Wednesday , November 22 2017
Home / Top Stories / ہندوستان ہر چیلنج سے نمٹنے کا اہل ‘مذہب کے نا م پر تشدد ناقابل قبول

ہندوستان ہر چیلنج سے نمٹنے کا اہل ‘مذہب کے نا م پر تشدد ناقابل قبول

کشمیر مسئلہ گولی یا گالی سے حل نہیںہوگا ‘ ہر کشمیری کو گلے لگانے سے حل ہوگا ۔ یوم آزادی ہند کے موقع پر وزیر اعظم کا لال قلعہ کی فصیل سے خطاب
نئی دہلی 15 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر اعظم نریندر مودی نے چین کے ساتھ ڈوکلم تنازعہ کے پس منظر میں کہا کہ ہندوستان کسی بھی طرح کے سکیوریٹی چیلنج سے نمٹنے کی اہلیت رکھتا ہے چاہے وہ سمندری ہو یا سرحدی ہو۔ چین یا دو ماہ سے جاری ڈوکلم تنازعہ کا راست نام لئے بغیر انہوں نے کہا کہ ملک کی سکیوریٹی ان کی حکومت کیلئے اولین ترجیح ہے اور سرحدات کی حفاظت کیلئے فوج کو متعین رکھا گیا ہے ۔ وزیر اعظم لال قلعہ کی فصیل سے یوم آزادی کے موقع پر قوم سے خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے لائین آف کنٹرول کے پار گذشتہ سال کئے گئے سرجیکل حملوں کا تذکرہ کیا اور کہا کہ دنیا نے ہندوستانی سکیوریٹی فورسیس کی طاقت کو سمجھ لیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ ہمارے ملک کی سکیوریٹی ہماری اولین ترجیح ہے ۔ داخلی سلامتی ہماری ترجیح ہے چاہے یہ سمندری ہو یا سرحدی ہو چاہے یہ سائبر سکیوریٹی ہو یا اسپیس سکیوریٹی ہو ہندوستان ہر سکیوریٹی چیلنج سے نمٹنے کی اہلیت رکھتا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری فوج ‘ بہادر سپاہیوں ‘ وردی میں ملبوس ہر اہلکار نے چاہے وہ فوج سے ہوں بحریہ سے ہوں یا ائرفورس سے ہوں ‘ کسی نے بھی ضرورت پڑنے پر قربانیاں پیش کرنے سے گریز نہیں کیا ہے ۔ یہ لوگ ہمیشہ ہی ملک کو درپیش کسی بھی چیلنج سے نبردآزما ہونے تیار رہتے ہیں۔

چاہے یہ بائیں بازو کی تخریب کاری ہو ‘ دہشت گردی ہو ‘ در اندازی ہو یا اندرون ملک گڑبڑ پیدا کرنے والے عناصر کی سرکوبی ہو ہمیشہ وردی والوں نے اپنی ذمہ داری نبھائی ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی یا دہشت گردوں کے تعلق سے کوئی نرم رویہ اختیار نہیں کیا جاتا اور ملک اس لعنت کو ختم کرنے کا عزم رکھتا ہے ۔ انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ ان کی حکومت نے دہشت گردوں کو قومی دھارے میں شامل ہونے کا موقع بھی دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں ہندوستان کو دوسرے ممالک کی تائید بھی حاصل ہو رہی ہے ۔ وزیر اعظم نے مذہب کے نام پر ہونے والے تشدد کی بھی مذمت کی اور کہا کہ مذہب کے نام پر تشدد قابل قبول نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ذات پات اور فرقہ پرستی ملک کیلئے زہر ہے ۔ ملک میں گاؤ دہشت گردوں کی جانب سے معصوم عوام کو قتل کرنے کے واقعات کے پس منظر میں یہ ریمارکس اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذہب کے نام پر تشدد قابل قبول نہیں ہے ۔ ہم آہنگی اور امن کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح جدوجہد آزادی کے دوران انگریزوں کے خلاف ہندوستان چھوڑو کا نعرہ دیا گیا تھا اسی طرح اب بھارت جوڑو کا نعرہ دیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے ذات پات اور فرقہ پرستی کو ملک کیلئے زہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے مسائل سے ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا ۔

وزیر اعظم نے مسئلہ کشمیر کا تذکرہ کیا اور کہا کہ گولیوں اور تنقیدوں سے مسئلہ کشمیر کو حل نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ مسئلہ ہر کشمیری کو گلے لگاتے ہوئے حل کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کشمیر کو ’ جنت ارضی ‘ کا مقام دلانے کے عہد کی پابند ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ نہ گالی سے یہ مسئلہ حل ہوگا اور نہ گولی سے ۔ ہر کشمیری کو گلے لگانے سے یہ مسئلہ حل ہوگا ‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ صرف مٹھی بھر علیحدگی پسند ریاست میںمسائل پیدا کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم نے آج ان خواتین کی بھی ستائش کی جنہوں نے تین طلاق کے خلاف جدوجہد کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جن خواتین نے تین طلاق کے خلاف جدوجہد کی ہے وہ ان کا احترام کرتے ہیں۔ اس جدوجہد میں سارا ملک ان کے ساتھ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی کے بعد بینکوں میں جمع 1.75 لاکھ کروڑ روپئے اور 18 لاکھ افراد پر جو معلنہ ذرائع سے زائد دولت رکھتے ہیں نظر رکھی گئی ہے ۔ اب یہ لوگ راڈار میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی کے بعد دو لاکھ کروڑ کی غیر معلنہ رقم بینک کھاتوں میں جمع کی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ نوٹ بندی کے بعد انکم ٹیکس داخل کرنے والوں کی تعداد بھی دوگنی ہوگئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT