Thursday , December 13 2018

ہند۔ پاک مذاکرات کے احیاء کیلئے ہندوستان کی جانب سے شرائط

اسلام آباد 2 جون (سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان نے آج مذاکرات کے احیاء کیلئے شرائط عائد کرنے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ’’مذاق‘‘ ہے ۔ جب ہندوستان خطہ قبضہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور عملی سرحد پر بھی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ بے بس کشمیریوں پر ’’ہندوستانی مقبوضہ کشمیر‘‘ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جارہ

اسلام آباد 2 جون (سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان نے آج مذاکرات کے احیاء کیلئے شرائط عائد کرنے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ’’مذاق‘‘ ہے ۔ جب ہندوستان خطہ قبضہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور عملی سرحد پر بھی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ بے بس کشمیریوں پر ’’ہندوستانی مقبوضہ کشمیر‘‘ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں اور حکومت ہند پاکستان میں مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں تو پاکستان سے خواہش کرنا کہ تشدد سے پاک ماحول فراہم کیا جائے ایک ’’مذاق‘‘ معلوم ہوتا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے وزیر خارجہ ہندوستان سشما سوراج کی جانب سے ہند۔ پاک مذاکرات کے احیاء کیلئے تین شرائط پیش کرنے کے چند دن بعد منظر عام پر آیا ہے ۔ ان شرائط میں ’’دہشت گردی اور تشدد سے پاک‘‘ ماحول فراہم کرنا خاص طور پر ایک نقیب کے طور پر جس کے نتیجہ میں پاکستان کے ساتھ بات چیت کی جاسکے ‘ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ اور لشکر طیبہ کے کمانڈر ذکی الرحمن لکھوی کے خلاف کارروائی جنہیں ممبئی حملہ مقدمہ میں عدالت کا سامنا درپیش ہے‘ پیش کی تھیں ۔ وزارت خارجہ کے دفتر سے جاری کردہ تفصیلی یاد دہانی کے بعد سرتاج عزیز نے حالیہ ہندوستانی پالیسی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ہندوستان کے وزیر دفاع منوہر پاریکر نے توثیق کی ہے کہ پاکستان کے اندیشے دہشت گردی میں ہندوستان کے ملوث ہونے کے بارے میں بالکل درست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرتاج عزیز کا تبصرہ انتہائی حیرت انگیز ہے کیونکہ کئی ارب ڈالر مالیتی پاکستان ۔ چین معاشی راہداری اس کیلئے ’’قابل قبول ‘‘ نہیں ہے اور کہا کہ یہ میگا پراجکٹ تمام تر علاقائی ربط اور معاشی ترقی و خوشحالی کے بارے میںہیں جو پورے علاقائی عوام کو حاصل ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستانی بیانات اور ان کے اعلانات علاقائی ربط اور ترقی کی اہمیت کے بارے میں اور سی پی ای سی کے بارے میں اُن کے منفی تبصرے ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔ سرتاج عزیز نے کہا تھا کہ پاکستان ایک پالیسی برقرار رکھے ہوئے ہے جو دیگر ممالک میں عدم مداخلت کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی یہ پالیسی تمام دیرینہ تنازعات خاص طور پر جموں و کشمیر کے مسئلہ کے سلسلہ میں بھی ہے ۔ ان تمام مسائل کو مذاکرات کے ذریعہ حل کرلینا چاہئے ۔ اس کی اطلاع ہندوستان کو بھی دی جاچکی ہے کہ وہ مذاکرات کاپابند ہے بشرطیکہ ہندوستان اس کیلئے تیار ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو یقین ہے کہ ایک پایہ دار ‘جامع اور نتیجہ خیز مذاکرات مسئلہ کی یکسوئی کرسکتے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو یقین ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام مسئلہ کشمیر کی قطعی یکسوئی کے اہم فریق ہیں اور جب وہ استصواب عامہ کا حق استعمال کرچکے ہیں اسی وقت سے یہ تنازعہ برقرار ہے جبکہ اقوام متحدہ کی قرار داد میں استصواب عامہ کے مطالبہ کو تسلیم کیا گیا تھا ۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کا نظریہ تمام پڑوسی ممالک بشمول ہندوستان کے ساتھ بہتر تعلقات کا ہے ۔ اسی جذبہ کے تحت نواز شریف نے وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں گذشتہ سال شرکت کی تھی ۔ سرتاج عزیز نے ہندوستان پر الزام عائد کیاکہ اسے پاکستان کا سست رفتار پروگرام ممبئی حملہ کے مقدمہ کے سلسلہ میںجو لشکر طیبہ کے کمانڈر لکھوی اور دیگر کے خلاف جاری ہے ‘ناقابل قبول ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان عدالتی کمیشن کو دورہ ہند کی اجازت نہیں دینا چاہتا ۔ ہندوستان کو اندیشہ ہے کہ سست رفتار مقدمہ پاکستان کے تعاون میں کمی کا نتیجہ ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تاخیر پاکستانی عدالتی کمیشن کو ستمبر 2013 تک بھی ہندوستان نے دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی تھی اور یہ تاخیر اسی کی وجہ سے ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقدمہ کی کارروائی عدالت میں جاری ہے ۔ سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان اپنے اندیشے ظاہر کرچکا ہے جبکہ ہندوستانی فوج کے اعلی عہدیداروں کے ساتھ پاکستانی فوجی عہدیداروں کی ملاقات ہوئی تھی اور باہم تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT