Wednesday , December 13 2017
Home / مضامین / ہند۔پاک کے درمیان ’’ناک‘‘ کی جنگ

ہند۔پاک کے درمیان ’’ناک‘‘ کی جنگ

ظفر آغا
اب کوئی 70برس ہونے کو آرہے ہیں ہند و پاک بٹوارے کو لیکن اس طویل مدت نے بھی دونوں ملکوں کی شروع سے اب تک کی خونچکان داستاں پر کوئی فرق پیدا نہیں کیا۔ بیسویں صدی کی تاریخ دو ملکوں کے بٹوارے سے منسلک ہے۔ ایک فلسطین اور دوسرے برصغیر ہندوستان 1947 میں ہندوستان کے بٹوارے نے ہندو پاک دو الگ ملکوں کو جنم دیا اور 1949 میں فلسطین بٹ کر اسرائیل اور فلسطین میں تقسیم ہوگئے۔ تب سے اب تک دونوں ملکوں کی تاریخ خون سے رقم ہے اور دونوں ملکوں کے بٹوارے نے جو آپسی نفرت کا بیج بویا ہے وہ اب ایک سایہ دار درخت میں تبدیل ہوچکا ہے۔

بٹوارے انسانوں کی زندگیوں میں ایک کھائی پیدا کردیتے ہیں، قوموں کے بٹوارے محض کھائی ہی نہیں بلکہ دو قوموں کے درمیان عموماً ایک ایسی دیوار کھڑی کردیتے ہیں جس کو صدیوں میں بھی ڈھانا اکثر ممکن نہیں ہوتا۔ ہندو پاک کے درمیان ان دونوں جو جنگی ماحول بنا ہوا ہے وہ نہ صرف خطرناک ہے بلکہ حیرت ناک بھی ہے کیونکہ چند ماہ قبل نریندر مودی اور نواز شریف کے درمیان ایسا دوستانہ تھا کہ نواز شریف کی پچھلی سالگرہ پر جب مودی نے نواز شریف کو فون کرکے مبارکباد دی تو پاکستانی وزیر اعظم نے ہندوستانی وزیر اعظم کو گھر پر آنے کی دعوت دی اور مودی کابل سے فوراً  لاہور پہونچ گئے۔ ہند و پاک تاریخ میں دوستانہ طرز کی ایسی مثال اس سے قبل کبھی نظر نہیں آئی، اور پھر وہی مودی اور نواز شریف اب ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہورہے ہیں۔ سیاستدان تو خیر سیاست کے غلام ہوتے ہیں وہ مفاد کیلئے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ اب تو یہ حال ہے کہ ہندوستانی فلمیں پاکستان میں ممنوع اور پاکستانی آرٹسٹ ہندوستان میں ممنوع ہوچکے ہیں۔

اللہ رے یہ پاگل پن کبھی بند ہوگا کہ نہیں، آخر آئے دن یہ جنگی بگل ہندوپاک سرحد پر کیوں بج اٹھتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان نے تہہ دل سے پاکستان کے ساتھ اس کی خواہش ظاہر کی اور دوستی کا ہاتھ بھی بڑھایا۔ واجپائی لاہور گئے اور آخر کارگل ہوا۔ مودی بھی لاہور گئے اور پھر اڑی ہوا، کسی بھی ملک کے صبر و تحمل کی انتہا ہوتی ہے۔ 1977 سے اب تک چار جنگیں اور ممبئی، پٹھان کوٹ اور اڑی جیسے ان گنت دہشت گرد حملے جھیلنے کے بعد آخر سرجیکل اسٹرائیک ہوئی۔ اب ہندوستان کو لیجئے تو یہاں سرجیکل اسٹرائیک پر ہی سوالیہ نشان اُٹھ کھڑے ہوگئے۔ پہلے کانگریس کی جانب سے راہول گاندھی نے یہ بیان دے دیا کہ حکومت جوانوں کے ’’ خون کی دلالی ‘‘ کررہی ہے۔ ظاہر ہے کہ بی جے پی تلملا اُٹھی اور اس نے پلٹ کر راہول کو جی بھر کر بُرا بھلا کہا۔ چند دنوں کے اندر ہی اتر پردیش کے دو بڑے لیڈر یعنی مایاوتی اور اکھلیش یادو نے بھی یہ بیان دے ڈالا کہ ہندوپاک معاملے کا سیاسی استعمال نہیں ہونا چاہیئے لیکن بھلا یہ کیونکر ممکن ہے۔ چند مہینوں میں پنجاب اور اترپردیش جیسی ریاستوں کو ملا کر پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ بی جے پی کے پاس فی الحال کوئی اہم انتخابی موضوع نہیں ہے، اب پاکستان اور پاکستانی دہشت گرد ہی ایسا موضوع ہوسکتا ہے جس کے سہارے بی جے پی ان انتخابات میں اُٹھ کھڑی ہو۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ سیاستدان مفاد اور اقتدار کی سیاست کرتے ہیں ایسے میں بھلا بی جے پی سرجیکل اسٹرائیک کو آنے والے اسمبلی انتخابات میں اہم موضوع کیوں نہ بنائے۔ لیکن راہول، مایا اور اکھلیش کے تیور دیکھ کر لگتا ہے کہ اگر بی جے پی سرجیکل اسٹرائیک کو موضوع بناتی ہے تو پھر یہ تینوں اس سرجیکل اسٹرائیک پر سوالیہ نشان اٹھائیں گے۔ بھلے ہی سرجیکل اسٹرائیک ہوئی ہو اس پر انتخابات میں گہماگہمی رہے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے ریاستی انتخابات میں یہ سرجیکل اسٹرائیک کیا گُل کھلاتی ہے۔

اِدھر تو ہندوپاک دشمنی نے خود ملک کے اندر ہی انتخابی میدان کو گرمادیا ہے اور اُدھر پاکستان سے جو خبریں آرہی ہیں اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں سرجیکل اسٹرائیک کے معاملے پر پاکستانی فوج اور سیویلین حکومت کے درمیان تلواریں کھینچی ہوئی ہیں۔ ہوا یوں کہ پچھلے ہفتہ پاکستان کے مشہور انگریزی اخبار ’ ڈان ‘ میں یہ خبر شائع ہوئی کہ وہاں فوج اور نواز شریف حکومت کے اعلیٰ حکام کے درمیان ایک میٹنگ ہوئی جس میں آئی ایس آئی چیف اور نواز شریف کے بھائی اور پاکستانی صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے درمیان سرجیکل اسٹرائیک کو لے کر کافی توتو میں میں ہوگئی۔ اس خبر کے بعد اس صحافی کے خلاف حکومت نے انکوائری قائم کردی کہ آخر یہ معاملہ خبروں تک کیسے پہنچا۔ بہر کیف لب لباب یہ کہ سرجیکل اسٹرائیک کے بعد پاکستان کی بھی اندرونی سیاست گرماگئی اور وہاں فوج اور سیویلین نظام کے خلاف سردجنگ چھڑ گئی۔
اب آپ کی سمجھ میں آیا کہ ہندو پاک کے درمیان امن کیوں نہیں قائم ہوتا ہے۔ بات سیدھی سی ہے اور وہ یہ کہ بٹوارے نے دونوں ملکوں کی عوام کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف عدم اعتماد پیدا کردیا۔ پھر دونوں ملکوں کے درمیان خونی جنگیں ہوئیں جس نے ایک دوسرے کے درمیان خلیج اور بڑھادی۔ اب یہ حال ہے کہ ذرا ذرا سی بات پرتلواریں کھینچ جاتی ہیں اور دونوں طرف کے سیاستداں اور حکمراں اپنے اپنے عوام کے درمیان یہ ثابت کرنے میں مصروف رہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے اپنے ملک کی ناک اونچی کردی۔ یعنی بٹوارے کے بعد سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سب سے بڑی لڑائی ناک کی لڑائی ہے، اور جب بات ناک پر آجاتی ہے تو پھر جنگ محض ہندوپاک کے درمیان ہی نہیں رہ جاتی ہے بلکہ سرحد کے دونوں جانب بیٹھے حکمراں اس ناک کی جنگ کو اپنے اپنے اندرونی سیاسی حریف کے خلاف بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس لئے اس وقت سرجیکل اسٹرائیک کے بعد محض سرحد کے اندر گروہی جنگی ماحول نہیں ہے بلکہ دونوں ممالک کے اندر بھی ایک سیاسی رسہ کشی چل رہی ہے۔ ہندوستان میں سرجیکل اسٹرائیک ہوئی یا نہیں ہوئی یہ مودی اور مودی مخالف کیمپ کی لڑائی میں تبدیل ہوچکی ہے۔ ادھر پاکستان میں فوج اور نواز شریف حکومت آپس میں ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں مصروف ہیں اور یہ اندرونی جنگ جلد ختم ہونے والی نہیں ہے کیونکہ ہندوستان میں ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات کیلئے پانچ ماہ باقی ہیں اور ادھر جب تک یہاں جنگی ماحول ہے تو بھلا وہاں امن کیسے ہوسکتا ہے۔

اس لئے ہندو پاک تازہ جنگی سیریل میں ابھی کتنے ایپی سوڈ اور ہوں گے یہ کہنا مشکل ہے۔ ہاں یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ ساس۔ بہو تھیم سیریل کی طرح ہندوپاک جنگی سیریل بھی جلد ختم نہ ہونے والا سیریل ہے کیونکہ سرحد کی دونوں جانب اس سیریل کی ٹی آر پی بہت ہائی ہوتی ہے جس سے دونوں جانب حکمرانوں کو بہت فائدہ ہوتا ہے اس لئے سرجیکل اسٹرائیک سیریل میں ابھی اور کیا کیا موڑ آتے ہیں اس کا انتظار کیجئے اور اس سیریل کو کم از کم ہندوستان میں عنقریب ہونے والے اسمبلی انتخابات تک دیکھتے رہیئے۔  اور اگر یہی حال رہا تو 70برس تو کیا سات صدیوں تک ہند۔ پاک جنگی سیریل چلتا ہی رہے گا۔

TOPPOPULARRECENT