Saturday , May 26 2018
Home / ہندوستان / ہندوستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری، عالمی ادارہ کی رپورٹ

ہندوستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری، عالمی ادارہ کی رپورٹ

 

نئی دہلی 17 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکی تحقیقی ادارہ موڈی نے ہندوستان میں معاشی و ادارہ جاتی اصلاحات میں بہتری کی نشاندہی کرتے ہوئے ملک کی مستحکم صورتحال کے پس منظر میں کریڈٹ ریٹنگ کو ’ کے زمرہ میں شامل کردیا ہے۔ کریڈٹ ریٹنگ کی زمرہ بندی میں ہندوستان نے 13 سال کے وقفہ کے بعد پہلی مرتبہ بلندی حاصل کی ہے۔ امریکی ادارہ موڈی نے قبل ازیں 2004 ء میں ہندوستانی کریڈٹ ریٹنگ میں اضافہ کے ساتھ اس کو ’Baa3‘ زمرہ میں شامل کیا تھا۔ 2015 ء میں اس ریٹنگ کا تناظر ’مستحکم‘ کے زمرہ سے تبدیل کرتے ہوئے ’مثبت‘ میں شامل کیا گیا تھا۔ ’Baa3‘ سرمایہ کاری کی درجہ بندی میں کمترین زمرہ ہوتا ہے جو ’ناقص‘ زمرہ سے بمشکل ایک پائیدان اوپر رہتا ہے۔ امریکی ادارہ موڈی نے اپنے بیان میں کہاکہ ’’موڈی کی ان توقعات پر ہندوستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں اضافہ کیا گیا ہے کہ ملک میں جاری معاشی و ادارہ جاتی اصلاحات ہندوستان کی اعلیٰ ترقی کے وسیع تر موقعوں اور صلاحیتوں میں اضافہ کریں گے اور اس کی وسیع و مستحکم بنیادیں درمیانی مدت میں حکومت پر قرض کے بوجھ کو قابل لحاظ حد تک کم کریں گی‘‘۔ سوان کریڈٹ ریٹنگ کسی ملک میں سرمایہ کاری کے ماحول کی اکائی کا پیمانہ ہوتی ہے۔ جس سے سرمایہ کار کو کسی مخصوص ملک میں سرمایہ کاری سے مربوط جوکھم کی سطح اور سیاسی خطرات کا اشارہ دیا جاتا ہے۔ دیگر ریٹنگ ادارے ہندوستان کو ایک طویل عرصہ سے ’Baa3‘ کا زمرہ دے رہے تھے جو سرمایہ کاری کا کمترین درجہ اور ناقص زمرہ سے محض ایک پائیدان اوپر ہوتا ہے لیکن اب ’Baa3‘ سے ایک پائیدان اوپر اُٹھتے ہوئے ہندوستان نے ’Baa2‘ میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی اپنی حکومت کے معاشی اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے کچھ عرصہ سے ہندوستان کو زمرہ بندی میں ایسا کوئی مقام دینے کے لئے اصرار کررہے تھے۔ کسی ملک میں کاروبار سے متعلق اپنی رپورٹ میں ورلڈ بینک نے بھی اپنی حالیہ فہرست میں ہندوستان کو 30 پائیدانوں سے اوپر لاتے ہوئے 100 ویں مقام پر پہونچا دیا ہے۔ تاہم کریڈٹ ریٹنگ کے عالمی ادارہ نے خبردار کیاکہ قرض کا بھاری بوجھ اس ملک (ہندوستان) کے کریڈٹ ریکارڈ پر ایک رکاوٹ ثابت ہوسکتا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’(عالمی ریٹنگ ادارہ) موڈی یہ سمجھتا ہے کہ اصلاحات کے سبب قرض کے بوجھ میں بھاری اضافہ کا خطرہ کم ہوگا بلکہ اس میں مزید کمی کا رجحان بھی دیکھا جاسکتا ہے‘‘۔ مالیاتی پالیسی کے چوکھٹے میں بہتری، بینک نظام میں زیر تصفیہ غیر کارکرد قرضوں کے مسئلہ سے نمٹنے کے اقدامات، نوٹ بندی، بائیو میٹرک کھاتوں کے لئے آدھار نظام، فوائد کی راست منتقلی (ڈی بی ٹی) نظام بھی معیشت میں غیر رسمی طریقوں میں کمی کا سبب بن سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کسی اقدامات کے اثرات منظر عام پر آنے کے لئے وقت درکار ہوگا۔ لیکن جی ایس ٹی اور نوٹ بندی جیسے بعض اقدامات سے مستقبل قریب میں بھی معیشت زیربار ہوسکتی ہے۔ موڈی نے توقع ظاہر کی کہ مارچ 2018 ء میں ختم شدنی رواں مالیاتی سال میں مجموعی قومی پیداوار اوسطاً 6.7 فیصد ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT