ہندوپاک کو مسئلہ کشمیر بات چیت کے ذریعہ حل کرنا چاہئے : گوٹیرس

اقوام متحدہ ۔ 23 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیوگوٹیرس نے اس وقت تک مسئلہ کشمیر پر کسی بھی نوعیت کی ثالثی سے انکار کردیا ہے جب تک کہ تمام فریقین اس کیلئے راضی نہ ہوں۔ مزید برآں انہوں نے ہندوپاک سے یہ خواہش بھی کی ہیکہ وہ اپنے مسائل کو بات چیت کے ذریعہ حل کریں۔ سکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفائی ڈوجارک نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یوں تو اصولاً سکریٹری جنرل کا دفتر مسائل کا سامنا کرنے والے ہر ملک کیلئے کھلا ہے تاہم یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ کیا ہر ملک اپنے داخلی مسائل کے حل کیلئے اقوام متحدہ کی ثالثی کا خواہاں ہے یا نہیں۔ ہندوپاک کی سرحد پر دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے اور کشیدہ حالات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈوجارک نے کہا کہ ہم ان تمام واقعات سے باخبر ہیں اور خصوصی طور پر گذشتہ 10 دنوں سے ہم حالات پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ سکریٹری جنرل ہندوپاک معاملہ سے خود کو مربوط کرنا کیوں نہیں چاہتے تو انہوں نے جواب دیتے ہوئے ایک بار پھر وہی بات دہرائی کی اصولاً سکریٹری جنرل کے دروازے سے ہر ممالک کو درپیش مسائل کی یکسوئی کیلئے کھلے ہیں لیکن بعض وقت ایسا ہوتا ہیکہ فریق ممالک اپنے داخلی مسائل کی یکسوئی کیلئے اقوام متحدہ سے رجوع ہونا نہیں چاہتے۔ لہٰذا سکریٹری جنرل اس بات پر زائد زور دیتے ہیں کہ ہندوپاک کو اپنے مسائل (خصوصی طور پر مسئلہ کشمیر) کی یکسوئی باہم بات چیت کے ذریعہ حل کرنے چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT