Tuesday , April 24 2018
Home / اداریہ / ہندو مسلم آبادی کا تنازعہ

ہندو مسلم آبادی کا تنازعہ

ان دونوں میں جھگڑا نہ تو ہے آج نہ کل تھا
ہم کو نظر آتا ہے سیاست کا کرشمہ
ہندو مسلم آبادی کا تنازعہ
ہندوستان میں ہر وقت کسی نہ کسی فرقہ وارانہ نوعیت کے مسائل کو ہوا دینے ایک عجیب فیشن بن گیا ہے ۔ ہر وقت کسی نہ کسی گوشے سے کوئی نہ کوئی فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والا شوشہ چھوڑا جاتا ہے اور پھر اصل اورترقی سے متعلق مسائل سے ساری توجہ ہٹ جاتی ہے اور لوگ ہندو مسلم تنازعات میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔ جس وقت سے ملک میں بی جے پی کا وجود عمل میں آیا تھا اس وقت سے یہ روایت چلی آ رہی ہے اور بی جے پی کے استحکام کے ساتھ یہ روایت اور بھی تقویت پاتی جا رہی ہے ۔ جب کبھی ملک میں یا ملک کی کسی ریاست میں انتخابات کا وقت ہوتا ہے اس وقت بھی ہندو مسلم مسائل کو ہوا دی جاتی ہے اور پھر انتخابات میںا س کا فائدہ حاصل کرنے کی کوششیں تیز ہوجاتی ہیں بلکہ یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ ان مسائل کو محض انتخابات میںفائدہ حاصل کرنے کیلئے ہی ہوا دی جاتی ہے ۔ اب بی جے پی کے تقریبا تمام قائدین فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے میں ایک دوسرے سے سبقت لیجانے کی کوشش کرنے لگے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی کے قائدین میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے مسئلہ پر مقابلہ ہو رہا ہے اور ہر کوئی زیادہ سے زیادہ منافرت پھیلاتے ہوئے آر ایس ایس کی نظروں میں زیادہ پسندیدہ بننے کی کوششوں میں مصروف ہوگیا ہے ۔ پارٹی قائدین مرکزی وزارت ‘ لوک سبھا کی رکنیت یا اسمبلی کی رکنیت رکھنے کے باوجود اپنی دستوری اور قومی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی بجائے ایک الگ ہی ایجنڈہ کو ہوا دینے میں یقین رکھتے ہیں اور اسی پرعمل بھی کرتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ دینے والی حکومت بھی ان عناصر سے ایسا لگتا ہے کہ نظریں پھیر چکی ہے اور انہیں بالواسطہ تائید و حمایت فراہم کرتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی ہی میں یقین رکھتی ہے ۔ بی جے پی کے جو قائدین ملک میں امن و سکون کو متاثر کرنے کے در پہ ہیں اور سماج میں نراج کی اور بے چینی کی کیفیت پیدا کرنے پر تلے ہوئے ہیں انہیں روکنے کیلئے کچھ بھی نہیں کیا جا رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آئے دن نت نئے مسائل پیدا کئے جا رہے ہیں۔ اب ایک نیا مسئلہ ملک میں مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ کا چھیڑا جا رہا ہے ۔ اس پر بھی نفرت کی سیاست کی جا رہی ہے ۔
مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے یہ مسئلہ حالیہ دنوں میں زیادہ شدت سے اٹھانے کی کوشش کی ہے ۔ ان کی نظر میں مسئلہ ملک کی آبادی کا نہیں بلکہ ہندو آبادی اور مسلم آبادی کا ہوگیا ہے ۔ وہ ہندو نوجوانوں کو آبادی میں اضافہ کے مسئلہ پر اشتعال دلا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلم آبادی میں اضافہ کی وجہ سے ہندو نوجوانوں کو ترقی کے ثمرات میں زیادہ حصہ نہیں مل رہا ہے ۔ یہ سوچ انتہائی منفی اور نامناسب ہے ۔ یہ ملک کو متحد کرنے والی سوچ نہیں ہے بلکہ یہ نراج اور نفاق پیدا کرنے والی سوچ ہے اور زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ گری راج سنگھ مرکزی وزارت پر فائز رہتے ہوئے ایسے ٹوئیٹس کر رہے ہیں اور نریندر مودی حکومت خاموشی اختیار کی ہوئی ہے ۔ اسی طرح راجستھان میں بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی کا کہنا ہے کہ ملک میں ہندو ایک یا دو بچے پیدا کرتے ہیں ۔ اس پر انہیں بچوں کی تعلیم اور پرورش کی فکر ہوتی ہے جبکہ مسلمان زیادہ بچے پیدا کرتے ہوئے اس ملک پر اپنا تسلط مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سوچ بھی انتہائی افسوسناک ہے ۔ آج جو لوگ مسلمانوں کے خلاف تنقیدیں کر رہے ہیں اور زہر اگل رہے ہیں وہ اس ملک پر مسلمانوں کی حکمرانی کے ماضی کو نظر انداز نہیں کرسکتے ۔ صدیوں تک مسلمانوں نے حکومت کی ہے اور ملک کے کونے کونے میں مسلمانوں کی حکمرانی کی نشانیاںپوری آب و تاب کے ساتھ آج بھی موجود ہیں۔ ایسے میں ان کے تعلق سے زہر افشانی کرنا انتہائی مذموم عمل ہے اور طرح کے بیانات دینے والوں کی اوچھی ‘ بیہودہ اور منفی سوچ ملک کے مفاد میں ہرگز نہیں ہوسکتی ۔
ملک کے دستوری عہدوں پر فائز رہنے اور قانون سازی میں حصہ دار بننے کے باوجود دستور کی عملا ہتک کرنا اور اس کے مغائر کام کرنا ایک ایسا افسوسناک پہلو ہے جو اب ہندوستان میں عام ہوتا جارہا ہے ۔ اب تو دستور کو تبدیل کرنے کی بات تک ہو رہی ہے ۔ حیرت ہے کہ یہ بھی دستور کے نام پر حلف لے کر مرکزی وزیر بننے والے اننت کمار ہیگڈے ہی کر رہے ہیںاور اس پر بھی ملک کے وزیر اعظم خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ وہ صرف اپنی دنیا میں مگن ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت ہی ایسے عناصر کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے تاکہ ایک طرف عوام کو بنیادی مسائل پر توجہ دینے کا موقع نہ مل سکے اور دوسری طرف فرقہ پرستوں کے ذریعہ ماحول کو پراگندہ کرتے ہوئے سنگھ پریوار کے عزائم اور ایجنڈہ کو پورا کیا جاسکے ۔ اس صورتحال کا ازالہ ضروری اور ملک کے مستقبل کے تعلق سے فکرمند سبھی گوشوں کو اس میں اپنا رول ادا کرنا ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT