر اراکین نے مباحث اور ملی مسائل پر اظہار خیال کیا ۔ قرأت کلام پاک سے اجلاس کا آغاز ہوا ۔ جناب رحیم غوری نے ہدیہ نعت پیش کیا ۔ جناب عارف قادری نے کارروائی چلائی ۔

TOPPOPULARRECENT