Wednesday , August 22 2018
Home / اداریہ / ہند ۔ آسیان چوٹی کانفرنس

ہند ۔ آسیان چوٹی کانفرنس

جنوب مشرق ایشیائی ممالک کی اسوسی ایشن نے اپنے قیام کے 55 سال مکمل کئے ہیں مگر ان برسوں میں رکن ممالک کے اندر ترقی ‘ خوشحالی اور امن کے مسائل پر ہر مرتبہ غور و خوض ہوتاہے ۔ آسیان ملکوں کو یاد دلایاجاتا ہے ک امن کے لئے ضروری ہے تمام ممالک کو مل دہشت گردی کے خلاف کمربستہ ہونا ہے ۔ اس مرتبہ بھی وزیراعظم کی حیثیت سے نریندر مودی نے آسیان ۔ ہند چوٹی کانفرنس کی توجہ دہشت گردی سے ہندوستان کے شدید متاثر ہونے کی جانب مبذول کروائی ۔ بلاشبہ ان ملکوں کے گروپ میں شامل تھائی لینڈ ‘ ویتنام ‘ انڈونیشیاء ‘ ملایشیاء ‘ فلپائن ‘ سنگاپور ‘ماینمار ‘ کمبوڈیا ‘ لاوس ۔۔اور بیرونی کو باہمی تعاون میں مزید استحکام پیدا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ گذشتہ 50 برس کے دوران ان رکن ممالک نے ہر شعبہ میں ترقی کے لئے فخریہ کام کیا ہے تو انہیں دیگر امور پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے خاص کر دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کو شروع کیا جانا چاہئے ۔ خطہ کے لئے سیکوریٹی ڈھانچہ کی بنیاد پر آسیان کی حمایت کو برقرار رکھا جائیگا تو بلا شبہ اس لعنت کو ختم کرنے میں مدد ملے گی ۔ آسیان میں ہندوستان کو اس کا خصوصی مقام صرف ایکٹ ایسٹ پالیسی کی بنیاد حاصل ہے ۔ آسیان کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات دیرینہ ہیں ۔125 کروڑ آبادی والے ملک ہندوستان کے ساتھ آسیان ملکوں کی دوستی اور باہمی مفادات کے حامل معاملوں کو مزید موثر مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تو دہشت گردی کے خراب عنصر کو فوری دور کرنا بھی لازمی ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی کا دورہ فلپائن اور آسیان ۔ ہند چوٹی کانفرنس میں شرکت ایسٹ ایشیائی چوٹی کانفرنس کے علاوہ علاقائی جامع معاشی شراکت داری امور پر تبادلہ خیال نے ہندوستان کو ایشیائی خطہ میں مرکزی توجہ کا حامل ملک بنا دیا ہے ۔ اب اس کو ایشیاء میں انڈر پیسفک کے نام معنون کیا گیا ہے تو ہندوستان کو عالمی سطح پر مزید رسائی حاصل ہوگی ۔ سیاسی حکمت عملی اور معاشی سطح پر ہندوستان کی ایسٹ پالیسی کارگر ثات ہونے کی توقع کی جاتی ہے ۔ آسیان کے 10 ملکوں میں ہندوستان کے عالمی تجارت کا 11 فیصد حصہ تجارت ہوتی ہے اس لئے گذشتہ چند سال سے ہندوستان میں آسیان کے ’’پلس سکس ‘‘ میں شامل ہوا ہے ۔ ان میں چین ‘ جاپان ‘ جنوبی کوریا ‘ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ شامل ہیں ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے آسیان چوٹی کانفرنس کے موقع پر جہاں امریکہ کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے وہیں جاپان ‘ آسٹریلیا اور ویتنام کے قائدین سے باہمی مذاکرات کے ذریعہ ہندوستان کے مختلف حکمت عملی پر مبنی مفادات کو پیش کرنے میں کامیاب بھی دکھائی دیئے ہیں لیکن ان خوشگوار ملاقاتوں میں انہوں نے پڑوسی ملکوں خاص کر پاکستان کو اس کی غلطیوں کی جانب توجہ دلاتے ہوئے دہشت گردی پر قابو پانے میں ناکامی کا تذکرہ کیا ۔ اور ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ اگر علاقائی سیکوریٹی ‘ تجارت اور معیشت کے علاوہ دہشت گردی جیسے مسائل کو حل کرنے میں غیر جانبدارانہ کوشش کی جائے تو اس کے بہتر نتائج کی امید کی جاسکتی ہے جہاں تک دہشت گردی کے معاملہ میں پاکستان کو نشانہ بنا کر امریکہ کو قریب کرنے کا سوال ہے اس تعلق سے ہندوستان کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ امریکہ نے حال ہی میں انسداد دہشت گردی کے رہنمایانہ خطوط میں نرمی لائی ہے ۔ لہذا ہندوستان ۔ پاکستان کے تعلق سے زیادہ جارحانہ موقف اختیار نہیں کرنا چاہئے پڑوسی ملک کی برائی کرتے ہوئے امریکہ کو قریب کرنے کی کوشش کے مختلف نتائج کے برآمد ہوسکتے ہیں۔ بلاشبہ ہندوستان اور امریکہ دو بڑی جمہوریتیں ہیں ۔ انہیں باہمی طور پر غیر جانبدارانہ طریقہ سے دہشت گردی مسئلہ سے نمٹنے کے ساتھ دیگر امور میں تعلقات کو مضبوط و مستحکم بنانے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ عالمی توقعات کے مطابق وہ دنیا کے ماباقی حصوں کی سلامتی میں اہم رول ادا کرنے والے بن سکیں ۔ قوموں کی ترقی میں قائدین کے رول کو اہمیت حاصل ہوتی ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے مشرقی ایشیائی چوٹی کانفرنس میں ہندوستان کے عزائم کا اظہار کر کے سیاسی ‘ سیکوریٹی اور معاشی مسائل میں تعاون کا عہد کیا ‘ توقع کی جاتی ہے کہ آئندہ بھی ہندوستان کو آسیان میں ایک غیر معمولی رول ادا کرتے ہوئے مضبوط پیشرفت کی راہ کشادہ ہوگی ۔

TOPPOPULARRECENT