Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / ہندوستان کی جنوبی ریاستیں دلتوں کیخلاف جرائم میں سرفہرست

ہندوستان کی جنوبی ریاستیں دلتوں کیخلاف جرائم میں سرفہرست

اترپردیش، راجستھان، بہار اور مدھیہ پردیش میں 60 فیصد جرائم کا ریکارڈ، رپورٹ میں انکشاف
حیدرآباد ۔ 14 اگست (سیاست نیوز) ملک میں دلتوں کے خلاف ہونے والے جرائم کی تعداد میں بتدریج اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ ملک کے مختلف ریاستوں میں دلتوں کے خلاف ہونے والے جرائم میں جنوبی ریاستیں سرفہرست ہیں جہاں آج بھی مختلف دلت طبقات سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو مذہبی مقامات سے دور رکھا جاتا ہے اور انہیں اچھوت سمجھا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہیکہ اترپردیش، راجستھان، بہار، مدھیہ پردیش میں دلتوں کے خلاف جرائم کی تعداد میں بتدریج اضافہ دیکھا جارہا ہے جہاں دلت خواتین کی عصمت ریزی کے علاوہ دلتوں کو مارپیٹ کے واقعات معمول بنے ہوئے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں منظرعام پر آئی ایک رپورٹ کے مطابق ان چار ریاستوں میں ملک میں ہونے والے دلتوں کے خلاف جرائم میں 60 فیصد جرائم ریکارڈ کئے گئے ہیں جس سے ان ریاستوں کی ابتر حالت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اترپردیش میں 8916 واقعات پیش آئے ہیں جن میں دلتوں کے خلاف جرائم کے واقعات جیسے اچھوت قرار دینے، مار پیٹ کے علاوہ عصمت ریزی جیسے سنگین جرائم شامل ہیں۔ راجستھان میں 8023 واقعات پیش آئے ہیں اسی طرح بہار میں 7893 واقعات ریکارڈ کی گئے ہیں۔ مدھیہ پردیش میں 4151 واقعات پیش آئے ہیں جن میں دلتوں کو ہراساں کرنے کے علاوہ مارپیٹ کے واقعات شامل ہیں۔ گذشتہ دنوں دلتوں کے ساتھ مارپیٹ کے واقعات کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ 2014ء سے اب تک ملک کی مختلف ریاستوں میں دلتوں پر حملوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ذرائع کے بموجب تبدیلی مذہب کے نام پر دلتوں و قبائیلی آبادیوں کو حملہ کا نشانہ بنایا جانا معمول کی بات ہوتی جارہی ہے اور کئی ریاستوں کے دیہی علاقوں میں اس طرح واقعات پر کٹر پسند تنظیموں کی جانب سے جبری گھر واپسی جیسے پروگرامس منعقد کرتے ہوئے انہیں ہراسانی کا شکار بنایا جانے لگا ہے۔ سال 2014ء میں دلتوں کے خلاف جملہ 47064 جرائم کے واقعات پیش آئے جن میں 2233 دلت خواتین کی عصمت ریزی کے واقعات اور 744 دلتوں کے قتل کے واقعات شامل ہیں۔ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں دلت طالب علم روہت ویمولہ کی خودکشی کے بعد دلتوں کے خلاف ہونے والے سنگین جرائم منظرعام پر آنے لگے ہیں جن سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہیکہ کئی ریاستوں بشمول گجرات، تلنگانہ، آندھراپردیش کے علاوہ شمالی ریاست میں دلت طبقات سے تعلق رکھنے والے آج بھی خوف کے عالم میں زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔ گذشتہ دنوں حیدرآباد میں وزیراعظم کی جانب سے دلتوں پر حملوں کے متعلق کئے گئے اظہارخیال کے بعد یہ بات مزید واضح ہوگئی کہ ملک میں اعلیٰ طبقات اپنی اجارہ داری کی برقراری کیلئے دلتوں کو حملوں کا نشانہ بنارہے ہیں اور دلت طبقات کی جانب سے متعدد مرتبہ تبدیلی مذہب دھمکیوں سے یہ بات واضح ہوچکی ہیکہ دلت طبقات مختلف اعلیٰ ذات کی ہراسانیوں سے عاجز آچکے ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT