Monday , July 23 2018
Home / مضامین / ہندو مسلم شادیاں محبت نہیں نفرت بڑھاتی ہیں

ہندو مسلم شادیاں محبت نہیں نفرت بڑھاتی ہیں

محمد مصطفی علی سروری
انکت سکسینہ (23) سال کا ایک ہندو لڑکا تھا جو دہلی میں فوٹو گرافی کا کام کرتا تھا۔ انکت گزشتہ دو برسوں سے شہزادی نام کی ایک 20 سالہ لڑکی کے ساتھ عشق کر رہا تھا جو مسلمان تھی ۔ شہزادی کے والد قصاب ہیں اور شہزادی ڈگری کے ایک کالج میں سکنڈ ایئر کی اسٹوڈنٹ ہے۔ یکم فروری 2018 ء کو جب شام تک بھی شہزادی گھر نہیں لوٹی تو شہزادی کی ماں اپنے شوہر اور 14 سال کے بیٹے کے ساتھ انکت کے پاس پہونچ کر پہلے تو اس کو مار پیٹ کا نشانہ بناتے ہیں پھر شہزادی کا باپ انکت کا گلہ کاٹ کر اس کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔ پولیس کے حوالے سے دہلی کے اخبار ہندوستان ٹائمز نے لکھا ہے کہ جس وقت انکت کواس کے گھر کے پاس قتل کیا گیا اس وقت شہزادی ٹیگور گارڈن کے میٹرو اسٹیشن پر انکت کا ہی انتظار کر رہی تھی ۔ اپنے عاشق انکت کے قتل کردیئے جانے کی اطلاع ملنے کے بعد سے شہزادی کیالا پولیس اسٹیشن میں ہے ، خود اس کے رشتہ دار اس کو اپنے ساتھ لے جانے تیار نہیں ۔ ہندوستان ٹائمز اخبار نے اطلاع دی کہ 20 سالہ شہزادی بیگم کے والدین کا تعلق اترپردیش کے ضلع گورکھپور سے ہے اوراس کے والد تو قصائی ہیں مگر اسکے رشتے دار اسی کے ہی محلے میں ایک بیوٹی پارلر چلاتے ہیں ۔ انکت کو قتل کردیئے جانے کے بعد بجرنگ دل والوں نے اس بیوٹی پارلر کو بند کروادیا اور مالک مکان کو دھمکی دی کہ وہ کیسے ایک مسلمان کو اپنی جگہ کرایہ پر دے سکتے ہیں۔
قارئین کرام یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب بین مذہبی شادی کے سوال پر اس طرح کی ہندو مسلم کشیدگی پیدا ہوئی ہو ، خود اترپردیش میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے سے پہلے مظفر نگر کے فسادات ہوئے تھے۔ ان فسادات کا سبب بھی ایک بین مذہبی شادی کا سوال تھا کہ ایک مسلمان لڑکا ہندو لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا ۔ ریاست کیرالا میں بھی پچھلے کچھ عرصہ کے دوران بی جے پی کو سیاست کرنے کا موقع اگر ملا تو اس کیلئے ہادیہ کا مسئلہ ذمہ دار ہے ۔ اب دارالحکومت دہلی سے یہ خبر آئی ہے کہ شہزادی کے والد نے اپنی لڑکی کے ساتھ ہندو لڑ کے کی شادی رکوانے کیلئے اس کا قتل کردیا اور ایک بار پھر سے یہ موضوع (Hot Cake) کی طرح پورے میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ انکت اور شہزادی کے مسئلہ کا تجزیہ کریں تو پتہ چلے گا مسلمان والدین سے اولاد کی تربیت میں بڑی چوک ہورہی ہے ۔ شہزادی کے والد کی معاشی حالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ ایک قصاب ہیں ۔ دوسرا سوال انہوں نے خود کتنی تعلیم حاصل کی نہیں معلوم لیکن انہوں نے یہ ضروری سمجھا کہ ان کی لڑکی کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شہزادی کے متعلق بتلایا گیا کہ وہ ڈگری سکنڈ ایئر کی اسٹوڈنٹ ہے، جو لوگ لڑکیوں کی عصری اور اعلیٰ تعلیم کے مخالف ہیں، ان کو تو بہانہ ہی چاہئے کہ دیکھو شہزادی ڈگری سکنڈ ایئر کی اسٹوڈنٹ اور اخبارات نے بھی لکھا ہے کہ انکت سکسینہ کے ساتھ وہ دو سال سے ہی Dating کر رہی تھی جب لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم کے لئے گھر سے باہر کالج بھیجا جاتا تو وہ لڑکوں کے ساتھ گھومتے ہیں اور غیر مسلموں کے ساتھ دوستی بڑھاتے ہیں۔ خیر سے جب ہم شہزادی بیگم کے والدین کے حوالے سے غور کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ میڈیا کو دو گھنٹوں میں پتہ چل جاتا ہے کہ مقتول انکت سکسینہ کا شہزادی نام کی ایک مسلم لڑکی کے ساتھ عشق چل رہا تھا اور ان دونوں کے عشق کی کہانی دو سال پرانی ہے اور والدین دو برسوں کے دوران یہ بھی نہیں جان سکے کہ ان کی لڑکی کالج کی تعلیم کیلئے دو برسوں سے گھر سے باہر جارہی ہے تو تعلیم کے علاوہ اس نے ہندو لڑکے سے دوستی بھی کرلی ہے اور آگے چل کر شادی کرنا چاہتی ہے۔ انکت کو قتل کر کے شہزادی کے والدین اور نابالغ بھائی نے نہ تو خود کچھ حاصل کیا اور نہ کسی کو سکون ملا۔ قتل کی اس واردات کے بعد علاقے میں دو فرقوں میں کشیدگی بڑھ گئی ۔ ہندو مسلم شکوک و شبہات میں اضافہ ہوگیا جبکہ شہزادی کے ماں باپ کو پولیس نے گرفتار کر کے جیل بھیج دیا اور چھوٹا بھائی نابالغ تھا تو اس کو بچوں کی جیل بھیج دیا گیا۔ انکت سکسینہ کا قتل نہ تو صحیح تھا اور نہ ہی مسلم لڑکی کی ہندو لڑ کے کے ساتھ شادی رکوانے کا کوئی حل ؟ ایک اکیلا واقعہ نہیں ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی واقعہ سامنے آرہا ہے۔ 4 فروری 2018 ء کو اخبار انڈین اکسپریس نے اقبال چودھری نام کے ایک 28 سال کے مسلمان کی کہانی کو شائع کیا ۔ اقبال چودھری ممبئی کا رہنے والا ہے ، اس نے کیرالا کی رہنے والی ایک ہندو لڑکی کے ساتھ فیس بک (Face Book) پر پہلے تو دوستی کی اور پھر دونوں نے بھاگ کر شادی کرلی ۔ شادی سے پہلے اس ہندو لڑکی نے اسلام قبول کرلیا اور اپنا نام ریشماں رکھا ۔ جولائی 2016 ء میں ریشماں نے اپنا گھر چھوڑ دیا اور اقبال کے ساتھ شادی کر کے رہنے لگی لیکن ڈسمبر 2017 ء میں ریشماں کا نوی ممبئی سے اغواء کرلیا گیا ۔ تب اقبال نے ممبئی ہائی کورٹ میں درخواست داخل کی اور اپنی بیوی ریشماں کو اس کے والدین کی غیر قانونی حراست سے رہا کروانے کی اپیل کی۔ ہائیکورٹ کی اس درخواست کے جواب میں 22 جنوری کو ریشماں نے کورٹ میں حاضری دی اور عدالت کو بتلایا کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے والدین کے گھر گئی ہے اور بہت جلد وہ اپنے سسرال گھر کو واپس چلی جائے گی۔
اخبار انڈین اکسپریس کے مطابق اقبال چودھری کی ماں سعید النساء چودھری کی عمر 56 برس ہے ۔ ان کے چھ لڑ کے اور چار لڑکیاں ہیں۔ انہوں نے اخبار کو بتلایا کہ جب ان کے چوتھے لڑکے اقبال نے ایک ہندو لڑکی کو بھگاکر گھر لایا تب ہی انہوں نے لڑکی کو کہہ دیا تھا ، تم اپنے والدین کے پاس واپس چلی جاؤ لیکن لڑکی نے جواب دیا کہ وہ ان کے لڑکے اقبال سے پیار کرتی ہے اور اس کے بغیر نہیں رہ سکتی ہے۔ اقبال نے بھی اپنی ماں سے کہہ دیا کہ اگر وہ شادی کرے گا تو صرف اس لڑکی سے ورنہ شادی ہی نہیں کرے گا ۔ سعید النساء کے مطابق ایسی حالت میں انہوں نے مجبوراً اس شادی کیلئے ہاں کی ۔ 14 جولائی 2016 ء کو قبول اسلام کے بعد ریشماں نے اقبال سے شادی کرلی لیکن جب ریشماں کے گھر والوں نے اس کا اغواء کرلیا تو اب اقبال اپنی بیوی کی واپسی کیلئے انتظار کر رہا ہے اور عدالت کے چکر کاٹ رہا ہے ۔ یہ تو اخبار انڈین اکسپریس کی ایک رپورٹ تھی ۔ 5 فروری 2018 ء کو دہلی کے ہی ایک مشہور انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمز نے Ankit Saxena Murder: other inter faith couples happily married in the delhi locality کی سرخی کے تحت ایک چشم کشا رپورٹ شائع کی ۔ اخبار کا رپورٹر اپنی رپورٹ میں لکھتا ہے ، دہلی کے جس علاقے میں ایک ہندو لڑکے کا مسلم لڑکی کے ساتھ عشق کرنے پر قتل کردیا گیا ، اس علاقے میں ہندو مسلم شادیوں کی کامیاب مثالیں موجود ہیں اور تو اور دہلی کے جس علاقے میں شہز ادی نام کی لڑ کی رہتی تھی بالکل اس کے گھر کے سامنے ہی ایک ہندو مسلم میاں بیوی رہتے تھے ۔ تفصیلات کے مطابق شہزادی کے گھر کے سامنے ایک دوسری مسلم خاتون فرح شیخ رہتی ہے۔ فرح شیخ نے سال 2009 ء میں وکاس نام کے ایک (DJ) ڈسک جاکی سے شادی کرلی تھی ۔ فرح نے ہندوستان ٹائمز کے رپورٹر کوبتلایا کہ شہزادی کا گھر بالکل ہمارے گھر کے سا منے تھا اور جب بھی شہزادی کے ماں باپ مجھے دیکھتے تو کہتے تھے کہ میں نے ایک ہندو سے شادی کر کے بڑی غلطی کی ہے اور کہتے تھے کہ ’’تم اپنے شوہر کے مذہب پر کیوں چلتی ہو، تمہیں تو اپنے مذہب پر چلنا چاہئے۔ فرح نے بتلایا کہ وہ بچپن میں ہی یتیم ہوگئی تھی اور بڑی ہوکر جب اس نے ہندو سے شادی کرلی تو شروع میں ایک مہینے تک مسائل رہے، پھر سب کچھ سدھر گیا، ہم دونوں مذاہب کے تہوار مناتے تھے ، ہمارے گھر میں مندر بھی ہے اور اسلامی تصاویر بھی۔
دہلی کے رگھوبیر علاقے میں ایک اور ہندو مسلم شادی کی مثال اخبار نے دیتے ہوئے لکھا ہے کہ جتن گابا ہندو ہے اور شادیوں میں فوٹو گرافی کا کام کرتا ہے ۔ سال 2010 ء میں اس نے ایک مسلم لڑ کی نگار فاطمہ سے شادی کرلی۔ جتن گابا کی ماں نے ہندوستان ٹائمز کو بتلایا کہ جب میرے لڑکے نے مسلم لڑکی کو بھگا کر شادی کرلی تو لڑکی کے رشتہ دار لوہے کی سلاخوں اور لاٹھیوں سے لیس ہوکر ہمارے گھر پر آئے تھے لیکن میرا لڑکا لڑکی کو لیکر روپوش ہوگیا تھا۔ چھ مہینوں تک چھپ چھپ کر رہنے کے بعد اب دونوں ہنسی خوشی زندگی گزار رہے ہیں ۔ میری بہو مجھ سے ملنے آتی رہتی ہے اور میرا لڑکا اپنے ساس سسر سے ملنے جاتا ہے ۔ ہر خاندان میں اس طرح کی شادیوں کی پہلے تو مخالفت ہوتی ہے پھر سب کچھ نارمل ہوجاتا ہے۔ یہ تو دہلی کے اس علاقے سے آنے والی خبریں ہیں جہاں پر شہزادی رہتی ہے ۔ خبروں میں شہزادی کے والدین کے حوالے سے مزید لکھا تھا کہ تین برس قبل بھی اس کے ماں باپ نے اظہر نام کے ایک نوجوان کی خوب جم کر پٹائی کی تھی ، اس پر شک تھا کہ وہ ان کی لڑکی شہزادی پر بری نظر رکھ رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہندو مسلم شادیاں کبھی بھی دونوں مذاہب کے درمیان ہم آہنگی پیدا نہیں کرسکی۔ ہاں ایسی ہر دوسری شادی کے بعد دونوں مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان دوریاں اور غلط فہمیاں بڑھتی ہی گئی ہیں۔ جب مسلمان ہادیہ اور ریشماں کے قبول اسلام کی خوشیاں مناسکتے ہیں کہ وکاس اور جتن گابا کی بھی تعریف کرنے والے لوگوں کی کمی نہیں ہوگی تو جو ہندو لڑکوں کی مسلمان لڑکیوں سے شادی کا جشن منانا پسند کرتے ہیں۔ قارئین اکرام جذبات سے نہیں ٹھنڈے دماغ سے کام لیجئے گا۔ شہزادی کے والدین بھی تو مسلمان ہیں۔ انہوں نے کیا غلطی کی ؟ ان کی غلطی یہی تو تھی کہ پہلے اظہر نام کے لڑکے کو خوب مارپیٹ کی اس پر شک تھا کہ وہ ان کی لڑ کی شہزادی پر بری نظر ڈال رہا ہے۔ تین سال بعد شہزادی کے والدین نے کیا کیا ؟ پھر سے ایک نو جوان کو گلہ کاٹ کر موت کے گھاٹ اتار ڈالا کیونکہ اس مرتبہ یہ نوجوان مسلمان نہیں ہندو تھا اور وہ ان کی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا ۔
بحیثیت مجموعی مسلمانوں کی نفسیاتی کیفیت بھی تو شہز ادی کے والدین کی سی ہے ، اپنے گھر میں اپنی بچی کیا کر رہی ہے ۔ کوئی خبر نہیں پڑوس میں رہنے والی فرح شیخ پر طعنے کسنے اور تنقید کرنے سے تو بہتر تھا کہ اپنی لڑکی کو تربیت دیتے ؟ وہ کسی غیر مسلم کے ساتھ شادی نہ کرے ؟ انکت سکسینہ پر شہزادی کو بھگانے کے الزام میں چاقو چلانے سے پہلے یہ سوچ لیتے کہ شہزادی تو ان کی لڑ کی ہے ، وہ کیوں گھر سے کالج جانے کے نام پر انکت کے ساتھ جانے تیار ہوگئی ؟
اللہ رب العزت ہم سبھوں کو دوسروں پر تنقید سے پہلے اپنا خود کا احتساب کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں نیکی کے راستے پر چلنے میں مدد فرمائے اور اس کام میں استقامت عطا کرے۔ (آمین)
[email protected]

TOPPOPULARRECENT