Monday , June 18 2018
Home / کھیل کی خبریں / ہند ۔ پاک باہمی سیریز کے معاہدہ پر میانداد کو شکوک

ہند ۔ پاک باہمی سیریز کے معاہدہ پر میانداد کو شکوک

ہندوستانی کرکٹ بورڈ نے کسی طرح کی توثیق نہیں کی ۔ سابق کپتان کا اظہار خیال

ہندوستانی کرکٹ بورڈ نے کسی طرح کی توثیق نہیں کی ۔ سابق کپتان کا اظہار خیال
کراچی 18 مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) سابق پاکستانی کپتان جاوید میانداد نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ نجم سیٹھی کے ان دعووں پر شکوک کا اظہار کیا ہے کہ پی سی بی نے ہندوستانی کرکٹ بورڈ کے ساتھ ایک معاہدہ پر دستخط کئے ہیں تاکہ 2015 سے 2023 کے درمیان چھ باہمی سیریزیں کھیلی جائیں۔

میانداد نے بتایا کہ وہ اس معاہدہ کی حقیقت جانتے ہیں کیونکہ بی سی سی آئی خود غیر یقینی کیفیت کا شکار ہے اور سرینواسن کو دوبارہ بحال کیا جائیگا یا نہیں یہ کہا نہیں جاسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ خود پاکستان کرکٹ بورڈ اڈھاک بنیادوں پر کام کر رہا ہے اور اس کا کام انتخابات کروانا ہے ۔ ایسے میں جو معاہدہ کیا گیا ہے اس کی کوئی اہمیت بھی نہیں رہ جاتی ۔ سابق کپتان نے یہ واضح کیا کہ جب سے پاکستان کرکٹ بورڈ نے معاہدہ کرنے کا دعوی کیا ہے اس وقت سے ہندوستانی کرکٹ بورڈ نے اس تعلق سے ایک بھی بیان نہیں دیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ یہ حیرت کی بات ہے کہ ہندوستانی کرکٹ بورڈ کے کسی عہدیدار نے اس معاہدہ کے تعلق سے نہ کوئی بیان دیا ہے اور نہ کوئی اعلامیہ جاری کیا ہے ۔ پاکستان بورڈ نے ادعا کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے آئندہ سال کسی تیسرے مقام پر ہندوستان کے ساتھ دو ٹسٹ میچس کی سیریز کھیلی جائیگی جس کے بعد پانچ باہمی ونڈے میچس کھیلے جائیں گے ۔ پاکستان کا ادعا تھا کہ تین ونڈے میچس پاکستان میں اور دو ہندوستان میں کھیلے جائیں گے ۔ نجم سیٹھی کل ہی پاکستان کرکٹ بورڈ کی صدارت سے محروم ہوگئے ہیں کیونکہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے کے ذریعہ ذکا اشرف کو بحال کردیا ہے ۔ یہ اشارے مل رہے ہیں کہ ذکا اشرف سے قربت رکھنے والے جاوید میانداد کو بورڈ میں کوئی اہم عہدہ دیا جائیگا

۔ جاوید میانداد نے حکومت کی جانب سے ذکا اشرف کی برخواستگی کے بعد خود بھی استعفی دیدیا تھا ۔ میانداد نے اس تعلق سے کہا کہ ان کا اصل مقصد یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ آگے بڑھے ۔ پاکستان کا جو بورڈ صرف چار ماہ کیلئے کام کرنا تھا اس نے اتنے سارے فیصلے کرلئے اور وہ بھی دور رس فیصلے کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس مینیجنگ کمیٹی کو صرف چار ماہ کام کرنے اور وہ بھی علاقائی انتخابات کروانے کا اختیار دیا گیا تھا اتنے سارے اور دور رس اثرات کے حامل فیصلے کیسے کرسکتی ہے۔ اس کمیٹی نے 100 ملازمین کو برطرف بھی کردیا تھا ۔ میانداد نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ عدالتوں نے ان سارے ملازمین کو بھی بحال کردیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT