Tuesday , June 19 2018
Home / Top Stories / ہند۔ امریکہ تعلقات آسمان کی بلندیوں کو چھولیں گے : نکی ہیلی

ہند۔ امریکہ تعلقات آسمان کی بلندیوں کو چھولیں گے : نکی ہیلی

ہند ۔ امریکہ مشترکہ اقدار، مودی کی معاشی اصلاحات کی ستائش ،ہندوستانی سفیر متعینہ امریکہ نوتیج سنگھ سرنا کے ظہرانہ میں شرکت

واشنگٹن ۔ یکم ؍ فروری (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر نکی ہیلی نے آج ایک بار پھر اپنے آقا امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ موصوف ہند ۔ امریکہ کی بڑھتی ہوئی دوستی پر بیحد خوش ہیں اور اب تو ان کی خوشی اور جوش و خروش دیکھتے ہوئے ایسا کہنا پڑتا ہے کہ ’’آسمان پر ہی جاکے رکے گی یہ دوستی‘‘۔ حالیہ دنوں میں ہند ۔ امریکہ کے دورخی تعلقات نے جو رخ اختیار کیا ہے اس نے دیگر امریکہ مخالف ممالک کو بھی تشویش میں مبتلاء کردیا ہے۔ اس موقع پر نکی ہیلی نے ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کی بھی زبردست ستائش کی۔ یاد رہیکہ نکی ہیلی خود بھی ہندوستانی نژاد امریکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں معاشی اصلاحات کے نفاذ کیلئے مودی جی نے جو جارحانہ موقف اختیار کیا ہے وہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ نکی ہیلی نے یہ بات ایسے چنندہ ہندوستانی نژاد امریکیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے بھی معاشی اصلاحات کے نفاذ کیلئے مودی جی کی طرح سخت موقف اختیار کیا ہے۔ اب یہ بات ببانگ دہل کہی جاسکتی ہیکہ دنیا کی دو عظیم تر جمہوریتوں میں ڈھیر ساری قدر مشترکہ موجود ہیں۔ ہندوستانی سفیر متعینہ امریکہ نوتیج سنگھ سرنا کی جانب سے ترتیب دیئے گئے ظہرانہ میں نکی ہیلی نے شرکت کی تھی جس کا کافی عجلت میں اہتمام کیا گیا تھا لیکن اسکے باوجود اس میں متعدد اعلیٰ سطحی ہندوستانی نژاد امریکیوں نے شرکت کی۔ قبل ازیں نوتیج سنگھ سرنا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ نکی ہیلی کو اپنے ہندوستانی ہونے پر فخر ہے اور وہ آج بھی اپنی جڑوں سے جڑی ہوئی ہیں اور یہی وجہ ہیکہ ہند ۔ امریکہ دورخی تعلقات کو ایک نیا رخ دینے کیلئے نکی ہیلی نے اہم ترین رول ادا کیا ہے۔ ہیلی نے اس موقع پر ایک بہت ہی چبھتی ہوئی بات کہی کہ جس وقت وہ ٹرمپ انتظامیہ میں شامل ہوئیں، انکی بس یہی ایک خواہش تھی کہ وہ ہند ۔ امریکہ تعلقات کو عروج کی نئی بلندیوں پر دیکھنا چاہتی تھیں۔ ایسے تعلقات جو اس سے قبل امریکہ کے دو صدور کے زمانے میں نہیں رہے۔ اگر ہم دونوں ممالک کے اقدار کی جانب دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ یہ یکساں ہیں، جس نوعیت کے کام آج دونوں ممالک میں کئے جارہے ہیں وہ بھی یکساں ہیں۔

TOPPOPULARRECENT