Wednesday , December 12 2018

ہند ۔ پاک اسمگلرس میں گٹھ جوڑ کا شبہ

اتاری (پنجاب) 11 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی سرحد سے اسمگلرس کی فائرنگ میں بی ایس ایف کے 3 جوان زخمی ہوگئے جب ہند ۔ پاک سرحد کے قریب جہاں سے اتاری ۔ واگھا سرحد عبور کی جاتی ہے۔ بی ایس ایف کی گشتی گاڑی پر فائرنگ کردی گئی۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ یہ واقعہ کل شب 1 بجے پیش آیا جب بارڈر سکیوریٹی فورس کا ایک راستہ ٹاٹا 307 گاڑی میں بھیکونڈ پ

اتاری (پنجاب) 11 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی سرحد سے اسمگلرس کی فائرنگ میں بی ایس ایف کے 3 جوان زخمی ہوگئے جب ہند ۔ پاک سرحد کے قریب جہاں سے اتاری ۔ واگھا سرحد عبور کی جاتی ہے۔ بی ایس ایف کی گشتی گاڑی پر فائرنگ کردی گئی۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ یہ واقعہ کل شب 1 بجے پیش آیا جب بارڈر سکیوریٹی فورس کا ایک راستہ ٹاٹا 307 گاڑی میں بھیکونڈ پوسٹ کے قریب گشت پر تھا۔ یہ مقام ریٹریٹ تقریب گاہ سے 16 کیلو میٹر دور واقع ہے۔ فائرنگ کی تفصیلات بتاتے ہوئے ڈی آئی جی مسٹر آر پی ایس جیسوال نے کہاکہ بی ایس ایف کا دستہ ڈیوٹی انجام دینے کیلئے جیسے ہی گاڑی سے اُترا، پاکستانی اسمگلرس جوکہ سرحد کے قریب روپوش تھے۔ اندھا دھند فائرنگ کردینے سے 3 جوان زخمی ہوگئے۔

بی ایس ایف نے بھی جواب دیتے ہوئے پاکستانی اسمگلرس کی سمت فائرنگ کی۔ فائرنگ کے تبادلہ میں بی ایس ایف کے جوان گولیوں سے زخمی ہوگئے۔ انھیں سرکاری ہاسپٹل میں شریک کروادیا گیا جہاں ان کی حالت خطرہ سے باہر بتائی جاتی ہے۔ ڈی آئی جی نے بتایا کہ پاکستانی اسمگلرس نے حملہ کے دوران اے کے 47 رائفل کا استعمال کیا ہے۔ فائرنگ کے وقت بعض ہندوستانی اسمگلرس بھی دیکھے گئے جنھیں پکڑنے کے لئے تلاشی مہم شروع کردی گئی ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ اتاری ۔ واگھا مشترکہ چیک پوسٹ پر آج منعقد ہونے والی فلیگ میٹنگ کے دوران پاکستانی رینجرس سے اس واقعہ پر احتجاج کیا جائے گا۔ ڈی آئی نے یہ شبہ ظاہر کیاکہ پاکستانی اسمگلرس یہاں ہندوستانی اسمگلرس کے ساتھ منشیات یا اسلحہ کا سودا کرنے آئے تھے۔ تاہم جائے وقوع سے ایسی کوئی چیز برآمد نہیں ہوئی۔

بی ایس ایف کو فینسنگ ایریا سے خالی کارتوس دستیاب ہوئے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد اس علاقہ میں بی ایس ایف کو چوکس کردیا گیا ہے اور اطلاع ملتے ہی سینئر بی ایس ایف عہدیدار پنجاب کے سرحدی علاقوں کا دورہ کرکے حالات کا جائزہ لیا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ ہند ۔ پاک کے درمیان دیرینہ مخاصمت پائی جاتی ہے اور لیکن پہلی مرتبہ یہ منظر عام پر آیا ہے کہ دونوں ممالک کے اسمگلرس باہمی تعاون اور دوستی رکھتے ہیں جس کے خلاف دونوں ممالک کی پولیس فورس کو مشترکہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT