Monday , November 20 2017
Home / ہندوستان / ہندو معاشرہ میں ذات پات کی لعنت سے پریشان عناصر کی مسلمانوں پر توجہ

ہندو معاشرہ میں ذات پات کی لعنت سے پریشان عناصر کی مسلمانوں پر توجہ

ممبئی کی حاجی علیؒ درگاہ میں خواتین کے داخلہ کا مطالبہ ، مسلم معاشرہ کو ذات پات میں بانٹنے کی بھیانک سازش
حیدرآباد ۔ 22 ۔ اپریل : ( سیاست ڈاٹ کام ) : ہندوستان میں درگاہوں اور اولیاء اللہ کے آستانوں و خانقاہوں پر بلا لحاظ مذہب لوگ حاضر ہو کر روحانی فیوض و برکات حاصل کرتے ہیں ۔ ایک طرح سے یہ درگاہیں ملک میں قومی یکجہتی کی بہترین مثالیں ہیں لیکن حالیہ عرصہ کے دوران دیکھا گیا ہے کہ بعض فرقہ پرست طاقتیں خود کو قوم پرست قرار دے کر ہندوستان کی اس گنگا جمنی تہذیب کو متاثر کرنے میں مصروف ہوگئیں ہیں ۔ اس کے باوجود مرکز کی نریندر مودی حکومت مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے ۔ جہاں تک ہندوستان میں اولیاء اللہ سے محبت اور عقیدت کا سوال ہے ہندوستان میں کہا جاتا ہے کہ خواجہ غریب نوازؒ بلالحاظ مذہب و ملت ہندوستانیوں کے قلوب پر راج کرتے ہیں ۔ فرقہ پرستوں کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ اللہ کے محبوب بندے کبھی اقتدار کی چوکھٹ پر نہیں جاتے بلکہ حکمراں ان کے در پر آنے کے لیے مجبور ہوجاتے ہیں ۔ آج کل فرقہ پرستوں نے اولیاء اللہ سے غیر مسلموں کی عقیدت و محبت کو دیکھتے ہوئے ایک نئی سازش تیار کی ہے ۔ جس کے ذریعہ ہندوؤں کو یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ ہندو ، مسلم بزرگوں سے متاثر ہو کر اپنا مذہب بھی ترک کرنے لگے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے ۔ درگاہوں اور خانقاہوں میں جو بھی آتے ہیں انہیں سکون قلب حاصل ہوتا ہے اور آج ساری دنیا سکون کی تلاش میں سرگرداں ہیں ۔ قارئین … آج کل بھومتا رنگ راگنی بریگیڈ اور اس کی سربراہ تروپتی دیسائی کے کافی چرچے ہیں یہ بریگیڈ دراصل مندروں میں خواتین کے داخلوں کو یقینی بنانے مہم چلا رہی ہے اس نے اپنی سرگرمیوں کو وسعت دینے اور خود کو ملک کی ایک ممتاز غیر سرکاری تنظیم میں تبدیل کرنے کے لیے درگاہوں میں مسلم خواتین کے داخلے کو یقینی بنانے کی فکر میں لگی ہوئی ہیں ۔

 

حالانکہ مسلم عورتوں کو اس معاملہ میں کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے اور نہ ہی کبھی مسلم خواتین نے ترپتی دیسائی جیسی جہدکاروں سے مدد طلب کی ہے ۔ بن بلائے مہمان کی طرح ترپتی دیسائی ممبئی کی درگاہ حضرت حاجی علیؒ میں مسلم خواتین کو داخل ہونے کی اجازت دینے کا مطالبہ کررہی ہیں ۔ ترپتی دیسائی اور ان کی بھومتا رن رانگی بریگیڈ دراصل اس سازش کا حصہ ہے جو ذات پات اونچ نیچ ادنیٰ اعلیٰ میں بٹے ہوئے ہندو معاشرہ میں پائی جانے والی برائیوں کو چھپانے کے لیے رچی گئی ہے چونکہ ہندو خواتین کو بعض مندروں میں داخلہ کی اجازت نہیں ، ایسے میں وہ اس مسئلہ سے توجہ ہٹانے کے لیے ملک کی مشہور درگاہوں میں خواتین کے داخلہ پر زور دے رہی ہیں حالانکہ درگاہوں آستانوں اور خانقاہوں میں کسی قسم کا صنفی امتیاز نہیں برتا جاتا وہاں تو ہر مصیبت زدہ کی رسائی ہوسکتی ہے ۔ اس کے برعکس ہندوستان کی زندگی کے ہر شعبہ میں غیر معمولی ترقی کے باوجود آج بھی کئی مقامات پر مندروں میں دلتوں کو داخل ہونے نہیں دیا جاتا ۔ حال تو یہ ہے کہ اگر کوئی دلت کسی اعلیٰ ذات کے ہندو کے کتے کو بھی چھولیتا ہے تو اس غریب دلت کے ہاتھ کاٹ دئیے جاتے ہیں ۔ ترپتی دیسائی کو دلتوں کو انصاف دلانے کی بجائے مسلمانوں کے معاملت میں مداخلت سے گریز کرنا چاہئے اگر ان میں کچھ کرنے کا جذبہ اور جوش موجود ہو تو وہ ان دلتوں کو ہندو معاشرہ میں مساوی مقام دلاسکتی جن کے مندر میں داخل ہونے پر ساری مندر کو دودھ سے پاک کیا جاتا ہے ۔ کسی دلت کے بورویل ، نل یا باولی سے پانی لینے پر اسے پاک کرنے کے لیے خصوصی پوجا کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ دلت کے کھانے پکانے پر اعلیٰ ذات کے طلبہ بھوکا رہنا پسند کرتے ہیں ۔ کوئی دلت گھوڑے پر سوار ہو کر بارات نکالتا ہے تو اسے حملہ کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔۔ ( سلسلہ جاری ہے )

TOPPOPULARRECENT