Thursday , December 13 2018

ہندی پٹی میںکانگریس کے عروج کی پیش قیاسی

سینئر کانگریس قائد جیوترآدتیہ سندھیاضمنی انتخابات میں پارٹی کی کامیابی سے پُرجوش

نئی دہلی ۔ 11مارچ ( سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کو شمال مشرقی ہند میں ممکن ہے کہ زبردست شکست ہوئی ہو لیکن کانگریس کے سینئر قائد جیوتر آدتیہ سندھیا کا احساس ہے کہ اس بات کی طاقتور علامات نظر آرہی ہیں کہ ہندی پٹی میں کانگریس 2019ء کے اہم عام انتخابات کے دوران عروج پرآئے گی ۔ مدھیہ پردیش کے حالیہ ضمنی انتخابات میں پارٹی کی کامیابی سے پُرجوش کانگریس قائد جیوتر آدتیہ سندھیا نے کہا کہ عوام نے فیصلہ کرلیا ہے کہ ریاست میں بی جے پی کے 14سالہ اقتدار کو ختم کردیں گے ‘ جہاں جاریہ سال کے اوآخر میں انتخابات مقرر ہے ۔ سندھیا کو مدھیہ پردیش کے چیف منسٹری کے عہدہ کیلئے دوڑ میں سب سے آگے سمجھا جاتا ہے ۔ پُرزور انداز میں کہا کہ ہمخیال پارٹیاں متحد ہوجائیں گی ‘ تاکہ ریاست کی شیوراج سنگھ چوہان حکومت کا تختہ اُلٹ دیں ۔ پی ٹی آئی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ناگالینڈ اور تریپورہ کے انتخابی نتائج صدمہ انگیز تھے ۔ میگالیہ میں کانگریس سب سے بڑی واحد پارٹی بن کر ابھری ہے لیکن بی جے پی نے حکومت تشکیل دی ۔ حالانکہ اُسے اسمبلی کی صرف دو نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی ۔ لیکن اس نے بڑے پیمانہ پر ارکان اسمبلی کی خریداری کی ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس بات کی طاقتور علامات نظر آرہی ہیں کہ ہندی پٹی میں کانگریس کا عروج دیکھا جائے گا ۔ کانگریس کو تریپورہ اور ناگالینڈ میں ایک بھی نشست پر کامیابی حاصل نہیں ہوئی ۔ تاہم وہ میگالیہ میں حکومت تشکیل دینے سے قاصر رہی اور بی جے پی تمام تینوں ریاستوں میں مخلوط حکومتیں قائم کرتے ہوئے برسراقتدار آنے میں کامیاب ہوگئی ۔ سندھیا نے کہا کہ گجرات اسمبلی انتخابات کے نتائج درحقیقت ولولہ انگیز تھے ۔ مدھیہ پردیش کے ضمنی انتخابات میں بھی کانگریس کامیابی رہی ۔ راجستھان کے ضمنی انتخابی نتائج سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT