Wednesday , June 20 2018
Home / پاکستان / ہندو مندر بحال کرنے پاکستان سپریم کورٹ کی ہدایت

ہندو مندر بحال کرنے پاکستان سپریم کورٹ کی ہدایت

اسلام آباد ۔ 17 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کی سپریم کورٹ نے خیبرپختونخواہ حکومت کو ہدایت کی ہیکہ ایک ہندو مندر کو محال کیا جائے اور اس میں درکار تعمیراتی کام بھی کروائے جائیں۔ یاد رہے کہ 1997ء میں اس مندر کو منہدم کرکے ایک امام صاحب اس پر قابض تھے۔ پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست اعلیٰ اور قانون ساز ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے عدالت سے

اسلام آباد ۔ 17 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کی سپریم کورٹ نے خیبرپختونخواہ حکومت کو ہدایت کی ہیکہ ایک ہندو مندر کو محال کیا جائے اور اس میں درکار تعمیراتی کام بھی کروائے جائیں۔ یاد رہے کہ 1997ء میں اس مندر کو منہدم کرکے ایک امام صاحب اس پر قابض تھے۔ پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست اعلیٰ اور قانون ساز ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے عدالت سے رجوع ہوکر یہ خواہش کی تھی کہ ہندو منادر کے انہدام کا سلسلہ رکوایا جائے، جس میں شری پرم ہنساجی مہاراج کی سمادھی والے مندر پر قبضہ کی برخاستگی بھی شامل ہے جو موضع تیری میں واقع ہے۔ وانکوانی نے کہا کہ صوبائی چیف سکریٹری، انسپکٹر جنرل آف پولیس اور مقامی کمشنر نے انہیں بتایا کہ جس کے نام پر مندر تعمیر کروایا گیا تھا، اس نے اسلام مذہب اختیار کرلیا تھا۔ دوسری طرف ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل وقاراحمد نے دو ججس پر مشتمل سپریم کورٹ کی ایک بنچ جس کی قیادت جسٹس نصرالملک کرتے ہیں، کو بتایاکہ اس متنازعہ معاملہ کی باہمی رضامندی سے یکسوئی کی کوشش جاری ہیں۔ کل مختلف بیانات اور جرح کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے صوبائی حکومت کو کرک ٹمپل بحال کرنے کی ہدایت کی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہیکہ 1919ء میں شری پرم ہنس جی مہاراج کے انتقال کے مقام پر ایک چھوٹا ہندو مندر تعمیر کردیا گیا۔ ان کے عقیدتمند اس مقام کا دورہ کرتے ہوئے ان کے تئیں اپنی عقیدت کا اظہار کرتے تھے جس کا سلسلہ 1997ء تک چلتا رہا جس کے بعد کچھ مسلم انتہاء پسندوں نے مندر منہدم کردیا حالانکہ عقیدتمندوں نے اس چھوٹے مندر کو دوبارہ تعمیر کرنے کی کئی بار کوشش کی لیکن وہاں ایک مسلمان عالم نے قبضہ کر رکھا تھا اور وہ انہیں مندر کی دوبارہ تعمیر کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ اس کے بعد اس معاملہ میں ہندو مذہب کے کچھ تجربہ کار اور سینئر لوگوں نے مداخلت کی اور بات چیت کے ذریعہ معاملہ کی یکسوئی کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ یہاں تک کہ مندر کی اراضی کیلئے 1997ء میں 375,000 روپئے بھی ادا کئے۔ تاہم خطیر رقم حاصل کرنے کے بعد بھی مسلمان عالم نے اس جائیداد کے تخلیہ سے انکار کردیا۔

TOPPOPULARRECENT