Friday , November 16 2018
Home / عرب دنیا / ہندوپاک کے درمیان ایک اور جنگ کے خطرہ میں اضافہ : پاکستانی اخبار

ہندوپاک کے درمیان ایک اور جنگ کے خطرہ میں اضافہ : پاکستانی اخبار

اسلام آباد ۔ 15 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے ایک روزنامہ نے حالیہ دنوں میں ہندوستانی افواج کے سربراہ کے بیان کا سخت نوٹ لیا ہے جو پاکستانی اخبارات ہندوپاک درمیان کے جنگ ہونے کے امکانات کو شائع کرنے والی ایک خبر کے بعد بطور ردعمل سامنے آیا تھا۔ ہندوستانی افواج کے سربراہ نے کہا تھا کہ ہندوستانی افواج پاکستان کے ’’نیوکلیئر کے بھرم‘‘ کو توڑنے کیلئے کسی بھی وقت تیار ہے بشرطیکہ حکومت ہند کی جانب سے حکم جاری کیا جائے۔ ہم ہندوپاک کی کسی بھی سرحد پر آپریشن کا آغاز کرسکتے ہیں۔ نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال پوچھے جانے پر ہندوستانی افواج کے سربراہ بپن راوت نے یہ بات کہی تھی۔ ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا ہندوپاک کے درمیان مزید ایک اور جنگ کے امکانات ہیں؟ کیا پاکستان جنگ کی صورت میں اپنے نیوکلیئر ہتھیاروں کا استعمال کرسکتا ہے؟ یاد رہیکہ ہندوپاک سرحد پر حالات ہر گذرنے والے دن کے ساتھ بگڑتے جارہے ہیں۔ صرف واگھا سرحد ہی ایسی ہے جہاں دونوں ممالک کی چوکیاں ہیں اور وہاں ڈیوٹی پر تعینات پاکستانی اور ہندوستانی افواج کے خوشگوار تعلقات ہیں۔ دونوں ممالک کے اہم تہواروں کے موقع پر واگھا سرحد پر مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں لیکن بپن راوت کے بیان نے دونوں ممالک کی ایک مختلف تصویر ہی پیش کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کے ساتھ ٹکراؤ کی نوبت آئی اور حکومت ہند کی جانب سے ہمیں کوئی اہم ’’ذمہ داری‘‘ سونپی گئی تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم سرحد پار گھس کر پاکستان کو صرف اس لئے نہیں ماریں گے کہ اس کے پاس نیوکلیئر ہتھیار ہیں۔ ہمیں ان کے نیوکلیئر ’’ہوّا‘‘ کو بہرحال ختم کرنا ہوگا۔ انگریزی اخبار ڈان نے بھی اپنے اداریئے میں تحریر کیا ہے کہ ’’نیوکلیئر دھوکہ بازی‘’ کی جو اصطلاح استعمال کی گئی ہے اس نے ہر صحیح سوچ رکھنے والے اور حساس افراد کو ضرور سوچنے پر مجبورکیا ہوگا کہ آخر اس کا کیا مطلب ہے۔ فوجی سربراہ نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان کے خلاف ہندوستان کی فوجی حکمت عملی ہمیشہ کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرین سے مربوط رہی ہے اور یہی وجہ ہیکہ ہندوپاک کے درمیان ٹکراؤ کا ماحول بنتا جارہا ہے۔ اس ڈاکٹرین کے دریعہ فوج کی مختلف شاخوں کے ذریعہ ایک متحدہ گروپ کی شکل میں آپریشنس انجام دیئے جاتے ہیں۔ لہٰذا بین الاقوامی سرحد پار کرجانا بھی جنگ کی علامت ہے اور جنگ کی صورت میں پاکستان کے پاس ہندوستانی آپریشن کا جواب دینے کے علاوہ کوئی اور متبادل نہیں ہوگا۔ اداریئے میں یہ بھی کہا گیا ہیکہ کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرین کو ہندوستان کے ساتھ جنگ کیلئے ہی تیار کیا گیا ہے۔ یہ کوئی نئی بات بھی نہیں۔ ابتداء سے ہی کولڈ اسٹارٹ نے ہندوپاک کے درمیان نیوکلیئر جنگ کے خدشات کو برقرار رکھا ہے۔ ہندوستان کے پاس بھی نیوکلیئر ہتھیار ہیں لیکن برسوں تک اس نے ان کی موجودگی سے انکار کیا۔ لہٰذا جنرل راوت نے جو بھی بیان دیا ہے اس سے ہندوپاک کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کی شدت کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اخبار نے اداریئے میں مزید تحریر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں مماملک میں اس وقت جو سیاسی حالات پائے جاتے ہیں اس سے یہی ظاہر ہوتا ہیکہ دورخی تعلقات یا تو منجمد ہی رہیں گے یا پھر ان میں مزید بگاڑ پیدا ہوگا۔ لہٰذا یہ ان لوگوں کیلئے مایوس کن بات ہے جو ہندوپاک کے درمیان مستقبل قریب میں تعلقات میں بہتری کی توقع کررہے ہیں جو یقینا ایک المیہ ہے۔ دونوں ممالک کے عوام تو ہرگز نہیں چاہتے کہ ہندوپاک کے تعلقات خراب ہوں لیکن بھلا ہو سیاستدانوں کا اور سیاست کا جس نے حالیہ دنوں دونوں ممالک کے قومی سلامتی مشیران کی ملاقات کے بنکاک میں حالات پیدا کئے اور اس ملاقات سے تو یہی ظاہر ہوتا ہیکہ دونوں ممالک یہ بالکل نہیں چاہتے کہ ان کے درمیان مواصلاتی سلسلہ بالکل ٹھپ پڑجائے۔

TOPPOPULARRECENT