Thursday , December 14 2017
Home / شہر کی خبریں / ہندوستان گنگا جمنی تہذیب کا علمبردار ملک : زاہد علی خاں

ہندوستان گنگا جمنی تہذیب کا علمبردار ملک : زاہد علی خاں

دفتر سیاست میں ڈاکٹر بی ڈی جٹی کی سالگرہ تقریب ، ایڈیٹر روزنامہ سیاست اور دیگر کا خطاب

حیدرآباد۔ 8 اکتوبر (سیاست نیوز) راشٹرا بسوا سمیتی کے زیراہتمام ملک کے سابق نائب صدرجمہوریہ ہند ڈاکٹر بی ڈی جٹی کی یاد میں 105 ویں سالگرہ تقریب گولڈن جوبلی ہال، احاطہ روزنامہ سیاست، عابڈز میں بصد احترام منائی گئی جس میں بسوا سمیتی کے کارکن کے علاوہ ڈاکٹر بی ڈی جٹی کے فرزند جناب اروند جٹی اور جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر روزنامہ سیاست شریک تھے۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر بی ڈی جٹی نے سیاسی میدان میں قدم رکھتے ہوئے ان کے مذہبی قائد و رہنما بسوا شیواجی کے نظریات اور ان کے اصولوں و ضوابط اور انہوں نے جن جن حالات میں اپنے خیالات و تفکر کے ذریعہ عوام کی خدمت کی اور اسے اپنی زندگی میں راسخ کرتے ہوئے ان کے اصولوں کو دوسروں تک پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ آج بھی اروند جی اپنے والد کے اصول اور بسو شیواجی کی تعلیمات پر خود عمل کرتے ہوئے ملک بھر میں اس کے پھیلانے کا عزم کئے ہوئے ہیں۔ جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر سیاست نے اس تقریب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان گنگا جمنی تہذیب کا علمبردار ملک ہے جہاں ہر مذہب کے ماننے والوں نے تعلیمات کو پھیلایا اور وہیں بزرگان دین نے اس ملک میں اسلام کے حیات آفرین پیغام کو پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں بسوا شیواجی جٹی مذہبی شخصیت نے بھی اپنے اصول پر گامزن رہتے ہوئے تبلیغ کی اور بسوا شیواجی نے 850 سال قبل امن و بھائی چارگی کا پیغام پہنچانے کی بنیاد ڈالی مگر محسن انسانیت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو انسانیت کے مربی ہیں، آپؐ نے 1400 سال قبل ہی اسلام کے پیغام کو اقطاع عالم میں پھیلایا جس سے آج بھی دنیا مستفید ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں فسطائی طاقتیں ہر جگہ نفرت، بھید بھاؤ کا بازار گرم کئے ہوئے ہے اور انسان کو انسانیت سے دور کرنے کے درپے ہیں۔ ایسے میں اگر اروند جٹی جیسے سماجی جہد کار سماجی خدمات کا بیڑہ اٹھائیں تو اس ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی بھید بھاؤ، ذات پات کے بغیر روزنامہ سیاست نے عرصہ دراز سے خدمت خلق اور تعلیم کے شعبہ میں کام کررہا ہے اور بہار کے حالیہ سیلاب زدگان کیلئے 40 ٹن مختلف اشیاء روانہ کی گئی ہیں۔ ڈاکٹر اروند جٹی نے سیاسی رہنماؤں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ان دنوں ایک دلدل میں پھنستے جارہا ہے۔ اس ملک کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں کئی پیشواؤں اور بزرگان دین آئے اور ملک میں بھائی چارگی اور امن کا پیغام پھیلایا۔ انہوں نے بسوا شیواجی کی تعلیمات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ والد بزرگوار سابق نائب صدرجمہوریہ ہند بی ڈی جٹی نے ان تعلیمات کو اپنایا اور اس ملک میں ایک سیاسی بدلاؤ لایا جس کے لئے ان کے گذر جانے کے بعد بھی آج ملک یاد کرتا ہے۔ سابق رکن پارلیمان و اے آئی سی سی سیکریٹری وی ہنمنت راؤ نے ڈاکٹر بی ڈی جٹی کی شخصیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی کے ذریعہ انسان سے محبت کرنے اور خدمت خلق کا جذبہ پیدا کرنے کی تلقین کی اور بتایا کہ بھید بھاؤ کو ختم کرنا بے حد ضروری ہے۔ ڈاکٹر جناردھن ریڈی نے خیرمقدم کیا اور کہا کہ حیدرآباد جو گنگا جمنی تہذیب کا علمبردار ہے۔ آزادی کے 70 سال بعد بھی اس تہذیب کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس موقع پر جناب سرینواس یادو، کاشی ناتھ، ڈاکٹر پربھاشنکر پریمتی اور دیگر نے بھی مخاطب کیا۔
کیندریہ ودیالیہ میں اساتذہ کے تقررات

TOPPOPULARRECENT