Wednesday , September 19 2018
Home / ہندوستان / ہند ۔بنگلہ اراضی سرحدی بل راجیہ سبھا میں دوبارہ منظور

ہند ۔بنگلہ اراضی سرحدی بل راجیہ سبھا میں دوبارہ منظور

مسودے کی تیاری میں غلطی‘اپوزیشن جماعتوں کا اعتراض‘حکومت کو احتیاط برتنے کا مشورہ

مسودے کی تیاری میں غلطی‘اپوزیشن جماعتوں کا اعتراض‘حکومت کو احتیاط برتنے کا مشورہ
نئی دہلی 11 مئی (سیاست ڈاٹ کام ) تاریخی ہند۔ بنگلہ دیش اراضی سرحدی معاہدہ بل کو جس کی تیاری میں چند غلطیاں تھیں‘ آج راجیہ سبھا میں دوبارہ منظور کیا گیا ۔ یہ بل انہی(مسودے کی) غلطیوں کے ساتھ گذشتہ ہفتہ پارلیمنٹ میں منظور کیا گیا تھا۔ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دوبارہ اس طرح کی غلطیوں سے احتراز کرے ۔ دستوری (119ویں ترمیم )بل کے ذریعہ 1974ہند۔ بنگلہ دیش اراضی سرحدی معاہدہ کو قابل عمل بنایا گیا ہے ۔ یہ بل گذشتہ ہفتہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوان میں متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا لیکن اس بل میں بعض مسودے کی غلطیاں رہ گئیں اس لئے دوبارہ منظور کرانا پڑا ۔ سرکاری ترمیم کو مختصر عنوان کے تحت ایوان میں پیش کیا گیا لیکن بل کے شیڈول میں اس ترمیم کی صراحت نہیں کی گئی تھی۔ اسے 119 ویں ترمیمی بل 2013 کی حیثیت سے متعارف کیا گیا جبکہ اسے 100 ویں ترمیمی ایکٹ 2015 کے طور پر منظور کیا جاناچاہئے تھا ۔ یہ بل وزیر امور خارجہ سشما سوراج کی جانب سے پیش کئے جانے کے 15 منٹ بعد منظور کرلیا گیا ۔ قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے کہا کہ یہ ایوان کیلئے انتہائی افسوسناک پہلو ہے ۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ اس کا تعلق بین الاقوامی معاہدوں سے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ عہدیداروں کو بلز کے مسودے کی تیاری میں احتیاط برتنی چاہئے تا کہ ایسی غلطی کا اعادہ نہ ہو ۔ سیتا رام یچوری (سی پی آئی ایم ) نے کہا کہ یہ حکومت کیلئے ایک طرح کا انتباہ ہے ۔ سشما سوراج نے بتایا کہ یہ بل لوک سبھا میں ضروری ترمیمات کے ساتھ منظور کیا گیا چنانچہ راجیہ سبھا میں ایک بار پھر آج متعارف کیا جارہا ہے ۔ ہمیں یہ اندازہ تھا کہ دیگر ترمیمات کے ساتھ ساتھ اس بل کو بھی منظورکرلیا جائے گا لیکن جب لوک سبھا میں یہ بل پیش کیا گیا اس وقت ایوان میں تین ترمیمات کیلئے اصرار کیا جانے لگا اس لئے آج راجیہ سبھا میں پیش کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے دونوں ایوان میں متفقہ طور پر بل منظور کرنے کی ستائش کی ۔ اس بل کے تحت ہندوستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ 41 سالہ قدیم سرحدی مسئلہ حل کیا جائے گا اور اس کے ذریعہ سرحدی معاہدہ کو قابل عمل بنانے کے ساتھ ساتھ اس کی توثیق کی راہ ہموار ہوگی ۔ اس بل میں علاقوں کے تبادلے کی بھی سہولت فراہم کی گئی ہے ۔معاہدہ کے تحت ہندوستان 510 ایکر حاصل کرلے گا جبکہ بنگلہ دیش 10000 ایکر حاصل کرے گا۔ اس اقدام کے نتیجہ میں سرحدی تنازعہ کی یکسوئی ہوگی اور غیر قانونی مداخلت کاری پر کنٹرول کیا جاسکے گا ۔ آج بل میں کی گئی غلطی کا پتہ چلنے پر نائب صدر حامد انصاری جو راجیہ سبھا صدر نشین بھی ہیں ‘ کافی برہم نظر آرہے تھے کیونکہ متعلقہ عہدیداروں نے بروقت اس غلطی کو درست نہیں کیا ۔

TOPPOPULARRECENT