Monday , November 20 2017
Home / مضامین / ہندو پاک کے مستقل منفی کردار

ہندو پاک کے مستقل منفی کردار

کلدیپ نیر
بیتے ہوئے سال کی خوشخبری کابل سے واپسی میں وزیراعظم نریندر مودی کا بے ساختہ دورہ لاہور کی ہے ۔ یہ واقعی ایک خوش آیند اشارہ ہے ۔ جس کی تمام حلقوں نے ستائش کی ہے ۔ اس ملک کے عوام میں یہ احساس ہے کہ ہندوستان خوف کی فضا کو ختم کرنا چاہتا ہے ۔ پاکستان کا ستر سالہ آزادانہ وجود بھی اس خوف کا ازالہ نہیں کرسکا ۔مودی کا یہ تبصرہ کہ دونوں طرف سے اس طرح کے دورے عام طور پر ہوتے رہیں گے ۔ ایک خوش آیند یقین دہانی ہے ۔ ایک دوسرے کو درپیش مسائل کو حل کرنے کی غرض سے گفت و شنید میں دونوں کی راہ میں جو بھی روکاٹیں حائل رہی ہوں وہ پس منظر میں چلی گئی ہیں ۔بدقسمتی سے دونوں ملکوں کا مستقل منفی کردار ادا کررہا ہے ۔ ۔یہ تو ہر کسی کو اندازہ ہوگا کہ اس کی چھان بین میں کہ مودی کو اس دورے پر کس بات نے آمادہ کیا ہوگا بہت زیادہ تبصرے ہورہے ہیں ۔ یہ دورہ ان کے ذہن کی اپج ہے  ۔ذہن میں کسی خیال کے وارد ہونے کے لئے باہری لوگوں کی ضرورت نہیں پڑتی ۔
پاکستان میں بھی اس دورے کی تحسین و تعریف سے ظاہر ہے کہ خاموشی کو توڑنا عرصہ سے واجب تھا ۔ جھوٹی شان دونوں کی راہ میں حائل تھی۔ مودی کی طرف سے فاصلہ کم کرنے کی اس کوشش کی ہر شخص تعریف کررہا ہے ۔ مودی کی شبیہ خراب کرنے کی غرض سے کانگریس کا تبصرہ قطعاً بیجا ہے ۔ یہ کہہ کر کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اب کانگریس کی کئی دہائیوں سے اختیار کردہ روش پر چل رہی ہے ۔ مودی کی پارٹی کو قصوروار ٹھہرانے کے بجائے پارٹی نے کہاکہ کوئی لائحہ عمل وضع نہیں کیا گیا تھا ۔
کئی سال پہلے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے یہ کہہ کر سب کو حیرت میںڈال دیا تھا کہ وہ بس سے لاہور جائیں گے ۔ مذاکرات کامیاب رہے تھے ۔ اس وقت کے سرکاری ترجمان مشاہد حسین کے مطابق مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے ایک مدت کا تعین کیا گیا تھا ۔ بدقسمتی سے اس مسئلے پر وقتاً فوقتاً ہونے والی بات چیت بارآور نہ ہوسکی ۔ کشمیری رہنما فاروق عبداللہ نے اپنے محترم والد شیخ عبداللہ کی روش اختیار کرتے ہوئے یہ کہا کہ پاکستان کے تحت جتنا بھی حصہ ہے وہ ان کے علاقے میں شامل رہے اور جو ہمارا ہے وہ ہندوستان کا اٹوٹ حصہ بنارہے ۔ دراصل یہ تو زمینی صورت حال ہے ۔ لائن آف کنٹرول کی کوئی بھی خلاف ورزی دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی پیدا کردیتی ہے یہاں تک کہ یہ جنگ جیسے حالات بھی بن جاتے ہیں۔ لاہور میں نواز شریف سے مودی کی ملاقات سے ایک نئے باب کا آغاز ہونا چاہئے ۔ ضروری اشیاء کی درآمد و برآمد کے لئے دبئی کا سہارا لینے کے بجائے دونوں ملکوں کے درمیان بین سرحدی تجارت ہو ۔ انہیں نہ صرف دوستی کے فروغ کے لئے بلکہ خطے کو اقتصادی طور پر مضبوط کرنے کے لئے بھی اقدامات کرنے چاہئیں ۔
دورے کے بعد مودی کا یہ بیان کہ اس طرح کا دورہ عام طور پر ہوتا رہے گا ، ایک دوسرے کے ملکوں میں آمد و رفت کا سلسلہ ضابطہ جاتی پابندیوں کے بغیر قائم ہوگا ، بہت پہلے آنا چاہئے تھا ۔ اس معاملے میں واجپائی کی نظیر خاص دوررس بھی تھی ۔ شاید مودی نے انہی کی تقلید کی ہے کیونکہ لاہور سے واپسی کے فوراً بعد انہوں نے واجپائی سے ہی فون پر رابطہ کیا ۔ واجپائی اقتدار میں تو نہیں رہے لیکن اشاروں میں انہوں نے یہ ضرور کہا کہ جو کچھ مودی نے کیا وہ ایسی بات ہے جو وہ خود کرسکتے تھے ۔
اگر مودی کو کامیاب ہونا ہے تو وہ آر ایس ایس سے اکھنڈ بھارت کے منشور سے دست بردار ہونے اور پاکستان کو ایک خود مختار ملک کی حیثیت سے تسلیم کرنے کے لئے کہیں ۔ افسوس کی بات  یہ ہے کہ میٹنگ کے ختم ہوتے ہی خصوصاً آر ایس ایس لیڈران کے بعض بیانات کے دوران بار بار دہرایا گیا ، اکھنڈ بھارت کا نعرہ لگایا گیا ۔
پاکستان میں خیر سگالی کا جو ماحول مودی نے بنایا ہے ۔ بدقسمتی سے اسے ہندوستان کے مختلف حصوں سے پتھر لائے جانے والے مسئلے سے پیدا ہونے والی فضا نے چھانٹ دیا ہے  ۔انتہا پسند عناصر پھر وہی پرانا کھیل کھیل رہے ہیں اور رام مندر تنازعے کو دوبارہ زندہ کررہے ہیں ۔ بابری مسجد ہی نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان اختلافات کی شدت کا سبب بنی تھی ۔ اس مسئلے کو دوبارہ اٹھائے جانے سے ملک میں تنگ نظری کو تقویت ملے گی ۔
ایک سالانہ کانفرنس میں شریک تاریخ دانوں نے بابری مسجد کے مقام پر ہی ایودھیا میں مستقبل کے رام مندر کی تعمیر کے لئے تراشے گئے پتھر لائے جانے کے خلاف ایک قرار داد منظور کی ہے ۔ یہ فیصلہ مالدہ مغربی بنگال میں منعقد انڈین ہسٹری کانگریس (آئی ایچ سی) کے 76 ویں جاری اجلاس میں لیا گیا  ۔آئی ایچ سی نے یہ تاثر قائم کیا کہ ایودھیا میں پتھر جمع کرنے کا عمل ایک بار پھر قانون شکنی کے اندیشے کو جنم دے گا ۔بات گھوم پھر کر مودی پر ہی آتی ہے ، انہیں خود اپنی پارٹی اور آر ایس ایس میں موجود آتش مزاجوں پر قابو پانا ہوگا ۔ ایودھیا میں رام مندر کی باز تعمیر کی بات کرکے وہ مودی کے دورے کے مقصد کو ہی شکست دے دیں گے ۔ بابری مسجد کا ڈھانچہ ہی سیکولرازم میں ہمارے ملک کے یقین کا ثبوت تھا ۔
انہدام کے وقت ایک شخص نے تبصرہ کیا کہ مہاتما گاندھی کو 30 جنوری کو گولی ماری گئی لیکن ان کی موت  6 دسمبر کو ہوئی جب ایل کے اڈوانی  ،مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی جیسے بی جے پی لیڈران کی موجودگی میں مسجد گرائی گئی  ۔اس وقت اپنی ناراضگی کے اظہار کے لئے پارلیمنٹ کو اپنا استعفی سونپنے کے لئے اڈوانی خاصے سنجیدہ تھے ۔ لیکن اس کے بعد ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں پیدا کردہ فتح کے ماحول کی رو میں انہوں نے قدرے جھینپتے ہوئے اپنا استعفی واپس لے لیا ۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں  کے خارجہ سکریٹریوںکی ملاقات اسی ماہ ہونے والی ہے ۔ وزیراعظم نواز شریف کے مشیر سرتاج عزیز نے پہلے ہی  ایک پاکستانی نشریے میں کہا ہے کہ تمام مسائل بیک وقت تو حل نہیں ہوسکتے لیکن ٹھوس  نتائج کے حصول می وقتاً فوقتاً آنے والی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے سنجیدہ کوششیں کی جائیں گی ۔
مودی نے پہل کرتے ہوئے پاکستان سے تعلقات استوار کرنے کے لئے اپنے عزم کا مظاہرہ کیا ہے ۔ واشنگٹن، ماسکو اور لندن کی طرف سے اس جذبے کی تحسین سے ظاہر ہے کہ دنیا یہ دیکھنے کی کس  قدر مشتاق ہے کہ نئی دہلی اور اسلام آباد میں مفاہمت ہو اور اس خطے سے جنگ کی نحوست دور ہو کر دونوں ملکوں میں اقتصادی خوشحالی آئے ۔ آخر دنیا کی سب سے بڑی آبادی اسی خطے میں رہتی ہے ۔ ماضی میں کچھ بھی ہو ۔ مودی نے مثبت قدم اٹھایا ہے اور ان کی کامیابی کے لئے سب کو کوشاں ہونا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT