Tuesday , January 16 2018
Home / Top Stories / ہندوستان کی رائے دہی میں غیر حاضری‘نمایاں تبدیلی

ہندوستان کی رائے دہی میں غیر حاضری‘نمایاں تبدیلی

یروشلم۔5جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) اقوام متحدہ کی انسانی حقوق رپورٹ پر رائے دہی کے دوران غیر حاضری اسرائیل کی گذشتہ سال غزہ کے ساتھ جنگ کے بارے میں ہندوستان کے موقف میں نمایاں تبدیلی کا اشارہ ہے ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ این ڈی اے حکومت کے دوران ہند ۔ اسرائیل تعلقات میں استحکام پیدا ہورہا ہے ۔ ماہرین نے کہا کہ اسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ

یروشلم۔5جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) اقوام متحدہ کی انسانی حقوق رپورٹ پر رائے دہی کے دوران غیر حاضری اسرائیل کی گذشتہ سال غزہ کے ساتھ جنگ کے بارے میں ہندوستان کے موقف میں نمایاں تبدیلی کا اشارہ ہے ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ این ڈی اے حکومت کے دوران ہند ۔ اسرائیل تعلقات میں استحکام پیدا ہورہا ہے ۔ ماہرین نے کہا کہ اسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ میں رائے دہی کے موقع پر ہندوستان کی رائے دہی سے غیر حاضری ’’ پہلی تاریخی پالیسی تبدیلی ‘‘ ہے جو فلسطینیوں کے سلسلہ میں پیش آئی ہے ۔ ہندوستان غیر حاضر ہوتے ہوئے ایک خاموش تماشائی بن گیا ہے جب کہ دیگر افراد نے تبصرہ کرتے ہوئے اسے ’’ ڈرامائی تبدیلی اور اسرائیل کے لئے قدیم المثال کارنامہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ہند ۔ اسرائیل تعلقات کے ایک نئے آغاز کا پتہ چلتا ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی اسرائیل کا عنقریب دورہ کرنے والے ہیں ۔ یہ کسی بھی ہندوستانی وزیراعظم کا اولین دورہ اسرائیل ہوگا ۔ ہندوستان جنیوا میں جمعہ کے دن رائے دہی کے دوران غیر حاضر رہا ۔ یہ نمایاں تبدیلی کا ثبوت ہے ۔ علاوہ ازیں ہند ۔ اسرائیل گذشتہ 20سالہ تعلقات میں ایک نیا موڑ ہے جو وزیراعظم نریندر مودی کی زیرقیادت آیا ہے ۔ ہندوستان کیلئے یہ ایک زبردست تبدیلی ہے ‘ کیونکہ ہندوستان غیر جانبدار تحریک کے قائدین میں سے ایک ہے ‘ جو بحیثیت تحریک ہمیشہ اسرائیل کے خلاف ووٹ دیتی آئی ہے ۔ اسرائیل کے کثیر الاشاعت روزنامہ ’’ ہا آرٹیز‘‘ نے ہندوستان کی غیر حاضری کو حکومت کی پالیسی میں نمایاںتبدیلی کا عکاس قرار دیا ہے ۔ روایتی طور پر ہندوستان ہمیشہ اسرائیل مخالف قراردادوں کی تائید میں ووٹ دیتا رہا ہے ۔ جمعہ کے دن اقوام متحدہ کی قرارداد پر رائے دہی کے دوران ہندوستان کی غیر حاضری ہند ۔ اسرائیل تعلقات میں بڑھتی ہوئی گرمجوشی کی علامت ہے جو 2014ء میں نریندر مودی کے بطور وزیر اعظم انتخاب کے بعد منظر عام پر آئی ہے ۔

حکومت ہند کی جانب سے وضاحت کے باوجود کے فلسطینی کاز کی ہندوستانی تائید میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے ۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے رائے دہی کے دوران ہندوستان کی غیر حاضری کو ’’ ڈرامائی تبدیلی‘‘ قرار دیا ہے ۔ اسرائیلی سفیر برائے ہند ڈینیل کارمن نے اپنے ٹوئیٹر پر تحریر کیا کہ ہم اقوام متحدہ کے انسانی حقوق شعبہ کے ارکان کی رائے دہی کی قدر کرتے ہیں ۔ ہندوستان نے ایک اور مخالف اسرائیل قرار داد کی تائید نہیں کی جس کیلئے ہم ہندوستان کے مشکور ہیں ۔ انہوں نے تحریر کیا کہ اسرائیل کے خارجہ تعلقات مثبت ہیں اور ان کے مثبت اثرات کا ثبوت ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں ڈرامائی اور نمایاں تبدیلی ہے ۔ سرکاری عہدیداروں کے بموجب وزیراعظم اسرائیل بنجامن نتن یاہو نے نریندر مودی سے ربط پیدا کر کے رائے دہی کے دوران غیر حاضر رہنے کی اُن سے خواہش کی تھی ۔دونوں قائدین کے درمیان خوشگوار روابط ہیں اور دونوں گذشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران باہم ملاقات کرچکے ہیں ۔ اس کے بعد سے دونوں قائدین کے درمیان ربط مسلسل برقرار رہا ہے ۔ ہندوستان فلسطینیوں کی تائید میں اقوام متحدہ کے مختلف شعبوں میں اسرائیل کی مذمت کرنے والی قراردادوں کی ہمیشہ تائید کرتا آیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT