Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / ہندوستان ہمہ مذہبی و لسانی تہذیب کا مرکز

ہندوستان ہمہ مذہبی و لسانی تہذیب کا مرکز

بیرون یونیورسٹیز کی حوصلہ افزائی سے خطرہ ، پروفیسر ہراگوپال
حیدرآباد ۔ 20 جولائی ( سیاست نیوز ) ممتاز سماجی جہدکار پروفیسر ہرا گوپال نے قومی سطح پر بیرونی تعلیمی اداروں کوپلیٹ فارم فراہم کرنے کا مرکزی حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ہمہ مذہبی اور لسانی تہذیب کا مرکز ہے مگر پچھلے چند سالوں سے نریندر مودی حکومت جدید تعلیمی نظام کے نام پر بیرونی یونیورسٹیز کو ملک میں فروغ دے رہی ہے ۔جس سے ہماری قدیم لسانی تہذیب کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ پروفیسر ہرا گوپال آج یہاں سندریا وگیان کیندرم میں سیو ایجوکیشن سوسائٹی کے زیراہتمام ’’ تعلیمی پالیسی برائے 2016کے عنوان پر منعقدہ گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو چاہئے کہ وہ نئے پیشہ وارانہ کورسس متعارف کرواتے ہوئے ملک کے نوجوانوں کی بے روزگاری کو دور کریں ۔ پروفیسر ہرا گوپال نے بیرونی یونیورسٹیز کے ہندوستان میں قیام کو کارپوریٹ شعبوں کے لئے فائدہ مند قراردیا اور کہاکہ اس سے معاشی طور پر پسماندگی کاشکار طبقات سے تعلق رکھنے والے بچوں کی تعلیمی مزید متاثر ہوگی ۔ ہرا گوپال نے بین الاقوامی تعلیمی معیار کے نام پر قومی اور ریاستی حکومتیں ہندوستان کے تعلیمی نظام کو زہرآلود بنانے کی کوششیں بھی کر رہی ہیں ۔ پروفیسر ہرا گوپال نے انڈین ایجوکیشن سروسیس کو ایک خود مختار ادارہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ مرکز میں نریندر مودی حکومت اقتدار میںآنے کے بعد سے مذکورہ ادارہ پر اپنا کنٹرول جمائے ہوئے ہے جس سے ملک کا تعلیمی نظام شدید متاثر ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سیو ایجوکیشن سوسائٹی تلنگانہ نے تعلیمی نظام میںدرکار اصلاحات پر مشتمل ایک رپورٹ تیار کی ہے جس کے مطابق مرکزی او رعلاقائی حکومتیںکو چاہئے کے منڈل سطح پر سرکاری تعلیمی نظام کو مضبوط کرتے ہوئے سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور لسانی تہذیب کے فروغ پر توجہہ مرکوز کریں ۔ انہوں نے کہاکہ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود نوجوانوں کی بڑھتی بے روزگاری کو ختم کرنے کے لئے حکومتوں کوچاہئے کہ وہ نئے پیشہ وارانہ کورسس متعارف کروائیں ۔ صدر سوسائٹی ڈی چکرا دھر رائو‘ ڈی لکشمہ ریڈی کے علاوہ مختلف تنظیموں کے ذمہ داران نے بھی اس کانفرنس میں شرکت کی ۔

TOPPOPULARRECENT