Saturday , December 16 2017
Home / دنیا / ’’ہند۔امریکہ سیول نیوکلیئر معاہدہ محض ہتھیار فروخت کرنے کاسودا تھا‘‘

’’ہند۔امریکہ سیول نیوکلیئر معاہدہ محض ہتھیار فروخت کرنے کاسودا تھا‘‘

معاہدہ کے منفی اور مثبت پہلوؤں پر غوروخوض نہیں کیا گیا، سابق صدر بارک اوباما کا دورہ ہندکا مقصد بھی ہتھیاروں کی فروخت : سابق سینیٹر لاری پریسلر
واشنگٹن ۔ 26 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ری پبلکن کے ایک سابق اعلیٰ سطحی سینیٹر نے آج الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ہندوستان کے درمیان جو تاریخی سیول نیوکلیئر معاہدہ ہوا تھا وہ ’’ابتدائی مراحل میں ہی فوت ہوگیا تھا‘‘ کیونکہ بغیر کسی زمینی تیاری کے معاہدہ پر دستخط کردیئے گئے تھے جو دراصل نیوکلیئر معاہدہ کم اور امریکی دفاعی سازوسامان تیار کرنے والی کمپنیوں کیلئے ’’ہتھیاروں کا معاہدہ‘‘ زیادہ تھا۔ سابق سینیٹر لاری پریسلر جنہوں نے امریکی سینیٹ کی آرمس کنٹرول سب کمیٹی میں بطور صدرنشین اپنے فرائض انجام دیئے تھے، نے آج اپنے ایک خطاب کے دوران کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کئے گئے معاہدہ کی یوں تو کافی ستائش ہوئی تھی لیکن معاہدہ کے اطلاق کے کوئی امکانات نہیں کیونکہ اس کے منفی پہلوؤں پر غوروخوض کرتے ہوئے ان کی یکسوئی نہیں کی گئی اور نہ ہی اس معاہدہ کو قطعیت دینے کیلئے کوئی خاص جدوجہد کی گئی۔ انہوں نے ایک بار پھر اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ ہند ۔امریکہ سیول نیوکلیئر معاہدہ شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوگیا۔ بہ الفاظ دیگر سانس لینے سے پہلے ہی اس کی موت ہوگئی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپ ہوگا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیول نیوکلیئر پروگرام اکٹوبر 2008ء میں کیا گیا اور اس طرح نیوکلیئر اور خلائی شعبوں میں جس طرح مغرب نے ہندوستان کو یکاوتنہا کرنے کی کوشش کی تھی اس کا خاتمہ ہوگیا تھا اور اس طرح اس معاہدہ سے ہندوستان کے نیوکلیئر پروگرام کو تقویت حاصل ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی اہم معاہدہ کو قطعیت دینے سے قبل اس کے تمام پہلوؤں پر چاہے وہ مثبت ہوں یا منفی، غوروخوض کیا جاتا ہے لیکن نیوکلیئر معاہدہ کے اہم ترین معاملہ میں دونوں ممالک نے اس کے اہم پہلوؤں پر جسے گراؤنڈ ورک کہا جاتا ہے، کوئی غوروخوض نہیں کیا۔ ہڈسن انسٹیٹیوٹ، جو ایک تھنک ٹینک ہے، کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر پریسلر نے اپنی کتاب ’’نیبرس ان آرمس : این امریکن سینیٹرس کوئسٹ فار ڈس آرمامنٹ ان اے نیوکلیئر سب کانٹی نینٹ‘‘ پر بھی تبادلہ خیال کیا جس کی حال ہی میں رسم اجرائی عمل میں آئی تھی۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ 2008ء میں کیا گیا معاہدہ انتہائی پھسپھسا او کھوکھلا تھا جسے ہم نیوکلیئر معاہدہ ہرگز نہیں کہہ سکتے۔ وہ صرف ہتھیاروں کی فروخت کا معاہدہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ سابق امریکی صدر بارک اوباما کا دورہ ہند بھی ہتھیاروں کی فروخت کرنے سے متعلق ہی تھا اور اس طرح امریکہ سے خریدے جانے والے ہتھیاروں کی قیمت ہندوستانی غریب عوام پر ٹیکس عائد کرکے وصول کی جائے گی۔ اس وقت بھی یہی کہا گیا تھا کہ امریکہ اور ہندوستان کے درمیان سیول نیوکلیئر معاہدہ سے دوستی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے لیکن ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان نے جس طرح تمام شرائط قبول کی تھیں اس پر میں نے (پریسلر) تنقید بھی کی تھی۔ دوسری طرف نیوکلیئر معاہدہ کیلئے اہم رول ادا کرنے والے وجے سجاول نے پریسلر کے دعوؤں کو مسترد کردیا اور کہا کہ معاہدہ کے منفی پہلو کو کافی عرصہ قبل ہی حل کرلیا گیا تھا لیکن امریکی کمپنیاں اب بھی اسی پر بحث و تکرار کررہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT