Sunday , November 19 2017
Home / سیاسیات / ہند ۔ امریکہ دفاعی تبادلے معاہدہ ، کانگریس اور بائیں بازو کی مخالفت

ہند ۔ امریکہ دفاعی تبادلے معاہدہ ، کانگریس اور بائیں بازو کی مخالفت

این ڈی اے حکومت کا اقدام انتہائی خطرناک اور قوم دشمن : بایاں بازو ۔ ملک بتدریج اپنی آزادی کھودے گا : کانگریس
نئی دہلی۔ 13 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کے ساتھ حکومت کے دفاعی تبادلے معاہدہ پر دستخط کرنے کے فیصلہ کی کانگریس نے آج مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’’تباہ کن‘‘ ہوگا اور ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی آزادی پر ضرب لگے گی جبکہ بائیں بازو کی پارٹیوں نے اسے ’’خطرناک اور قوم دشمن‘‘ قرار دیا۔ این ڈی اے حکومت کے فیصلہ پر کہ دفاعی تبادلے معاہدہ پر دستخط کئے جائیں گے۔ کانگریس پارٹی کے سینئر قائد اے کے انٹونی نے جو یو پی اے، دور حکومت میں وزیر دفاع تھے، کہا کہ یہ تباہ کن فیصلہ ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ اس فیصلہ سے دستبرداری اختیار کرے اور اس پر دستخط نہ کرے۔ دیگر بنیادی معاہدوں پر بھی دستخط نہ کئے جائیں جبکہ بائیں بازو نے اسے ہندوستان کی خارجہ اور دفاعی خودمختاری کا خاتمہ قرار دیا۔ بائیں بازو کی پارٹیوں نے حکومت پر تنقید کی کیونکہ اس نے دفاعی تبادلے معاہدۂ مفاہمت پر امریکہ کے ساتھ دستخط کرنے سے اُصولی طور پر اتفاق کرلیا ہے۔ انہوں نے اسے خطرناک قوم دشمن اقدام قرار دیتے ہوئے اس سے فوری دستبرداری کا مطالبہ کیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت حدود سے تجاوز کررہی ہے۔ اس اقدام کے ذریعہ جس سے کسی بھی دوسری حکومت نے گریز کیا تھا، کیونکہ اس سے ہماری خودمختاری اور آزادی ختم ہوجاتی ہے، این ڈی اے حکومت نے اتفاق کرلیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ نریندر مودی ہندوستان کو مکمل طور پر امریکہ کا دفاعی حلیف بنا رہے ہیں اور ملک کی دفاعی خودمختاری کی قیمت پر سمجھوتے کررہے ہیں۔ کمیونسٹ پارٹیوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت میں شفافیت نہیں ہیں۔

وہ ایسے اہم پالیسی معاملات میں شفافیت اختیار نہیں کررہی ہے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لے رہی ہے۔ انہوں نے جاننا چاہا کہ یہ معاہدہ حکومت کی مایوسی اور امریکہ کی خوشامد تو نہیں ہے، کیونکہ یہ اقدام حکومت نے رضاکارانہ طور پر کیا ہے۔ مودی حکومت نے خطرناک اقدام کرتے ہوئے اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے جس کی آزادی سے اب تک کسی بھی دوسری حکومت نے جرأت نہیں کی تھی۔ سی پی آئی ایم کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان اور امریکہ نے منگل کے دن اُصولی اعتبار سے دفاعی تبادلہ معاہدہ پر دستخط کرنے سے اتفاق کرلیا ہے جس کے تحت دونوں ممالک کی افواج ایک دوسرے کے دفاعی اثاثہ جات اور اڈوں کو استعمال کرسکیں گے تاکہ ان کی تعمیر و مرمت اور تزئین و آرائش کی جاسکے۔ علاوہ ازیں سربراہی کا کام انجام دیا جاسکے۔ وزیر دفاع منوہر پاریکر اور ہندوستان کا دورہ کرنے والے وزیر دفاع امریکہ ایشٹن کارٹر نے تاہم واضح کردیا ہے کہ یہ معاہدہ جس پر آئندہ چند ہفتوں یا مہینوں میں دستخط ہوجائیں گے، امریکی فوج کو ہندوستان کی سرزمین پر تعینات کرنے کی گنجائش نہیں رکھتا۔ کانگریس کے سینئر قائد و سابق وزیر دفاع اے کے انٹونی نے پرزور انداز میں کہا کہ اس معاہدہ پر دستخط کے نتیجہ میں ہندوستان بتدریج امریکی فوجی بلاک سے وابستہ ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب یو پی اے برسراقتدار تھی، تو ہندوستان نے ایسی تجاویز کی بھرپور مزاحمت کی تھی۔ ہندوستان کے تعلقات روایتی طور پر سوویت یونین اور اب روس کیساتھ ابتداء ہی سے رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT