Tuesday , December 12 2017
Home / ہندوستان / ہند۔اسرائیل روابط سے مسجدالاقصیٰ جھگڑے میں مفاہمت ممکن

ہند۔اسرائیل روابط سے مسجدالاقصیٰ جھگڑے میں مفاہمت ممکن

مودی حکومت کے اسرائیل سے دوستانہ تعلقات سے فلسطین کو امیدیں : فلسطینی قاصد ابوالحائجہ

نئی دہلی ۔ 27جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) اسرائیل کے ساتھ ہندوستان کے ساتھ دوستانہ روابط یروشلم میں مسجد الاقصیٰ کے تعلق سے جاری اسرائیل ۔ فلسطین جھگڑے میں ثالثی کا رول ادا کرسکتے ہیں ‘ فلسطین کے قاصد نے یہ بات کہی ہے ۔ سفیر فلسطین عدنان ابو الحائجہ نے الاقصیٰ کمپاؤنڈ میں اسرائیل کے حالیہ سیکیورٹی اقدامات کو مذہبی جنگ قرار دیا اور کہا کہ فلسطین کو ہندوستانی حکومت سے مثبت رویہ کی توقع ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی موجودہ حکومت کا اسرائیل سے دوستانہ ربط ہے ۔ سابق حکومتیں بھی اسرائیل کے قریب رہی ہیں لیکن یہ حکومت خاص طور پر زیادہ قریب معلوم ہوتی ہے۔ اسرائیل کے ساتھ ہندوستان کے دوستانہ تعلقات یروشلم کی موجودہ صورتحال میں اہم رول انجام دے سکتے ہیں ۔ مسجد الاقصیٰ اسلامی عبادت گاہ ہے ۔ یروشلم تین مذاہب کا شہر ہے اور ہم تمام مذاہب کا احترام کرتے ہیں ۔ تاہم ‘ انہوں نے دہرایا کہ وزیراعظم نریندر مودی کا حالیہ دورہ اسرائیل جس میں فلسطینی علاقہ کو شامل نہیں رکھا گیا ‘ اُس سے دونوں فریقوں کے درمیان روابط پر اثر نہیں پڑا ہے ۔ فلسطینی قاصد نے کہا کہ اسرائیل طویل عرصہ سے مسجد الاقصیٰ کے تقدس کو پامال کرنے کی کوشش کرتا آیا ہے لیکن 1967ء کے بعد سے پہلی مرتبہ اس مقام کو صیہونی بنانے کا عمل شروع کیا گیا ہے جو مسلمانوں اور یہودیوں دونوں کیلئے مقدس ہے ۔ عدنان ابوالحائجہ نے کہا کہ اسرائیل کی اس مہم کو گذشتہ سال سخت جھٹکہ لگا جب یونیسکو نے مسجد اقصیٰ کمپاؤنڈ کو خصوصیت سے مسلمانوں کا مقام قرار دیا ۔ اس پر اسرائیل مشتعل ہوگیا اور تازہ اشتعال انگیزی کو آگے بڑھانے کا فیصلہ اسی کا شاخسانہ ہے ۔
جنرل وی کے سنگھ دوبارہ عراق جائیں گے
نئی دہلی 27جولائی (سیاست ڈاٹ کام) وزیر مملکت برائے امور خارجہ جنرل وی کے سنگھ عراق کے موصل سے تین برس قبل لاپتہ 39 ہندوستانیوں کا پتہ لگانے کیلئے پھر عراق جائیں گے اور بادوش کا دورہ کریں گے جہاں ہندوستانیوں کو جیل میں رکھنے کی اطلاع ملی ہے۔ وزیر خارجہ سشما سوراج نے مہمان عراقی وزیر خارجہ ڈاکٹر ابراہیم الجعفری سے ملاقات میں ان سے درخواست کی کہ وہ جنرل سنگھ کو بادوش جانے کی اجازت فراہم کریں جس پر ڈاکٹر جعفری نے رضامندی ظاہر کر دی۔

TOPPOPULARRECENT