Monday , December 18 2017
Home / دنیا / ہندوپاک کشیدگی کیلئے مودی نہیں پاکستان کی پالیسیاں ذمہ دار : منیش تیواری

ہندوپاک کشیدگی کیلئے مودی نہیں پاکستان کی پالیسیاں ذمہ دار : منیش تیواری

26/11 ملزمین کو سخت سزائیں دی جائیں، ساؤتھ انڈیا اٹلانٹک کونسل سے خطاب
واشنگٹن ۔ 25 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کے سینئر قائد منیش تیواری نے آج پاکستان سے خواہش کی کہ وہ ہندوستان ک ے خلاف سردجنگ کیلئے وزیراعظم نریندر مودی پر الزام عائد کرنے کی بجائے خود اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے۔ پاکستان ہندوستان کو مشتعل کرنے کیلئے دہشت گرد گروپس کا استعمال کرتا آرہا ہے اور یہی وجہ ہیکہ آج ہندوپاک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوچکا ہے۔ساؤتھ انڈیا سنٹر آف دی اٹلانٹک کونسل کی جانب سے ترتیب دیئے گئے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے منیش تیواری نے کہا کہ ہندوپاک تعلقات میں خرابی 26/11 کے ممبئی حملوں کے بعد اپنے عروج پر پہنچ گئی اور اس کے بعد قطع نظر اس کے مرکز میں یو پی اے حکومت ہے یا بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت، پاکستان سے تعلقات بدستور ناخوشگوار ہی رہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوپاک کے درمیان امن بات چیت کو آگے بڑھانے کیلئے 26/11 کے ملزمین کو کیفرکردار تک پہنچانا نہ صرف حکومت کی ترجیحات میں شامل تھا بلکہ عوام میں بھی یہ احساس پایا جاتا تھا کہ ہندوپاک تعلقات اس وقت تک خوشگوار نہیں ہوسکتے جب پاکستان 26/11 کے ملزمین کو سزائیں نہیں دیتا۔ تیواری کا یہ بیان ایک ایسے وقت آرہا ہے جب کچھ عرصہ قبل وزیراعظم ہند نریندر مودی نے اچانک لاہور پہنچ کر وزیراعظم پاکستان نواز شریف کی نواسی کی شادی میں شرکت کی تھی۔ تاہم اس کے بعد دنیا نے دیکھا کہ پاکستان نے ہندوستان کے پٹھان کوٹ فوجی اڈے میں حملہ کردیا۔ اس کے بعد جب ہندوستان نے پاکستان سے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کو طلب کیا اور انہیں پٹھان کوٹ فوجی اڈے کے معائنہ کی بھی اجازت دی تاکہ یہ حقیقت سامنے آجائے کہ حملہ سرحد پار (پاکستان) سے کیا گیا تھا۔

تاہم حیرت انگیز اور مزے کی بات یہ رہی کہ پاکستان نے ثبوتوں کو اکٹھا کرنے کی بجائے پاکستان نے یہ کہہ کر یہ ایک مصنوعی کارروائی تھی جسے ہندوستان نے پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے خود انجام دیا تھا۔ لہٰذا نریندر مودی کو موردالزام ٹھہرانا کافی آسان ہے لیکن حقیقت یہ ہیکہ ہندوپاک کے درمیان نفرتوں کی جس چنگاری نے شعلوں کا روپ اختیار کرلیا تھا وہ ممبئی میں 26/11 دہشت گرد حملے تھے۔ منیش تیوارینے یہ کہہ کر دراصل پاکستانی قائد مشاہد حسین کے اس ریمارکس کی جانب اشارہ کیا تھا جو انہوں نے حال ہی میں کہا تھا کہ مودی کی دائیں بازو کی پالیسیاں ہندوپاک کے درمیان ناخوشگوار تعلقات کی وجہ ہیں۔ مشاہد حسین نے ہندوستان میں ہندوتوا پالیسیوں کا بھی تذکرہ کیا تھا جس سے ہندوستانی مسلمانوں کو تذبذب کا شکار کردیا ہے اور یہی وجہ ہیکہ ہندوپاک تعلقات میں بھی پیچیدگیاں پائی جاتی ہیں اور مسلمانوں کو اب تک ملک کی ہر ریاست میں خاطرخواہ نمائندگی ملی تھی لیکن اب نہیں ہے جس کی مثال یوپی کی آدتیہ ناتھ حکومت ہے جس میں پہلی بار کسی بھی مسلمان کو نمائندگی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ مشاہد حسین نے بھی ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ چین کے دیرینہ ون بیلٹ ون روڈ (OBOR) معاملہ پر اس خطہ میں فی الحال ہندوستان یکا و تنہا ہوگیا ہے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے وہ چین کو اس خطہ میں اپنے استحکام کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ جب بھی ایشیائی صدی کا تذکرہ ہوتا ہے تو ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ ہندوستان بھی اس وسیع تر قومی دھارے کا حصہ ہو۔ یاد رہیکہ ہندوپاک تعلقات کو معمول پرندے کی ماضی میں بھی کافی کوشش ہوتی رہی ہیں۔ کبھی کرکٹ ڈپلومیسی اور کبھی ٹرین اور بس ڈپلومیسی۔ ہندوپاک کے درمیان سمجھوتہ کی وجہ سے ہی سمجھوتہ ایکسپریس شروع کی گئی تھی جو آج بھی ہندوپاک کے بچھڑے ہوئے لوگوں کو ملانے میں بہت اہم رول ادا کررہی ہے۔ سابق ہندوستانی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے زمانے میں بھی دہلی سے لاہور بس سرویس کا آغاز کیا گیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT