Sunday , July 22 2018
Home / Top Stories / ہند۔پاک کو ملکر غریبی سے لڑنے محبوبہ مفتی کامشورہ

ہند۔پاک کو ملکر غریبی سے لڑنے محبوبہ مفتی کامشورہ

جموں وکشمیر آگ کے درمیان پھنسا ہوا ہے ، سرحدی کشیدگی سے مسائل حل نہیں ہوںگے
جموں۔ 24جنوری۔( سیاست ڈاٹ کام ) جموں وکشمیر کی چیف منسٹر محبوبہ مفتی نے سرحدوں پر جاری کشیدگی کے خاتمے کیلئے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مضبوط اور دوستانہ تعلقات کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ کب تک دونوں ممالک کے عوام بے گھر اور فوجی قربانیاں دیتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر آگ کے بیچ میں پھنسا ہوا ہے۔ محبوبہ مفتی نے ان باتوں کا اظہار آج یہاں قانون ساز کونسل میں اراکین کی جانب سے سرحدی کشیدگی اور بنکروں کی تعمیر سے متعلق اٹھائے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں پڑوسی ممالک کو جنگ میں الجھنے کے بجائے اجتماعی طور پر غریبی سے لڑنا چاہیے ۔ وزیر اعلیٰ نے سرحدی آبادی کو درپیش مشکلات پر بات کرتے ہوئے کہا ’’مجھے افسوس ہورہا ہے اور شرم بھی آرہی ہے ۔ میں سمجھتی ہوں کہ ہمارا سر شرم سے جھک جاتا ہے ۔ جہاں ہمیں لوگوں کو اچھے اسپتال اور ایمبولینس گاڑیاں دینی چاہیں، وہاں بلٹ پروف ایمبولینس گاڑیوں کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔ بنکروں کی بات کررہے ہیں۔ اچھے اسکولوں کے بجائے اب ہمارے بچے ٹینٹوں میں پڑھ رہے ہیں۔ ان کا وقت ضائع ہورہا ہے ۔ ان کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہورہا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی کشیدگی کے نتیجے میں دونوں طرف کی سرحدی آبادی متاثر ہورہی ہے ۔انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ کب تک ہمارے فوجی سرحدوں پر قربانی دیتے رہیں گے ۔ کب تک ہمارے لوگ اپنے گھروں سے بے گھر ہوتے رہیں گے ۔ یہی حال سرحد کے دوسری طرف بھی ہوگا۔ وہاں بھی کوئی اچھی صورتحال نہیں ہوگی۔ وہاں بھی عام لوگ مررہے ہیں۔ وہاں سیٹی بجتی ہے تو لوگوں کو اپنے گھروں سے بھاگنا پڑتا ہے۔انھوںنے کہا کہ جموں وکشمیر آگ کے بیچ میں پھنسا ہوا ہے ۔ ان کا کہنا تھا دونوں طرف کے لوگ متاثر ہورہے ہیں۔ ہم بیچ میں پھنس گئے ہیں۔ ہماری سرحدیں پاکستان اور چین کے ساتھ ہیں۔ جموں وکشمیر آگ کے بیچ میں پھنسا ہوا ہے ۔ ہمارے لوگ اور بچے مر رہے ہیں۔ چیف منسٹر نے وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ انٹرویو کا تذکرہ کیا جس میں وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ملکوں کو اجتماعی طور پر غریبی سے لڑنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا ‘میں امید کرتی ہوں کہ ہمارے وزیر اعظم نے جو بیان دیا ہے ، پاکستان کی طرف سے اس کا مثبت ردعمل سامنے آئے گا۔

TOPPOPULARRECENT