Friday , September 21 2018
Home / ہندوستان / ہندوستان کی کمیونسٹ تحریک میں پھوٹ پر لفظی جنگ

ہندوستان کی کمیونسٹ تحریک میں پھوٹ پر لفظی جنگ

ترواننتا پورم 24 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام)ہندوستان کی کمیونسٹ تحریک میں 1964 میں پھوٹ پڑجانے پر مباحث لامتناعی ہے سی پی آئی اور سی پی آئی (ایم) اس اہم سوال پر مختلف نظریات پیش کررہے ہیں کہ ملک میں بائیں بازو کے فروغ میںشزم میں مدد کی تھی یا نہیں۔ سی پی آئی ایم کا پارٹی کی تشکیل کا جشن زریں منانے کے منصوبہ پر حالیہ تنازعہ پیدا ہوگیا ہے ۔ کمیو

ترواننتا پورم 24 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام)ہندوستان کی کمیونسٹ تحریک میں 1964 میں پھوٹ پڑجانے پر مباحث لامتناعی ہے سی پی آئی اور سی پی آئی (ایم) اس اہم سوال پر مختلف نظریات پیش کررہے ہیں کہ ملک میں بائیں بازو کے فروغ میںشزم میں مدد کی تھی یا نہیں۔ سی پی آئی ایم کا پارٹی کی تشکیل کا جشن زریں منانے کے منصوبہ پر حالیہ تنازعہ پیدا ہوگیا ہے ۔ کمیونسٹ پارٹی کے کہنہ مشق قائدین کا ایک گروپ 1964 میں قومی کونسل کے اجلاس سے واک آوٹ کرگیا تھا۔ سی پی آئی ایم کے اس تقریب کو منانے کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے سی پی آئی نے کیرالہ میں پارٹی کی تاسیس کی 75 ویں سالگرہ کو نظر انداز کرنے کے بارے میں ذہنی تحفظات ظاہر کئے ہیں اور کہا ہے کہ اس پھو ٹ سے ملک میں بائیں بازو کی تحریک کی پیشرفت کو زبردست دھکہ پہنچا ہے ۔ سی پی آئی کیرالہ کے سکریٹری پنین رویندرن نے پارٹی کے برانچ سکریٹریوں کے نام اپنے ایک کھلے مکتوب میں جو پارٹی کے ترجمان ’’نواگام ‘‘میں شائع ہوا ہے اس کا ادعا کیا ۔ سی پی آئی کے موقف پر جوابی وار کرتے ہوئے سی پی آئی ایم کی ریاستی سکریٹریٹ کے رکن وی وی دکھشنا مورتی نے پارٹی کے ترجمان ’’دیش ابھیمانی‘‘میں ایک مضمون تحریر کیا ہے اور اس حقیقت کی تائید کی گئی ہے کہ مزدور طبقہ کی انقلابی پارٹی نے غلط رخ اختیار کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT