Wednesday , November 21 2018
Home / دنیا / ہند و پاک اور برازیل میں منعقد شدنی انتخابات کا تحفظ فیس بک کی اولین ترجیح

ہند و پاک اور برازیل میں منعقد شدنی انتخابات کا تحفظ فیس بک کی اولین ترجیح

ذکر برگ کا وعدہ ، جھوٹی خبریں اور افواہوں کا پتہ چلانے مصنوعی انٹلیجنس آلات کی تنصیب
میانمار میں روہنگیا ئی مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیزی کو ہوا دینے فیس بک کے رول کا اعتراف

واشنگٹن۔ 11 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) فیس بک کے بانی اور سی ای او مارک ذکربرگ نے آج اس بات کا دفاع کیا کہ دہشت گرد پروپگنڈہ کو ہٹانے کے لئے کچھ سنسرشپ ضرور ہونی چاہئے۔ یاد رہے کہ امریکی قانون سازوں نے سوشیل میڈیا کے فیس بک پر سیاسی سنسرشپ اور جانبداری کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ری پبلیکن کے اعلیٰ سطحی سینٹر ٹیڈکروز نے اس جانب توجہ دلاتے ہوئے 2016ء کے واقعات کی یاد دہائی کروائی۔ ذکربرگ نے کہا کہ آپ کو یہ سمجھنا چاہئے کہ فیس بک سرویس سے دہشت گرد پروپگنڈہ کو ہٹا دینا ایک دانشمندانہ قدم ہوگا۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ ایک ناپسندیدہ سرگرمی ہوگی۔ ذکربرگ نے کہا کہ ایسا کرنے پر ہم کبھی کبھی فخر بھی محسوس کرتے تھے کہ دیکھو ہماری کارکردگی کتنی اچھی ہے جس پر رشک کیا جاسکتا ہے۔ ذکربرگ نے یہ جملے امریکی کانگریس کے روبرو پیش ہونے کے بعد کہے کیونکہ کیمبرج انالیٹیکا کے ذریعہ ڈیٹا کے افشاء پر انہیں امریکی کانگریس کی جانب سے سخت برہمی کا سامنا کیا تھا۔ کل کیپٹل ہل میں سخت سکیورٹی کے دوران ذکربرگ نے اپنے بیانات قلمبند کروائے ۔ یاد رہے کہ مارچ کے مہینے میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ 2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران برطانوی فرم کیمبرج انالیٹیکا نے 87 ملین فیس بک صارفین کے ڈیٹا حاصل کرلئے تھے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ ذکربرگ نے کچھ ایسے دعوے کئے ہیں جن پر اعتماد کرنا وقت کا تقاضہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میانمار میں کی گئی نفرت انگیز تقریروں سے اب بہتر طور پر نمٹا جائے گا۔ ذکربرگ سے امریکی قانون سازوں نے بالکل وکیلوں کی طرح جرح کی تھی اور تقریباً ہر سوال کا جواب دینے کے لئے انہیں مجبور ہونا پڑا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ذکربرگ کو پہلے ہی انتباہ دیا گیا تھا کہ وہ جو کچھ کہیں سچ کہیں ورنہ امریکی کانگریس کو سچ تک رسائی حاصل کرنا معلوم ہے۔ فیس بک پر یہ الزام تھا کہ روہنگیائی مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی کی فیس بک نے خوب تشہیر کی تھی جس سے ساری دنیا کو غلط پیغام ملا۔ جب سینیٹر پیٹرک لیہی نے ان سے یہ پوچھا کہ روہنگیائی مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی کوہوا دینے میں فیس بک کا بھی اہم رول ہے تو ذکربرگ نے جواب دیا کہ اس وقت ہمیں میانمار کے المناک واقعہ پر صرف افسوس نہیں بلکہ اس کی روک تھام کے لئے زیادہ سے زیادہ کچھ کرنا چاہئے۔ اب ذکربرگ کے بارے میں یہ کہا جائے کہ اونٹ پہاڑ کے نیچے آگیا ہے تو بیجا نہ ہوگا۔ فیس بک کو اب اس بات کا پابند بنانا ہوگا کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں منعقد شدنی انتخابات پر اثرانداز ہونے کی کوشش نہیں کرے گا جس میں ہندوستان بھی شامل ہے۔ 2019ء میں ہندوستان میں عام انتخابات منعقد شدنی ہیں اور اگر اس وقت وہاں بھی 2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ خودکشی کے مترادف ہوگا۔ اپنی پیشی کے دوران ذکربرگ نے یہ بھی کہا کہ انہیں اس بات کا سب سے زیادہ افسوس ہے کہ 2016ء میں روسی انفارمیشن آپریشن کی شناخت کرنے میں تاخیر ہوئی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT