Wednesday , September 26 2018
Home / دنیا / ہند ۔ پاک بات چیت کے احیاء سے جنوبی ایشیا کو فائدہ

ہند ۔ پاک بات چیت کے احیاء سے جنوبی ایشیا کو فائدہ

بروسلز 5 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) یوروپی یونین نے ہندوستان اور پاکستان کے مابین بات چیت کے احیاء کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا کہ یہ بات چیت دونوں ملکوں کے مابین ایک مثبت کوشش اور ایک مستحکم و اعتماد پر مبنی شراکت کا اشارہ ہے ۔ یونین نے کہا کہ اس کے نتیجہ میں جنوبی ایشیا کے سارے علاقہ کو فائدہ ہوسکتا ہے ۔ یوروپین پارلیمنٹ وفد برائے ہندوستان

بروسلز 5 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) یوروپی یونین نے ہندوستان اور پاکستان کے مابین بات چیت کے احیاء کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا کہ یہ بات چیت دونوں ملکوں کے مابین ایک مثبت کوشش اور ایک مستحکم و اعتماد پر مبنی شراکت کا اشارہ ہے ۔ یونین نے کہا کہ اس کے نتیجہ میں جنوبی ایشیا کے سارے علاقہ کو فائدہ ہوسکتا ہے ۔ یوروپین پارلیمنٹ وفد برائے ہندوستان کے صدر نشین جیفری وان آرڈن نے ہندوستانی معتمد خارجہ ایس جئے شنکر کے دورہ اسلام آباد کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ تجارت کوفروغ دینے اور عوام تا عوام رابطوں کو بحال کرنے کی کوششوں سے دونوںملکوں کیلئے کچھ ٹھوس کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے ۔ ساتھ ہی آرڈن نے جو ایک بااثر لیڈر سمجھے جاتے ہیں کہا کہ پاکستان کو اپنی سرزمین پر دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ معتمد خارجہ کا دورہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ہم تعلقات کو بہتر بنانے کی امید کرسکتے ہیں۔ یہ سب کے مفاد میں ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے مابین مستحکم تعلقات ہوں

اور اعتماد بحال ہوسکے ۔ انہوں نے کہا کہ تعلقات میں بہتری کی کوششیں تجارت میںفروغ اور سرحد پار سفر میں اضافہ جیسے چھوٹے اقدامات کے ذریعہ شروع ہوسکتی ہے ۔ اسطرح کی باتیں نیچے کی سطح پر ہونے سے مزید ٹھوس نتائج برآمد ہونے کی امید بھی کی جاسکتی ہے ۔ جئے شنکر نے دورہ پاکستان کے موقع پر اپنے پاکستانی ہم منصب اعزاز چودھری سے منگل کو اسلام آباد میں ملاقات کی تھی اور اس موقع پر دونوں نے مختلف مسائل بشمول دونوں ملکوں کی تشویش اور مفادات پر تبادلہ خیال کیا تھا ۔ ہندوستان نے گذشتہ سال پاکستان کے ساتھ بات چیت کو اچانک منسوخ کردیا تھا کیونکہ پاکستانی ہائی کمشنر متعینہ ہندوستان نے دہلی میں کشمیر کے علیحدگی پسند قائدین سے ملاقات کی تھی ۔ بات چیت کی تنسیخ کے بعد دونوں ملکوں کے معتمدین خارجہ کی یہ پہلی ملاقات تھی ۔ پاکستان میں دہشت گردی کے انفرا اسٹرکچر کے تعلق سے ہندوستان کے تشویش سے متعلق سوال پر مسٹر آرڈن نے کہا کہ اس لعنت سے موثر انداز میں نمٹنے کی ضرورت ہے ۔

دہشت گردی کے انفرا اسٹرکچر سے علاقہ میں سکیوریٹی کو خطرات درپیش ہیں۔ اعزاز چودھری سے ملاقات کے موقع پر جئے شنکر نے دہشت گردی اور ممبئی حملوں کا مسئلہ بھی اٹھایا تھا ۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ افغانستان میں سکیوریٹی اور استحکام ایک بڑا چیلنج ہوگا مسٹر آرڈن نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کے مفادات اس ملک میں موجود ہیں اور انہیں اس ملک کی بحیثیت مجموعی فلاح کیلئے مثبت رول ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوںنے کہا کہ افغانستان میں گذشتہ چند برسوں میں بہت کچھ پیشرفت ہوئی ہے اور پاکستان و ہندوستان کو اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ امن و استحکام کی کوششوں میں افغانستان مزید پیشرفت کرے ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے استحکام میں دونوںملکوں کا مفاد ہے ۔ انہیں اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ وہاں ایک جمہوری اور مستحکم حکومت قائم ہو اور وہ امن و استحکام کی کوششوں کو آگے بڑھائے ۔ انہیں اپنی کوششوں میں پیچھے ہٹنے سے گریز کرنا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT