Wednesday , December 13 2017
Home / دنیا / ہند۔پاک بات چیت کے احیاء میں امریکہ کا رول نہیں

ہند۔پاک بات چیت کے احیاء میں امریکہ کا رول نہیں

خطے کی کشیدگی ختم کرنے  پر زور ۔ امن مذاکرات کی رفتار اور وسعت طئے کرنا ہند۔پاک قائدین پر منحصر ۔ امریکہ کا موقف

واشنگٹن ، 25 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے ہند۔پاک بات چیت کے احیاء میں اپنے کوئی بھی رول کو واضح طور پر خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امن مذاکرات کی رفتار اور وسعت کے بارے میں فیصلہ کرنا دونوں ملکوں کے قائدین پر منحصر ہے۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان جان کربی نے گزشتہ روز اپنی روزانہ کی نیوز کانفرنس میں میڈیا والوں کو بتایا کہ اس خطے میں کشیدگیاں نمایاں ہیں۔ ہم اسے مانتے ہیں، اور ہمارا ماننا ہے یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ دونوں ملکوں کے قائدین یہ مذاکرات اور گفت و شنید کا احیاء کریں اور کوئی حل تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ کربی نے کہا کہ جو کچھ ہم نے بالخصوص کشمیر میں کشیدگی کے تعلق سے کہا ہے یہی کہ ہمارا موقف تبدیل نہیں ہوا ہے، اور یہ کہ اس مسئلے کی ہندوستان اور پاکستان کو یکسوئی کرلینے کی ضرورت ہے۔ وہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان قومی سلامتی مشیران کے درمیان بات چیت کے بارے میں سوالات کا جواب دے رہے تھے۔ یہ بات چیت لمحہ آخر میں اسلام آباد کی جانب منسوخ کردی گئی۔ کربی نے کہا کہ ہمیں تعمیری رابطے سے حوصلہ ملا۔ ہندوستان اور پاکستان کے قائدین کے درمیان اِس سال کے اوائل روس میں ابتدائی طور پر تعمیری رابطہ قائم ہوا تھا۔ ہمیں مایوسی ہوئی ہے کہ مجوزہ بات چیت کا انعقاد نہیں ہوا۔ ہم بس حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان عنقریب باقاعدہ مذاکرات کا احیاء عمل میں لائیں۔

کربی نے اعادہ کیا کہ امن مذاکرات کی رفتار اور گنجائش کے بارے میں فیصلہ کرنا دونوں ملکوں کے قائدین پر منحصر ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایسے مسائل ہیں کہ دونوں ممالک مل کر ان کی یکسوئی کرلیں، اور ہم بس بدستور یہی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کے قائدین کے درمیان مذاکرات کا احیاء ہوجائے۔ ’’ہم چاہتے ہیں کہ دونوں اقوام مل بیٹھیں اور آپس میں موجود مسائل کی یکسوئی کرلیں۔ ان میں سے بعض مسائل کا پُرتشدد انتہاپسندی سے تعلق ہے اور ان میں سے بعض کا نہیں ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں، لیکن یہ ایسے مسائل ہیں کہ دونوں فریقوں کو مل کر کوئی حل تلاش کرنا پڑے گا۔‘‘ یہ واضح کرتے ہوئے کہ دہشت گردی اور وہ خطرہ جو اس سے بدستور دنیا بھر میں پایا جاتا ہے، اس تعلق سے امریکی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے، کربی نے کہا کہ امریکہ پُرتشدد انتہاپسندی سے نمٹنے کے معاملے میں بدستور پابند عہد رہے گا، جس کیلئے قومی اقتدار اور جو کچھ ممکن ہو بین الاقوامی تعاون کے تمام عناصر کو بروئے کار لایا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ جب دنیا بھر میں دہشت گردی کے ازالہ کا معاملہ پیش آئے تو ظاہر ہے امریکہ کا رول ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ ہر کوئی اس معاملے میں اپنا رول ادا کرے، لیکن جب آپ مجھ سے ان مخصوص کشیدگیوں کے تعلق سے پوچھ رہے ہو تو ہمیں مایوسی ہوئی ہے کہ مجوزہ بات چیت منعقد نہیں ہوپائی اور ہم چاہیں گے کہ ان کا احیاء ہوجائے۔

TOPPOPULARRECENT