Friday , November 17 2017
Home / Top Stories / ہند۔پاک معتمدین خارجہ بات چیت پروگرام کے مطابق

ہند۔پاک معتمدین خارجہ بات چیت پروگرام کے مطابق

آرٹس کالج لاہور کی تقریب سے مشیربرائے اُمورخارجہ برائے وزیراعظم پاکستان سرتاج عزیز کی تقریر
لاہور۔10جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان نے آج کہا کہ معتمدین خارجہ سطح کی بات چیت ہندوستان کے ساتھ مقررہ پروگرام کے مطابق منعقد کی جائے گی اور پاکستان ہندوستان کے فراہم کردہ سراغوں پر کارروائی کررہا ہے ‘ جنہوں نے بات چیت کو جو 15 جنوری کو مقرر ہے ۔ اسلام آباد کے پٹھان کوٹ دہشت گرد حملہ کے بارے میں کارروائی سے مربوط کیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پٹھان کوٹ واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں جب کہ معتمدین خارجہ سطح کی ہند ۔ پاک بات چیت پروگرام کے مطابق منعقد کی جائے گی۔ وزیراعظم پاکستان نواز شریف کے مشیر برائے خارجی اُمور سرتاج عزیز نے آج کہا کہ دونوں ممالک کی بات چیت متاثر نہیں ہوگی ‘ تاہم انہوں نے اُس پیشرفت کا تذکرہ نہیں کیا جو ان کے ملک نے ہندوستان کے فراہم کردہ ثبوتوں پر کی ہے ۔ وہ ایک تقریب کے موقع پر جو نیشنل آرٹس کالج لاہور میں منعقد کی گئی تھی‘ تقریر کررہے تھے ۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے جو معتمدین خارجہ ہند۔ پاک کی بات چیت کے بارے میں تھا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسلام آباد میں 15 جنوری کو منعقد ہوگی ۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ ’’ میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ بات چیت بالکل محفوظ ہے اور حسب پروگرام منعقد ہوگی ‘‘ ۔ کل ہندوستان نے ذمہ داری پاکستان پر عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام آباد میں مذاکرات کا انحصار پٹھان کوٹ دہشت گرد حملہ کے سلسلہ میں بروقت اور فیصلہ کن کارروائی پر ہوگا ۔ اس کیلئے اُس نے قابل معافی کاسراغ فراہم کردیئے ہیں ۔ تاہم شوکت عزیز کا تیقن بات چیت کے انعقاد کے بارے میں کئی تجزیہ نگاروں کے بموجب ہندوستان کی جانب سے فراہم کردہ ثبوتوں پر تعین وقت کے ساتھ کارروائی کرنے کیلئے پاکستان کی آمادگی ظاہر کرتا ہے ۔ شوکت عزیز کو یقین ہے کہ ہند۔ پاک مذاکرات محفوظ ہیں اور پاکستان ہندوستان کے فراہم کردہ سراغوں پر پیشرفت کے سلسلہ میں پُراعتماد ہیں کہ یہ حسب پروگرام منعقد ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم سراغوں اور معلومات کے سلسلہ میں قانون کے مطابق کارروائی کریںگے ۔ روزنامہ ’ڈان‘ نے دفتر خارجہ کے عہدیدار کے حوالے سے خبر دی ہے کہ وزیراعظم پاکستان کی زیر صدارت دوسرا اجلاس منعقد کیا جاچکا ہے جس میں پٹھان کوٹ حملہ پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT