Saturday , December 15 2018

ہند ۔ پاک تعلقات میں مسئلہ کشمیر سب سے بڑی رکاوٹ

اسلام آباد 14 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے ایک بار پھر مسئلہ کشمیر کا تذکرہ کرتے ہیوئے کہاکہ ہند ۔ پاک تعلقات میں ’’یہی کشیدگی کی بنیادی وجہ ہے‘‘ اور اِس مسئلہ کی پرامن یکسوئی سے باہمی تعلقات میں اضافہ کی نئی راہیں تلاش کی جاسکتی ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ ہم مسئلہ کشمیر کی پرامن یکسوئی چاہتے ہیں اور پورے خلوص کے س

اسلام آباد 14 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے ایک بار پھر مسئلہ کشمیر کا تذکرہ کرتے ہیوئے کہاکہ ہند ۔ پاک تعلقات میں ’’یہی کشیدگی کی بنیادی وجہ ہے‘‘ اور اِس مسئلہ کی پرامن یکسوئی سے باہمی تعلقات میں اضافہ کی نئی راہیں تلاش کی جاسکتی ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ ہم مسئلہ کشمیر کی پرامن یکسوئی چاہتے ہیں اور پورے خلوص کے ساتھ کشیدگی کی بنیادی وجہ دور کرنے کی خواہش کرتے ہیں۔ اِس مسئلہ کی یکسوئی کے بعد ہندوستان اور پاکستان باہمی تعلقات کو فروغ دینے کے نئے راستے تلاش کرسکیں گے۔ وہ اسلام آباد میں آدھی رات کے بعد یوم آزادی پریڈ کا مشاہدہ کرنے کے بعد قوم سے خطاب کررہے تھے۔ نواز شریف کا تبصرہ دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ کے وزیراعظم نریندر مودی کی تقریر میں تذکرہ کے فوری بعد منظر عام پر آیا ہے۔ نریندر مودی نے پاکستان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ہندوستان کے خلاف دہشت گردی کی

نیابتی جنگ میں مصروف ہے۔ اُنھوں نے کہا تھا پاکستان اور ہندوستان لفظی تکرار میں ملوث ہیں۔ ہندوستان کہتا ہے کہ دہشت گردی بنیادی فکرمندی ہے اور باہمی تعلقات اُس وقت تک بہتر نہیں ہوسکتے جب تک کہ اِس کا مؤثر مقابلہ نہ کیا جائے۔ پاکستان نے مودی کے تبصروں کو بے بنیاد لفاظی اور بدبختانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ ہندوستان نے پاکستان کی جانب سے حالیہ ہفتوں میں خطہ قبضہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اُٹھائی ہے۔ اپنی تقریر میں وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے کہاکہ تمام پڑوسیوں کے ساتھ پرامن تعلقات کا فروغ ہماری خارجہ پالیسی کے خیرسگالی اُصولوں میں سے ایک ہے۔ ہم ایک پرامن ملک ہیں اور ملک کے اندر امن کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔ ہم اپنی سرحدات پر بھی پائیدار امن چاہتے ہیں۔ نواز شریف نے افغانستان میں پائیدار اور مستقل امن کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ پورا علاقہ اِسی صورت میں ترقی کی بلندیوں پر پہونچ سکتا ہے۔ جبکہ افغانستان پائیدار امن قائم ہو۔ پاکستانی فوج کے تینوں شعبوں کے سربراہ، وزراء، سفارت کار، سینئر عہدیدار اور نامور تاجر پارلیمنٹ کے احاطہ میں منعقدہ اِس تقریب میں شریک تھے۔

TOPPOPULARRECENT