Thursday , July 19 2018
Home / Top Stories / ہندو لڑکی کا ریپ ہوتاتو ملک کا رد عمل کیا ہوتا‘سنجیو بھٹ

ہندو لڑکی کا ریپ ہوتاتو ملک کا رد عمل کیا ہوتا‘سنجیو بھٹ

کٹھوا عصمت ریزی مقدمہ
نئی دہلی 12 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) سابق آئی پی ایس عہدیدار سنجیو بھٹ نے کٹھوا عصمت ریزی کیس کے تعلق سے سوال کیا کہ اگر کسی ہندو لڑکی کی کسی مسجد میں عصمت ریزی کی جاتی تو ملک کا رد عمل کیا ہوتا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سوچنے کی بات ہے کہ اگر کسی ہندو لڑکی کا کسی مسجد میں ریپ ہوتا اور مجرمین مسلمان ہوتے تو ملک کا کیا رد عمل ہوتا ۔ سنجیو بھٹ 2002 کے گجرات مسلم کش فسادات میں نریندر مودی کے رول کے تعلق سے عدالتوں میں حلفنامہ داخل کرنے کیلئے بیھ شہرت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کل ٹوئیٹ کیا کہ اگر کٹھوا معاملہ میں صورتحال مختلف ہوتی اور کسی ہندو لڑکی کا اغوا کیا جاتا ‘ اس کا استحصال ہوتا اور اس کی عصمت ریزی کرکے کوئی مسلمان اسے قتل کردیتے اور مسجد میں پناہ حاصل کرلیتے تو کیا ملک کے عوام اور میڈیا کا رد عمل کیا ہوتا ؟ ۔ سنجیو بھٹ نے کہا کہ اس انتہائی سنگین جرم اور بہیمانہ واقعہ پر خاموشی اختیار کرنے والے تمام ہندو بھی اس میں برابر کے ذمہ دار ہیںکیونکہ یہ جرم ہندووں کے نام پر ہی کیا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ کٹھوا میں ایک آٹھ سالہ لڑکی کے اغوا ‘ عصمت ریزی اور قتل کا واقعہ جنوری میں پیش آیا تھا اور اس معصوم لڑکی کی نعش اس کے اغوا کے آٹھ دن بعد جنگل کے علاقہ میں دستیاب ہوئی تھی ۔ اس کو ایک مندر میں یرغمال رکھا گیا تھا اور کئی مرتبہ اس کی عصمت ریزی کی گئی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT