Wednesday , June 20 2018
Home / ہندوستان / ہندی کو فروغ دینے مودی حکومت کے اقدامات پر تنازعہ

ہندی کو فروغ دینے مودی حکومت کے اقدامات پر تنازعہ

نئی دہلی۔ 19 جون (سیاست ڈاٹ کام) سوشیل میڈیا پر ہندی زبان کو سرکاری طور پر فروغ دینے مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ دو سرکیولرس پر تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔ ڈی ایم کے نے مرکز پر الزام عائد کیا کہ وہ غیرہندی علاقوں پر زبان کو مسلط کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ڈی ایم کے سربراہ ایم کروناندھی کی جانب سے مرکزی حکومت کے فیصلے پر کی گئی نکتہ چین

نئی دہلی۔ 19 جون (سیاست ڈاٹ کام) سوشیل میڈیا پر ہندی زبان کو سرکاری طور پر فروغ دینے مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ دو سرکیولرس پر تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔ ڈی ایم کے نے مرکز پر الزام عائد کیا کہ وہ غیرہندی علاقوں پر زبان کو مسلط کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ڈی ایم کے سربراہ ایم کروناندھی کی جانب سے مرکزی حکومت کے فیصلے پر کی گئی نکتہ چینی کے بعد مملکتی وزیر داخلہ کرن رجیجو نے کہا کہ وہ تمام سرکاری کاموں اور عوامی زندگی میں ہندی زبان کے استعمال کو فروغ دیں گے۔ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ہندی کو فروغ دینے سے متعلق ان کی وزارت کے سرکیولر پر پیدا شدہ تنازعہ کو غیراہم قرار دیا

اور کہا کہ مرکز کی جانب سے ملک کی تمام زبانوں کو فروغ دیا جائے گا۔ سوشیل میڈیا پر ہندی کو سرکاری زبان کے طور پر فروغ دیا جارہا ہے۔ وزارت داخلہ نے اس سلسلے میں دو سرکیولر جاری کئے تھے اور تمام سرکاری عہدیداروں اور ملازمین پر زور دیا تھا کہ وہ ٹوئٹر، فیس بُک، بلاگس، گوگل، یوٹیوب پر سرکاری اکاؤنٹس کھول کر ہندی زبان کو فروغ دیں۔ ایک اور سرکیولر میں اعلان کیا گیا کہ ہر اُس سرکاری ملازم کو 2,000/- روپئے کا انعام دیا جائے گا جو اپنا سرکاری کام زیادہ تر ہندی زبان میں انجام دے۔ اسی طرح 1200/- اور 600/- روپئے کے انعامات بھی دیئے جائیں گے۔ مرکزی حکومت کے اس فیصلہ کا سخت نوٹ لیتے ہوئے ڈی ایم کے سربراہ ایم کروناندھی نے کہا کہ یہ ہم پر ہندی زبان کو مسلط کرنے کی شروعات ہے۔

TOPPOPULARRECENT