Wednesday , November 22 2017
Home / Top Stories / ہندو پاک ’ایک دوسرے کی ‘بات نہیں ’ایک دوسرے سے ‘بات کریں :خورشید محمود قصوری

ہندو پاک ’ایک دوسرے کی ‘بات نہیں ’ایک دوسرے سے ‘بات کریں :خورشید محمود قصوری

نئی دہلی 12 اپریل (سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے پاکستان کے تعلق سے ہندستان کی خارجہ پالیسی کو بالواسطہ نکتہ چینی کرتے ہوئے آج کہا کہ پاکستان کو یکا و تنہا کرنے کی کوشش خطے کے لئے تباہ کن ہو گی اور جنگ کی ناعاقبت اندیشانہ نوبت کاانجام بھگتنا پڑے گا۔یہاں سنٹر فار پیس اینڈ پروگریس کے زیر اہتمام مذاکرے میں مسٹر قصوری نے جن کی ہندستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے رخ پر مرتب کردہ کتاب ”نائیدر اے ہاک نار اے ڈوو” کو امن پسند حلقوں میں بے حدسراہا گیا ہے ، دونوں ملکوں کے ذمہ داروں سے کہا کہ وہ ”ایک دوسرے پر بات نہ کرکے ایک دوسرے سے بات کریں۔۔۔ تاکہ بامقصد بات ممکن ہو سکے ”۔پاکستانی نمائندے نے جن کا عین ایسے موقع پرہندستان آنا ہوا جب پاکستان میں ایک ہندستانی شہری کلبھوشن جادھو کو سزائے موت سنا دینے سے دونوں ملکوں کے پہلے سے ناموافق تعلقات اور کشیدہ ہو گئے ہیں، کہا کہ جو رشتہ معمول پر نہ ہو اس کے لئے بات چیت اور بھی ناگزیر ہو جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جہاں یہ ادراک ہونا چاہئے کہ بین اقوامی طور اس کے لئے بہتری اسی میں ہے کہ وہ ہندستان سے اچھے تعلقات رکھے وہیں ہندستان کوبھی اس شعور سے کام لینا ہے کہ امریکہ اور روس کے عزائم کے پیش نظر پاکستان کو یکا و تنہا کرنے کی کوئی بھی کوشش انتہائی مرحلے میں تباہ کن نئی صف بندیاں سامنے لاسکتی ہے ۔انہوں نے اس کی مثال 1971 کی جنگ کے بعد ذولفقار علی بھٹو جیسے سیکولر لیڈر کے اس اقدام کی روشنی میں پیش کی جس میں پاکستان جنوبی ایشیا کا فکری اور عملی حصہ بنے رہنے کے بجائے جنوبی ایشیا میں اسلامی ملکوں کی اولین بین اقوامی کانفرنس کا میز بان بن گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بہ الفاظ دیگر پاکستان کو جغرافیائی اور سیاسی طور پر یکا و تنہا نہیں کیا جا سکتا۔مسٹر قصوری نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ فوجی طاقت سے مسائل حل نہیں ہوتے پاکستان اور ہندستان دونوں پر زور دیا کہ وہ اس ادراک سے بھی کام لیں کہ اب ان کے لئے صرف امریکہ اور روس ہی نیوکلیائی طاقت نہیں بلکہ دونوں خود بھی اسی صف میں ہیں اور از خود قائدانہ رول ادا کر سکتے ہیں۔سفارت کاری کا گہرا تجربہ رکھنے والے سابق وزیر منی شنکر ایئر نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ دونوں ہمسایوں نے مسئلہ کشمیر تو باہمی بنا لیا مگر داخلی سطح پر ایک دوسرے کے لئے آگے نہ بڑھ سکے ۔ انہوں نے کہا کہ سرینگر پارلیمانی حلقے میں جس طرح نوبت سات فی صد پولنگ تک پہنچی ہے وہ تشویشناک ہے اوریہ سلسلہ دراز ہوا تو پورے ایشیا کے لئے تباہ کن ہو گا۔لہذا دونوں ہمسائے بات چیت کریں، اسے مشروط نہ بنائے رکھیں۔ممتاز قانون دان اور سیاست داں رام جیٹھ ملانی نے الفاظ چبائے بغیر کہا کہ کشمیر کی خود مختاری کے تعلق سے پاکستان نے بر طانیہ کو گمراہ نہیں کیا ہوتا تو مسئلہ کشمیر کھڑا نہیں ہوتا ۔ ویسے بھی ہندستان نے کشمیر فتح نہیں کیا،ہاں حیدرآباد کا مسئلہ اس لئے ضرور حل ہو گیا کہ اس محاذ پر سردار پٹیل پنڈت نہرو سے زیادہ ذہین ثابت ہوئے ۔ اس تاریخی حوالے کے ساتھ ہی انہوں نے پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف کی مسئلہ کشمیر کے حل کی تجویز کو قابل عمل بتاتے ہوئے کہا کہ دیر سے سہی یہ مسئلہ اب بھی بات چیت سے حل کیا جا سکتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT