Tuesday , August 14 2018
Home / Top Stories / ہندوستان کے مسلمان ترقی کے میدان میں دیگر اقوام سے کافی پیچھے

ہندوستان کے مسلمان ترقی کے میدان میں دیگر اقوام سے کافی پیچھے

مختلف چیالنجس سے نمٹنے آپسی اتحاد پر زور، ایفا فاؤنڈیشن کو روزنامہ سیاست سے ایک لاکھ روپیوں کا عطیہ
رائچور میں فاؤنڈیشن کی دس سالہ تقریب، جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر سیاست و دیگر کا خطاب

حیدرآباد 15 جولائی (سیاست نیوز) نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب عامر علی خان نے ایفا فاؤنڈیشن کی تعلیمی، طبی اور فلاحی خدمات کو مثالی کارنامہ اور ناقابل فراموش قرار دیتے ہوئے روزنامہ سیاست کی جانب سے ایک لاکھ روپئے کا عطیہ دینے کا اعلان کیا اور کہاکہ حیدرآباد اسٹیٹ کی ہندوستانی مملکت میں انضمام کے موقع پر منظم سازش کے تحت مسلم غلبہ والے علاقوں کو تین ریاستوں میں تقسیم کرتے ہوئے مسلمانوں کی طاقت کو توڑ دینے اور زندگی کے تمام شعبہ حیات میں نظرانداز کردینے کا دعویٰ کیا۔ زکوٰۃ کا صحیح طریقہ سے بٹوارہ کرتے ہوئے زکوٰہ لینے والے کو آئندہ سال زکوٰۃ دینے کے قابل بنانے پر زور دیا۔ ملک کے مسلمانوں میں جو ڈر و خوف کا ماحول ہے اس کے بادل بھی بہت جلد چھٹ جانے کی توقعات کا اظہار کیا۔ ایفا فاؤنڈیشن رائچور کے 10 سال کی تکمیل پر رنگا مندر آڈیٹوریم اسٹیشن روڈ رائچور میں منعقدہ تقریب میں کلیدی خطبہ دیتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا اور مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کو تہنیت پیش کی۔ صدر ایفا فاؤنڈیشن محمد شبیر نے تقریب کی صدارت کی۔ سابق رکن پارلیمنٹ عبدالصمد صدیقی، صدر ثانی ویلفیر ٹرسٹ حیدرآباد اظہر مخصوصی، سابق رکن زیڈ پی ٹی سی و بانی الحاج ڈاکٹر شبیر حسن ٹرسٹ اسلم پاشاہ بانی محمود حسین چیارٹیبل ٹرسٹ مظہر حسین، بانی محمد مکرم حسین میموریل ٹرسٹ، محمد تجمل حسین اسسٹنٹ پروفیسر سید منہاج الحسن کے علاوہ مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیتیں موجود تھیں۔ جناب عامر علی خان نے کہاکہ ہندوستان کی آزادی کے بعد ریاست حیدرآباد کا انڈین یونین میں انضمام تکلیف دہ دور تھا۔ مسلمانوں کے اتحاد اور طاقت کو توڑنے کے لئے ایک منظم سازش کے تحت مسلم غلبہ والے علاقوں کو تین ریاستوں آندھراپردیش، کرناٹک اور مہاراشٹرا میں تقسیم کردیا گیا۔ اس سازش سے اُبھرنے میں مسلمانوں کو 60 سال لگ گئے۔ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا تناسب 40 فیصد سے گھٹ کر ایک فیصد تک پہونچ گیا۔ ہر شعبہ میں مسلمانوں سے دانستہ طور پر ناانصافی کی گئی۔ صرف خوش کن باتوں سے مسلمانوں کا پیٹ بھرنے کی کوشش کی گئی۔ کشمیر سے کنیا کماری اور گجرات سے آسام تک مسلمان کسمپرسی کا شکار ہے۔ حکمراں کے ساتھ مسلمان بھی اپنی حالت زار کے لئے برابر کے ذمہ دار ہیں۔ مسلمان ہندوستان میں دوسری قوموں سے کافی پیچھے ہیں۔ ان چیالنجس سے نمٹنے کے لئے مسلمانوں کو پہلے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرتے ہوئے خصوصی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ پھر آپس میں تال میل پیدا کرتے ہوئے جو حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ اُس پر عمل آوری سے ہی اس کے مثبت نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ اس کام کو انجام دینے کے لئے مسلمانوں کو انفرادیت کے ساتھ ساتھ اجتماعی جدوجہد کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے نیوز ایڈیٹر عامر علی خان نے ایفا فاؤنڈیشن کی کارکردگی کا حوالہ دیا اور کہاکہ 10 سال قبل لگایا گیا پودا آج تناور درخت میں تبدیل ہوچکا ہے۔ مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی، سماجی پسماندگی دور کرنے کے لئے تمام مسلمانوں کو کمربستہ ہوجانے کا وقت آگیا ہے۔ ماضی کو بھلاکر مسلمانوں کی ترقی اور بہبود کے لئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ ہر بڑے کام کی شروعات چھوٹے کام سے ہوتی ہے جس کی زندہ مثال ایفا فاؤنڈیشن ہے جو ضرورت مندوں کی ضرورت کو پورا کرنے تعلیم میں طلبہ کی حوصلہ افزائی کرنے مریضوں کی طبی امداد فراہم کرنے اور بھوکے لوگوں کو کھانا کھلانے میں جو خدمات انجام دے رہا ہے وہ مثالی کارنامہ جس کو ہرگز فراموش نہیں کیا جاسکتا یقینا مسلمانوں کا ماضی تابناک تھا۔ حال ٹھیک نہیں ہے مستقبل کو روشن بنانے کے لئے ایفا فاؤنڈیشن کی طرح کام کریں۔ عامر علی خان نے کہاکہ زکوٰۃ ادا کرنا تمام مسلمانوں کا فریضہ ہے۔ اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ماہ رمضان میں مسلمان کروڑہا روپئے کی زکوٰۃ ادا کررہے ہیں جس سے فریضہ تو ادا ہورہا ہے مگر مسلمانوں کی غربت دور نہیں ہورہی ہے۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے ایسا فارمولہ تیار کریں جس سے فریضہ کی ادائیگی ہو اور غربت بھی دور ہوجائے۔ کسی غریب کو کسی ایسی چیز کا مالک بنائے تاکہ آئندہ سال وہ بھی زکوٰۃ ادا کرسکے۔ عامر علی خان نے مسلمانوں کے شرح ترک تعلیم پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ تعلیم سے ہی مسلمانوں کے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ قوم کو اس جانب اولین توجہ دینے کا مشورہ دیا۔ پروفیشنل کورسیس کا انتخاب کرتے ہوئے مسلمانوں کو تمام شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے پر زور دیا اور کہاکہ ایک روپیہ بھی کافی اہمیت رکھتا ہے۔ شہر رائچور میں مسلمانوں کی 40 فیصد آبادی ہے۔ ہر دن ہر شخص ایک روپیہ بھی چندہ دیتا ہے تو وہ دیکھتے ہی دیکھتے بہت بڑی رقم میں تبدیل ہوجاتی ہے جس سے مسلمانوں کے مسائل دور کرنے اور اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کرنے غریب مسلمانوں کی طبی امداد کرنے میں یہ رقم معاون و مددگار ثابت ہوتی ہے۔ نیوز ایڈیٹر سیاست نے مسلمانوں کو نمازوں کی پابندی کرنے اور قرآن کو ترجمے کے ساتھ پڑھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہاکہ نماز کا جو وقت مقرر کیا گیا ہے وہ دراصل ٹائم مینجمنٹ ہے۔ رات میں دیر تک جاگنا اور دن میں دیر تک سونا رزق کو روکتا ہے۔ سیاسی جماعتوں اور حکمرانوں کی جانب سے مسلمانوں کو صرف ہتھیلی میں جنت دکھائی جارہی ہے۔ تلنگانہ میں 55 لاکھ ایس سی طبقات کے لئے بجٹ 15 ہزار کروڑ روپئے کا ہے جبکہ 50 لاکھ اقلیتوں کے لئے بجٹ میں صرف 2 ہزار کروڑ روپئے کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ 2019 ء کے انتخابات ملک کی سیاست میں اہم رول ادا کرنے والے ہیں ان کی شخصی رائے یہ ہے کہ ان انتخابات میں مسلمان مقابلہ کرتے ہوئے فرقہ پرستوں کو تقویت پہنچانے کے بجائے اپنے لئے مناسب رہنے والی پارٹیوں کو ووٹ دیں۔ ملک میں مسلمانوں کے لئے جو ڈر و خوف کا ماحول ہے وہ عارضی ہے۔ بہت جلد یہ بادل بھی چھٹ جائیں گے اور ہم اُمید کرتے ہیں کہ ہمارے لئے بھی اچھے دن آئیں گے۔ عامر علی خان نے روزنامہ سیاست کی جانب سے ایفا فاؤنڈیشن کی ہرممکنہ مدد کرنے کا تیقن دیا۔ حارث صدیقی نے نیوز ایڈیٹر عامر علی خان اور روزنامہ سیاست کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہاکہ صحافت عامر علی خان کو وراثت میں ملی ہے۔ سیاست ایک اخبار نہیں بلکہ مکمل انجمن ہے جو قوم کی رہبری، حوصلہ افزائی کرنے میں اہم رول ادا کررہا ہے۔ روزنامہ سیاست کی جانب سے کئی فلاحی کام انجام دیئے جارہے ہیں۔ عامر علی خان، وزرائے اعظم، صدرجمہوریہ ہند اور نائب صدرجمہوریہ کے ساتھ کئی بیرونی ممالک کا دورہ کرچکے ہیں۔ مسلمانوں میں صحافتی رجحان کم ہے۔ مگر کم عمری میں عامر علی خان ہندوستان کے سب سے بڑے اخبار کی باگ ڈور اپنے ذمہ لیتے ہوئے اس کو عصری طریقوں سے فروغ دے رہے ہیں۔ آج کل میڈیا میں مسابقت دیکھی جارہی ہے مگر اردو کی خدمات کے لئے ملک کے 10 اردو اخبارات کو اپنی تیار شدہ خبریں فراہم کرتے ہوئے روزنامہ سیاست ان کی مدد کررہا ہے جو قابل ستائش اقدام ہے۔ اسسٹنٹ پروفیسر سید منہاج الحسن نے ایفا فاؤنڈیشن کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ غریب عوام اور یتیموں میں گزشتہ 900 دن سے کھانا کھلایا جارہا ہے۔ 300 غریب مسلمانوں کے قلب کا مفت آپریشن کیا گیا ہے۔ فری ہیلت چیک اپ کیمپس کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ یتیم بچوں کو گود لیتے ہوئے ان کی تعلیمی ضرورتوں کو پورا کیا جارہا ہے۔ رمضان کٹس بھی تقسیم کئے جارہے ہیں اور شادیوں کے لئے دو بہ دو پروگرام کا اہتمام پابندی کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ اسلم پاشاہ نے ایفا فاؤنڈیشن کی خدمات کو ناقابل فراموش قرار دیتے ہوئے کہاکہ وہ جذبہ انسانیت کے تحت اس فاؤنڈیشن سے وابستہ ہوگئے ہیں۔ تجمل حسین نے کہاکہ نیک کاموں میں ہر ایک کو تعاون کرنا چاہئے۔ رقمی تعاون نہ ہوسکے تو شخصی خدمات پیش کریں وہ بھی نہ ہوسکے تو کم از کم ایفا فاؤنڈیشن کے لئے دعاگو رہیں۔ مظہر حسین کے علاوہ دوسروں نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر حیدرآباد میں غریب عوام کو کھانا کھلانے والے اظہر مخصوصی، ایشین پاور لفٹنگ چمپئن اشرف علی کتور اسٹیٹ ایس ایس ایل سی ٹاپر محمد کیف ملا 7 سالہ ملٹی وہیلر رائیڈر رفعت تسکین اور بانی فاطمہ اولڈ ایج ہوم حیدرآباد محمد عبدالواصف کو ان کی گرانقدر خدمات پر تہنیت پیش کی گئی۔ اس کے علاوہ ایفا فاؤنڈیشن سے تعاون کرنے والوں اور بہتر تعلیمی مظاہرہ کرنے والے طلبہ میں بھی انعامات تقسیم کئے گئے۔ ایفا فاؤنڈیشن کے روح رواں محمد ساجد نے دو بہ دو پروگرام کے علاوہ دوسرے کاموں کے لئے روزنامہ سیاست کے تعاون پر عامر علی خان سے اظہار تشکر کیا۔

TOPPOPULARRECENT