Tuesday , December 19 2017
Home / دنیا / ہند۔امریکہ نیوکلیئر معاہدہ پر 2016ء میں عمل آوری ممکن

ہند۔امریکہ نیوکلیئر معاہدہ پر 2016ء میں عمل آوری ممکن

امریکی سفیر برائے ہندوستان رچرڈ ورما کی پریس کانفرنس ‘ ہند۔امریکہ نیوکلیئر معاہدہ پر سوالات کے جواب
واشنگٹن۔13ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) طویل مدت سے ہند۔ امریکہ سیول نیوکلیئر معاہدہ پر عمل آوری کا انتظار ہے ‘ امکان ہے کہ اس پر آئندہ سال سے عمل آوری شروع ہوجائے گی ۔ اس سے قبل اس تاریخی معاہدہ کی بیشتر شرائط کی تکمیل کی جائے گی ۔ زیادہ تر شرائط پہلے ہی سے مکمل ہوچکے ہیں اور امکان ہیکہ جلد ہی یہ معاہدہ عملی شکل اختیار کرلے گا ۔ امریکہ کے ایک اعلیٰ سطحی سفارتکار نے ہندوستانی صحافیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کے دوران اس کا انکشاف کیا ۔ امریکی سفیر برائے ہندوستان رچرڈ ورما نے کہا کہ انہیں بھرپور اعتماد ہے کہ امریکہ اور ہندوستان زیادہ تیز رفتار سے سیول کلیئر معاہدہ کے نفاذ کی سمت 2016ء میں پیشرفت کریں گے ۔ ہند ۔ امریکہ رابطہ گروپ جنوری میں قائم کیا گیا تھا اس کا سابق اجلاس نومبر میں واشنگٹن میں منعقد کیا گیا تھا۔ ایک اعلیٰ سطحی امریکی دانشوروں کی تنظیم بروکلین انسٹی ٹیوٹ کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے رچرڈ ورما نے کہا کہ ہمارے حکومت ہند کے نیوکلیئر شعبہ سے مثبت مذاکرات ہوئے ہے ۔ گذشتہ دو ماہ کے دوران وہ ممبئی میں تھے تاکہ ان مذاکرات میں شرکت کرسکیں ۔ رچرڈ ورما نے کہا کہ امریکہ اس معاہدہ پر عمل آوری کیلئے سخت محنت کررہا ہے ۔ اتنا کہنا کافی ہے کہ واجبات کے سلسلہ میں مفاہمت ہوچکی ہے ۔

معاہدہ کا نفاذ کلیدی اہمیت رکھتا ہے ۔ امریکی سفیر نے کہا کہ ایٹمی توانائی کے سلسلہ میں این پی سی آئی ایل اور وزیراعظم کے دفتر سے بات چیت ہوچکی ہے ۔ ہر شخص کی خواہش ہے کہ اس معاہدہ کے نفاذ کیلئے پیشرفت کی جائے ۔ رچرڈ ورما نے نیوکلیئر معاہدہ کے نفاذ میں طویل مدت سے التواء کے بارے میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ توقع ہے کہ ہندوستان میں نیوکلیئر برقی توانائی کے کارخانے قائم کئے جائیں گے ۔ انہوں نے یاد دہانی کی کہ اب بھی حالات ہندوستان کی تائید میں ہے ۔ ان میں سے ایک کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضمنی مسابقت کی منظوری ابھی باقی ہے ۔ اس بات کو یقینی بنایا جاناچاہیئے کہ انشورنس کمپنی قائم کی جاتی ہے اور اس کے مالیہ میں اضافہ کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نیوکلیئر برقی توانائی اتنی تیز رفتار نہیں ہے کہ وہ وقت کی رفتارکامقابلہ کرسکے ۔ نیوکلیئر ری ایکٹر کی تعمیر کیلئے کافی وقت درکار ہوتا ہے لیکن یہ کوئی بہانہ نہیں ‘حقیقت ہے ۔ اس لئے اس کوشش کو کئی سال درکار ہوں گے ۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ تجارتی معاہدوں اور حقیقی ترقی کو جاری رہنا چاہیئے ۔ ہندوستان میں اندرون ملک نیوکلیئر واجبات قانون 2010میں منظور ہوچکاہے۔

TOPPOPULARRECENT