Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / ہندوستان کی علاقائی سلامتی کا احترام کرنے چین سے ہندوستان کی خواہش

ہندوستان کی علاقائی سلامتی کا احترام کرنے چین سے ہندوستان کی خواہش

سارک اور موضوعات کا احاطہ، رائے سینا مذاکرات کے اجلاس سے معتمد خارجہ جئے شنکر کا خطاب
نئی دہلی۔18 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) دونوں ممالک کے تعلقات میں بڑھتی ہوئی بے چینی کے پیش نظر ہندوستان نے آج چین سے خواہش کی کہ وہ ہندوستان کی علاقائی سلامتی کا احترام کرے اور اس کے عروج کو چین کے لیے خطرہ نہ سمجھا جائے۔ معتمد خارجہ ایس جئے شنکر نے پاکستان پر تنقید کی کہ اس نے سارک کا راستہ بند کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی تنظیم غیر موثر ہوگئی ہے۔ کیوں کہ ایک رکن ملک نے اس کی حفاظت کے لئے خطرہ پیدا کردیا ہے۔ دہشت گردی کو بین الاقوامی سلامتی کے لیے انتہائی کجرو اور سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے معتمد خارجہ نے کہا کہ اس لعنت سے عالم گیر سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی اصلاحات پر زور دینا چاہئے تاکہ بڑے چیلنجس کا موثر مقابلہ کیا جاسکے کیوں کہ وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتے جارہے ہیں۔ چین۔پاکستان معاشی راہداری کے بارے میں جو پاکستانی مقبوضہ کشمیر سے گزرتی ہے، جئے شنکر نے ملک کے نظریہ کو پیش کیا اور کہا کہ رائے سینا مذاکرات جغرافی۔سیاسی اور جغرافی۔معاشی نمائندہ کانفرنس ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کو ہندوستان کی علاقائی سلامتی کا احترام کرنا چاہئے۔ کیوں کہ چین ایسے معاملات میں جن کا تعلق خود اس کی خودمختار سے ہو، بہت حساس ہے۔ چین ایک ایسا ملک ہے جو اپنی خود مختاری کے تعلق سے انتہائی حساس ہے اس لیے ہم توقع کرتے ہیں کہ وہ ایسا کوئی کام نہیں کرے گا جسے دوسرے ملک کے عوام کی خود مختاری متاثر ہوتی ہو۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی چین۔پاکستان معاشی راہ داری پراجیکٹ کے بارے میں فکرمندی اسی کی عکاس ہے۔ معتمد خارجہ کے تبصرے ایک اور دن سامنے آئے ہیں جبکہ وزیراعظم نریندر مودی نے چین کو واضح پیغام دیا ہے کہ دونوں فریقین کو حساسیت کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور ایک دوسرے کی بنیادی فکرمندی اور مفادات کا بھی احترام کرنا چاہئے۔ مودی نے کل کہا تھا کہ ملوث ممالک کی خودمختاری کا احترام علاقائی مربوط کرنے والی راہداری کے ذریعہ تکمیل پا سکتا ہے اگر متعلقہ ممالک اپنے تیقنات پر قائم رہیں اور اختلافات اور ایک دوسرے سے نفرت سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کوشش کررہے ہیں کہ چین کو قائل کرواسکیں کہ ہمارا عروج چین کے عروج کے لیے خطرہ نہیں ہے۔ اس لیے چین کو ہندوستان کے عروج سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے انتخاب کا حوالہ دیتے ہوئے معتمد خارجہ نے کہا کہ امریکہ اور روس ایک بڑی عبوری تبدیلی کے دور سے گزررہے ہیں۔ 1945ء کے بعد اس تبدیلی کے اثرات کے بارے میں کوئی پیش قیاسی نہیں کی جاسکتی۔ اس پس منظر میں انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے امریکہ اور روس سے تعلقات میں اضافہ ہورہا ہے اور امریکہ۔روس تعلقات بہتر ہورہے ہیں لیکن ہندوستان اس کو اپنے مفادات کے لیے خطرہ نہیں سمجھتا۔ بحیثیت مجموعی چین کے ساتھ تعلقات وسیع تر تعاون خاص طور پر تجارت اور عوام کے عوام سے روابط کے شعبوں میں تعلقات بہتر ہورہے ہیں اور اختلافات میں کمی آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے پر ہندوستان کی سفارت کاری نے زیادہ توجہ مرکوز کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ایک سانپ ہے جو اسی ہاتھ کو ڈس لیتے ہے جو اسے کھلاتا ہے۔ سارک کے بارے میں جئے شنکر نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ جزوی حل بنگلہ دیش، بھوٹان، ہندوستان ، نیپال کے ضمنی علاقائی گروپ کے ذریعہ ممکن ہے۔

TOPPOPULARRECENT