Thursday , September 20 2018
Home / Top Stories / ہندو مسلم میں نفرت پیدا کرنے کیلئے وسیم رضوی کا استعمال

ہندو مسلم میں نفرت پیدا کرنے کیلئے وسیم رضوی کا استعمال

یوپی شیعہ وقف بورڈ صدرنشین کو جمعیتہ العلماء کا 20 کروڑ روپئے کے ہرجانہ کی قانونی نوٹس

نئی دہلی۔ 16 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) یوپی شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی کو قانونی نوٹس بھیج دیاگیا ہے۔جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) نے نوٹس کے ذریعہ 20 کروڑ روپیے ہرجانے کا دعویٰ کرنے کیساتھ وسیم رضوی سے ملک بھر کے مسلمانوں سے معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا ہے تاکہ ان کے ان دو خطوں سے جو انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو بھیجے ہیں، اور جن کے ذریعہ مدرسوں پر دہشت گردی کی تعلیم دینے کا الزام عائد کرکے انہیں بند کرنیکا مطالبہ کیا ہے، عام مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو پہنچنے والی ٹھیس کا مداوا ہوسکے۔ وسیم رضوی کو اس ملک میں مسلمانوں اور ہندوئوں کے درمیان نفرت کی وسیع خلیج حائل کرنے کیلئے استعمال کیاجارہا ہے اور اب لوگوں سے یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں رہ گئی ہے کہ ایک جانب سنگھ پریوار وسیم رضوی کی آڑ میں مسلمانوں کو مسلکی بنیادوں پر لڑانے کی سازشیں کررہا ہے اور دوسری جانب مدرسوں کو دہشت گردی کے اڈے ثابت کرنے کیلئے ان کا اس طرح استعمال کررہا ہے کہ برادران وطن کے دلوں میں مدرسوں کے لیے واقعی شکوک وشبہات پیدا ہوں اور وہ وسیم رضوی کے الزام کو سچ مان کر سنگھ پریوار کی ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کی تمنا کے برآنے کا سبب بن جائیں۔ اور یہ سچائی بھی اب کوئی ڈھکی چھپی نہیں رہ گئی ہے کہ وسیم رضوی بھی بی جے پی اور سنگھی ٹولے کو اپنے مفادات کی بقا کیلئے استعمال کررہے ہیں۔ ان پر شیعہ وقف املاک کی لوٹ مار کا الزام ہے۔ الزام ہے کہ انہوں نے خورد برد کرکے کروڑوں روپئے کمائے ہیں۔ ان کی سی بی آئی انکوائری کا اعلان بھی ہوا تھا لیکن اب جب سنگھ پریوار اور بی جے پی انہیں اپنے مفادات کے فروغ کیلئے اور وہ سنگھی ٹولے کو اپنے مفادات کے فروغ کیلئے استعمال کررہے ہیں تو کہاں کی سی بی آئی انکوائری اور کیسی پولس کارروائی! ان کیلئے معاملہ ’سیاں بھئے کوتوال تو اب ڈر کا ہیکا‘ کے مصدا ق ہے۔ ان کا مدرسوں میں دہشت گردی کی تعلیم دینے کا الزام بے حد گھنائونا اور قابل ملامت ہے اور اس کی جس قدر بھی مذمت کی جائے کم ہے، لیکن جہاں معاملہ پیٹھ پر حکومت کے ہا تھ کا ہو وہاں نہ مذمت سے کام چلتا ہے اور نہ ہی لعنت وملامت اور سڑکوں پر احتجاج اور مظاہروں سے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ سرکار اپنے چند مہروں کو سامنے کرکے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT