Wednesday , December 19 2018

ہندوستان 12 برس بعد ایشین گیمز کے فائنل میں داخل

خطابی مقابلے میں پاکستان سے ٹکراؤ ،ملائیشیا حریف ٹیم کے خلاف ناکام جنوبی کوریا کے خلاف قومی کھلاڑی اکشدیب سنگھ کا فیصلہ کن گول

خطابی مقابلے میں پاکستان سے ٹکراؤ ،ملائیشیا حریف ٹیم کے خلاف ناکام
جنوبی کوریا کے خلاف قومی کھلاڑی اکشدیب سنگھ کا فیصلہ کن گول
انچیان 30 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام)اکشدیب سنگھ کے فیصلہ کن گول کی بدولت ہندوستانی ہاکی ٹیم نے مرد زمرے کے فائنل میں اس وقت رسائی حاصل کرلی جب اس نے یہاں سیوناہک ہاکی اسٹیڈیم میں منعقدہ سیمی فائنل میںمیزبان جنوبی کوریا کو 1-0 سے شکست دی۔ اس طرح ہندوستان نے 12 برس بعد ایشین گیمز کے ہاکی فائنل میں رسائی حاصل کرلی ہے ۔ ابتدائی دو مرحلوں میں سبقت بنانے کے تین مواقع گنوانے کے بعد بالآخر 44 ویں منٹ میں اکشدیب کو ایک بہترین پاس ملا جس کو انہوں نے حریف گول کیپر میونگھولی سے آگے بڑھادیا ۔ ہندوستانی ہاکی ٹیم آخری مرتبہ 2002 بوسن گیمزمیں خطابی مقابلہ کھیلا تھا اور اب اس کا فائنل میں مقابلہ پاکستان سے ہوگا جس نے دوسرے سیمی فائنل میں ملائیشیا کو ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد پینالٹی شوٹس میں شکست دی۔ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان منعقدہ دوسرا سیمی فائنل مقررہ وقت تک بغیر کسی گول کے ختم ہوا جس کے بعد فاتح ٹیم کا نتیجہ حاصل کرنے کیلئے پینالٹی شوٹس دیئے گئے جہاں پاکستانی ٹیم نے گول بنانے کا ایک موقع ضائع کیا تو دوسری جانب پاکستانی گول کیپر نے ملائیشیا کے دو حملوں کو ناکام بناتے ہوئے ٹیم کی کامیابی میں کلیدی رول ادا کیا ۔ ایشین گیمز میں خطاب حاصل کرنے والی ٹیم کو 2016 ریو اولمپکس میں راست داخلے کا موقع مل جائے گا۔

ایشین گیمز میں ہندوستان نے کوریا کے خلاف 14 مقابلے کھیلے ہیں جس میں یہ اس کی 8 ویں کامیابی ہے جبکہ 2002 گیمز کے بعد پہلی مرتبہ اس نے فائنل میں رسائی حاصل کرلی ہے جبکہ گذشتہ مرتبہ خطابی مقابلہ میں اسے شکست برداشت کرنے کے بعد سلور میڈل پر اکتفاء کرنا پڑا تھا ۔ 2006 میں ایشین گیمز دوحہ میں منعقد ہوئے تھے جہاں وہ سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہیں کرپائی تھی جبکہ چار برس قبل ملائیشیا میں منعقدہ ایشین گیمز میں سیمی فائنل میں اسے ملائیشیا کے خلاف حیران کن شکست برداشت کرنی پڑی تھی۔ دریں اثناء جنوبی کوریا کے خلاف کھیلے گئے سیمی فانئل مقابلے کے 60 منٹوں پر مشتمل چاروں مرحلوں میں ہندوستانی ٹیم نے کافی بہترین مظاہرہ کیا ۔ دوسری جانب جنوبی کوریا نے مقابلے کے دوران شکست سے محفوظ رہنے کیلئے واپسی کی ہر ممکنہ کوشش کی لیکن وہ ہندوستانی دفاعی دائرے عبور کرنے میں ناکام رہی۔ مقابلے کے دوران جنوبی کوریائی کھلاڑیوں کو کوئی بھی گول بنانے کا موقع دستیاب نہیں ہوا ۔ ہندوستانی ٹیم نے اس مقابلے کیلئے بہترین حکمت عملی تیار کی تھی جس کا ٹیم کو فائدہ بھی ہوا ۔ علاوہ ازیں کپتان سردار سنگھ کی منصوبہ بندی میں بھی قومی ٹیم کے اٹیک شعبہ کو حریف ٹیم پر سبقت دلوائی جنہوں نے اپنے فارورڈر س کو چند بہترین پاسس دیئے ۔ ہندوستانی کھلاڑیوں کو مقابلے کے پہلے نصف مرحلے کے اختتام تک ہر ایک ٹیم پر 2-0 کی سبقت حاصل کرلینی چاہئے تھی لیکن دھرم ویر سنگھ کی غلطیوں نے اس سبقت کو یقینی نہیں بنایا ۔

TOPPOPULARRECENT