Thursday , September 20 2018
Home / کھیل کی خبریں / ہند۔بنگلہ فائنل دلچسپ ہونے کا امکان

ہند۔بنگلہ فائنل دلچسپ ہونے کا امکان

کولمبو۔17 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل پر اعتماد ہندوستانی ٹیم کامیابی کے حصول کیلئے بنگلہ دیشی ٹیم کے خلاف کل جب یہاں سہ رخی ٹوئنٹی20 سیریز ندہاس ٹرافی کے فائنل میں اترے گی تو اس کا مقصد تقریبا پانچ سال بعد محدود اوورس میں کوئی سہ رخی سیریز جیتنا ہوگا ۔ہندستانی ٹیم رواں سیریز کے اپنے چار میں سے تین میچ جیت کر فائنل میں پہنچی ہے جبکہ بنگلہ دیش کو چار میں سے دو میچ جیت کر فائنل میں ہندستان کے مقابلہ کا حق مل گیا ہے ۔بنگلہ دیش نے کل آخری لیگ میچ میں سری لنکا کو ایک گیند قبل ہی دو وکٹ سے شکست دے کر فائنل میں رسائی حاصل کی ہے۔بنگلہ دیشی کھلاڑیوں نے جیت کا جشن میں کچھ ہنگامہ بھی کیا اور ان کی سری لنکائی کھلاڑیوں کے ساتھ جھڑپ بھی ہوئی جس نے ان کی فتح کے جشن میں خلل بھی ڈالا۔ہندستان نے لیگ مرحلے میں بنگلہ دیش کو دونوں مرتبہ آسانی سے شکست دی لیکن اسے بنگلہ دیش کے جوابی حملے سے ہوشیار رہنا ہوگا جو کل کی فتح کے بعد اچانک ہی خطرناک نظر آنے لگی ہے اورمحدود اوورس کی کرکٹ میں گزشتہ چند سال میں مسلسل کامیاب ہو رہی ہے۔ ہندستانی ٹیم نے ونڈے اور ٹوئنٹی20 دونوں کی آخری مرتبہ کوئی سہ رخی سیریز جون2013 میں ویسٹ انڈیز میں جیتی تھی جب اس نے سری لنکا کو قریبی مقابلے میں ایک گیند قبل دو وکٹ سے شکست دی تھی۔ہندستان ٹوئنٹی20 میں آخری سیریز2017 میں ویسٹ انڈیز میں 0۔1 سے ہارا تھا۔اس کے بعد سے ہندستان نے اگلی پانچ سیریز میں چار جیتی اور آسٹریلیا سے سیریز 1۔1 سے ڈرا کھیلی۔ہندستان نے حال ہی میں جنوبی افریقہ دورے میں ٹوئنٹی 20 سیریز 2۔1 سے جیتی تھی۔ہندوستانی ٹیم کے نوجوان کھلاڑیوں نے اس سیریز میں اب تک شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جس سے پوری امید ہے کہ ہندستانی ٹیم ایک مرتبہ پھر بنگلہ دیش کو زیر کر سکے گی۔ہندستان نے بنگلہ دیش کو آٹھ وکٹ پر 139 رن پر روکنے کے بعد دوبارہ 18.4 اوور میں چار وکٹ پر 140 رن بنا کر میچ جیت لیا تھا۔شکھر نے سیریز میں اپنی مسلسل دوسری نصف سنچری بنائی تھی۔ انہوں نے اس سے پہلے سری لنکا کے خلاف بھی پہلے میچ میں90 رنز کی بہترین اننگز کھیلی ۔ہندوستانی ٹیم نے بنگلہ دیش کے خلاف اپنے دوسرے مقابلے میں کپتان روہت شرما کے دم پر کامیابی حاصل کی۔روہت کافی عرصہ بعد اپنی فارم میں واپس آئے اور 89 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر ہندستان کی بنگلہ دیش پر 17رنز کی کامیابی میں اہم رول ادا کیا تھا۔روہت کا فارم میں لوٹنا ہندستان کے لئیخوش آئند ہے کیونکہ وہ ایسے خطرناک بیٹسمین ہیں جو اپنے دن کسی بھی ٹیم کو تباہ کر سکتے ہیں۔گزشتہ کافی عرصے سے بیٹنگ سے جدوجہد کر رہے روہت نے طوفانی انداز میں کھیلتے ہوئے صرف 61 گیندوں پر 89 رنز کی اننگز میں پانچ چوکے اور پانچ چھکے لگائے تھے ۔ٹاپ آرڈر میں شکھر اور روہت کے بعد بائیں ہاتھ کے سریش رائنا کی موجودگی ٹیم کی بیٹنگ کو مضبوطی فراہم کرتی ہے ۔گزشتہ میچ میں رائنا نے بھی تیز کھیلتے ہوئے 30گیندوں پر پانچ چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 47 رن بنائے تھے ۔ہندستان کی یہ خطرناک تکڑی اگر فائنل میں بھی چلتی ہے تو بنگلہ دیش کے لئے ہندستان کو روکنا مشکل ہو جائے گا۔ہندوستانی بولنگ نے ناتجربہ کار ہونے کے باوجود اب تک شاندار کارکردگی کی ہے ۔18 سالہ آف اسپنر واشنگٹن سندر نے گزشتہ مقابلے بنگلہ دیش کے سرفہرست 3 بیٹسمینوں کو پویلین بھیج کر بنگلہ دیش کو آغاز سے دباؤ میں ڈال دیا تھا۔ سندر اب تک چار میچوں میں سب سے زیادہ سات وکٹ لے چکے ہیں۔ شاردل ٹھاکر نے 6، جے دیو انادکٹ نے 5 اور یجویندر چہل نے پانچ وکٹ لئے ہیں۔ہندستان کو بنگلہ دیش سے گزشتہ دونوں مقابلے جیت لینے کے باوجود محتاط رہنے کی ضرورت ہے جس کا حوصلہ آل راؤنڈر شکیب الحسن کی واپسی سے بلند ہوا ہے ۔شکیب فٹ نہیں ہونے کی وجہ سے پہلے تین میچ نہیں کھیل پائے تھے اور انہوں نے سری لنکا کے خلاف گزشتہ میچ میں واپسی کی۔ شکیب ایسے کھلاڑی ہیں جو اکیلے اپنے دم پر میچ کا رخ پلٹنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔بنگلہ دیش کی سری لنکا کے خلاف کرو یا مرو مقابلے میں کارکردگی قابل ستائش رہی تھی سری لنکا نے سات وکٹ پر 159 رن کا مشکل اسکور بنایا لیکن بنگلہ دیش نے 19.5 اوور میں آٹھ وکٹ پر 160 رن بنا کر فائنل میں رسائی حاصل کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT