Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / ہند ۔ پاک کو کھلے دل سے مذاکرات کی ضرورت

ہند ۔ پاک کو کھلے دل سے مذاکرات کی ضرورت

۔70 سال کی رنجش کو پس پشت ڈال کر مسائل کی یکسوئی وقت کا تقاضہ ، مولانا طاہر القادری کا بیان
نئی دہلی ۔ /7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے ممتاز عالم دین نے آج کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کو کھلے دل سے مذاکرات کرنی چاہئیے اپنی 70 سالہ رنجش کو پس پشت ڈال کر تمام باہمی اور دیرینہ مسائل کی یکسوئی کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے آگے آنا ضروری ہے ۔ عالم دین محمد طاہر القادری نے جنہوں نے دیڑھ سال قبل اسلام آباد میں نواز شریف حکومت کے خلاف بڑے پیمانہ پر احتجاجی ریالیاں منظم کی تھیں کہا کہ دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کے لئے ایک محاذ کے طور پر مذہب کے استعمال کو برداشت نہیں کیا جانا چاہئیے ۔ دونوں ممالک کو اس دہشت گردی کی لعنت کا خاتمہ کرنے مشترکہ جدوجہد کرنی چاہئیے ۔ نوجوان ذہنوں میں تشدد کی بڑھتی روش پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے مولانا نے یہ بھی کہا کہ اسکولوں ، کالجوں ، یونیورسٹیوں ، مدرسوں اور تعلیمی اداروں خاص کر مذہبی تنظیموں کی جانب سے چلائے جانے والے دینی مدارس میں تشدد پسندانہ روش کو ختم کرنے والے نصاب کو پڑھانے کی ضرورت ہے ۔ نوجوانوں کو دہشت گردی

اور انتہاپسندی کی خرابیوں اور تباہی سے متعلق درس دینے کی ضرورت ہے ۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کے لئے زور دیتے ہوئے طاہر القادری نے کہا کہ دونوں ملکوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ اپنی 7 دہوں پرانی دشمنی کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں یا ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ اور اچھے ہمسایہ کے طور پر رہنا چاہتے ہیں ۔ امن کی راہ کو ترجیح دیں گے تو معاشی ترقی ہوگی جو آج کی دنیا کا اہم مدعا ہے ۔ معاشی سطح پر ہر دو  ملکوں کو ترقی کرنا چاہئیے ۔ 65 سالہ عالم دین نے کہا کہ کشمیر ، ممبئی دہشت گرد حملہ اور پٹھان کوٹ واقعہ کے بشمول تمام مسائل پر تبادلہ خیال کیا جائے ۔ ہم ان باتوں میں اپنی بے شمار توانائی ، بجٹ ، وسائل ضائع کررہے ہیں ۔ ہمارے کشیدہ تعلقات کی وجہ سے وقت اور ذہنی سکون بھی تباہ ہورہا ہے ۔ دونوں ملکوں کو کھلے دل اور کھلے ذہن کے ساتھ بات چیت کرنی چاہئیے ۔ سرزمین پاکستان سے دہشت گردی کے انفراسٹرکچر کو بڑھاوا دینے سے ہندوستان کے شدید متاثر ہونے پر مولانا طاہر القادری نے کہا کہ دہشت گردی بنی نوع انسانی کی دشمن ہے اور دونوں ملکوں کو اپنے اس مشترکہ دشمن کو پہچان کر یہ تسلیم کرنا چاہئیے کہ باہمی جدوجہد سے ہی دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے ۔ دہشت گردی بنی نوع انسان کی اصل دشمن ہے ۔ میرا قوی احساس ہے کہ اگر پاکستان و ہندوستان مل کر اس مشترکہ دشمن کا مقابلہ کریں تو امن و امان کو یقینی بنایا جائے گا ۔ اگر آپ ماضی پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوگا کہ خطہ میں 70 سال گزر گئے اور آج بھی یہ موقف ہے کہ ہندوستان اپنے پڑوسی ملک پاکستان کو دشمن سمجھتا ہے اور پاکستان بھی ہندوستان کو دشمن ہی متصور کرتا ہے ۔ ایسی سوچ سے ہی عوام کے ذہنوں میں نفرت پیدا ہورہی ہے ۔ اول ہم کو ایسی دشمن کا خاتمہ کرنا ہوگا ۔ یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ دہشت گردی ہماری مشترکہ دشمنی ہے ۔ اس وجہ سے یہ خطہ پسماندگی کا شکار ہے ۔

TOPPOPULARRECENT