Wednesday , September 19 2018
Home / دنیا / ہند۔ پاک بات چیت کے احیاء کو امریکی تائید

ہند۔ پاک بات چیت کے احیاء کو امریکی تائید

واشنگٹن۔ 3 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے کہا کہ وہ ہند ۔ پاک بات چیت کے احیاء کی تائید کرتا ہے لیکن پیشرفت اور صیانتی مسائل پر تبادلہ خیال کے بارے میں فیصلہ کرنا دونوں ممالک کا کام ہے۔ امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستان کے نامزد امریکی سفیر رچرڈ ورما نے کہا کہ حال ہی میں سارک چوٹی کانفرنس کے دوران ہندوستا

واشنگٹن۔ 3 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے کہا کہ وہ ہند ۔ پاک بات چیت کے احیاء کی تائید کرتا ہے لیکن پیشرفت اور صیانتی مسائل پر تبادلہ خیال کے بارے میں فیصلہ کرنا دونوں ممالک کا کام ہے۔ امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستان کے نامزد امریکی سفیر رچرڈ ورما نے کہا کہ حال ہی میں سارک چوٹی کانفرنس کے دوران ہندوستان اور پاکستان کے قائدین نے مصافحہ کیا تھا جس کے نتیجہ میں توانائی، موٹر ویس اور ریل کارس کے معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں عوام سے عوام کے تعلقات میں علاقائی روابط کی وجہ سے اضافہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور چین کے درمیان صحت مند تعلقات امریکہ کے مفاد میں ہے۔ ہندوستان کے لئے امریکہ کے نامزد سفیر رچرڈ راہول ورما نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے پڑوسی ممالک سے بہتر تعلقات کے سلسلے میں مثبت پہل کی ہے۔ امریکہ کی طرح ہندوستان کے چین کے ساتھ تعلقات میں تعاون اور مسابقت کے دونوں پہلو بیک وقت شامل ہیں، لیکن وزیراعظم نریندر مودی نے شخصی طور پر کہا کہ وہ چین کے ساتھ بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں۔ یہ ہمارے مفاد میں بھی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات صحت مند برقرار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہند چین تعلقات کی مسابقتی نوعیت کا علاقائی ممالک کی جانب سے استحصال کیا جارہا ہے تاکہ ان کے حق میں امدادی پیاکیج حاصل ہوسکیں جس سے ان کی ترقی کو مدد مل سکے۔ پینٹگان کے ایک اعلیٰ عہدیدار ایڈمیرل ہیری ہیرس نے جو امریکی بحرالکاہل کمان کے سربراہ نامزد کئے گئے ہیں، کہا کہ موجودہ ہند ۔ چین تعلقات پیچیدہ ہیں جس کی وجہ اعتماد کا فقدان ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض علاقائی ممالک ہند ۔ چین تعلقات کا استحصال کرنا چاہتے ہیں تاکہ انہیں زیادہ سے زیادہ مدد حاصل ہوسکے، تاہم انہوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا۔ ہیرس نے کہا کہ سرحدی تنازعہ ، تجارتی عدم توازن اور مسابقت پورے جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں جاری ہے جس کی وجہ سے عدم اعتماد میں کمی کرنے کی کوششیں متاثر ہورہی ہیں اور آخر کار صیانت اور علاقائی استحکام متاثر ہورہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT