Tuesday , January 23 2018
Home / دنیا / ہند۔ روس باہمی تعلقات کے پورے منظر نامے کا جامع جائزہ

ہند۔ روس باہمی تعلقات کے پورے منظر نامے کا جامع جائزہ

دشانبے (تاجکستان )12 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان اور روس نے آج اپنے باہمی تعلقات بشمول دفاع برقی توانائی، صیانت، تجارت اور سرمایہ کاری کے باہمی تعلقات کے پورے منظر نامہ کا جائزہ لیا اور اتفاق کیا کہ حکمت عملی اور آزمودہ تعلقات میں نیا جوش اور ولولہ پیدا کیا جائے گا۔ایس سی او کی سالانہ چوٹی کانفرنس کے موقع پر علحدہ طور پر ایک ملاقا

دشانبے (تاجکستان )12 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان اور روس نے آج اپنے باہمی تعلقات بشمول دفاع برقی توانائی، صیانت، تجارت اور سرمایہ کاری کے باہمی تعلقات کے پورے منظر نامہ کا جائزہ لیا اور اتفاق کیا کہ حکمت عملی اور آزمودہ تعلقات میں نیا جوش اور ولولہ پیدا کیا جائے گا۔ایس سی او کی سالانہ چوٹی کانفرنس کے موقع پر علحدہ طور پر ایک ملاقات میں وزیر خارجہ سشما سواراج اور وزیر خارجہ روس سرجی لاؤ روف نے یوکرین، عراق، افغانستان کی صورتحال اور صدر روس ولادیمیر پوٹین کے جاریہ سال کے اواخر میں دورہ ہند پر تفصیلات سے بات چیت کی۔ معاشی تعاون اور برقی توانائی کے تحفظ کے علاوہ مختلف مشترکہ پراجکٹس پر عمل آوری پر سواراج اور لاؤ روف نے مکمل طور پر غور کیا۔ لاو روف نے امید ظاہر کی کہ ہندوستان میں نئی حکومت کے تحت باہمی تعلاقت میں مزید اضافہ ہوگا۔ دونوں قائدین کا احساس تھا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کئی شعبوں بشمول تجارت ،سرمایہ کاری ،برقی توانائی اور دفاع کے شعبوں میں مزید اضافہ کئے جاسکتے ہیں۔ روس امکان ہے کہ ہندوستان اور چین جیسے ممالک کے ساتھ مزید گہرے تعلقات قائم کرنا چاہے گا کیونکہ اس کے خلاف یوکرین کے علحدگی پسندوں کی تائید کی وجہ سے تحدیدات عائد کردی گئی ہیں۔ سشما سواراج اور لاؤ روف نے وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر پوٹن کے جاریہ سال دورہ کے موقع پر سالانہ چوٹی کانفرنس کی تیاریوں پر بھی بات چیت ہوئی۔ امکان ہے کہ دونوں ممالک اس موقع پر دفاعی شراکت داری میں مزید توسیع کا اعلان کریں گے ۔روس کے ساتھ تعلقات ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا ایک کلیدی ستون ہے ۔ مودی۔ پوٹن چوٹی کانفرنس کے ذریعہ دونوں ممالک کی دفاعی شراکت داری میںمزید استحکام ممکن ہے تاحال ہندوستان اور روس کے درمیان 14 سالانہ چوٹی کانفرنسیں منعقد ہوچکی ہیں ۔ آخری چوٹی کانفرنس 21 اکٹوبر 2013 کو ماسکو میں منعقد ہوئی تھی جبکہ وزیر اعظم ہند منموہن سنگھ نے روس کا دورہ کیا تھا۔ دونوں قائدین نے افغانستان کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا کیونکہ ناٹو افواج جاریہ سال کے ختم پر افغانستان کا تخلیہ کردیں گی۔

TOPPOPULARRECENT