Saturday , February 24 2018
Home / دنیا / ہند ۔ چین سرحدی تنازعہ پر آئندہ ماہ بات چیت کا احیاء

ہند ۔ چین سرحدی تنازعہ پر آئندہ ماہ بات چیت کا احیاء

تاریخوں کا تعین عنقریب
چینی صدر کے دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد پہلی بار بات چیت
قومی سلامتی مشیر برائے ہند اجیت دوول اور چین کے اسٹیٹ کونسلر یانگ جیچی
پر اہم ذمہ داریاں
چینی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان ہوا چیونگ نے تفصیلات فراہم کیں

بیجنگ ۔ 10 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان اور چین سرحدی تنازعہ اور دیگر دورخی معاملات پر آئندہ ماہ بات چیت کے اگلے مرحلہ کا آغاز کریں گے اور یہ دونوں ممالک کے درمیان صدر چین ژی جن پنگ کے ذریعہ حکمراں جماعت کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے دوسری میعاد کیلئے قیادت سنبھالنے کے بعد بات چیت کا پہلا مرحلہ ہوگا۔ دریں اثناء چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چوینگ نے اہم اطلاعات دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور چین کے درمیان خصوصی نمائندگی والی سرحدی بات چیت کے 20 یں مرحلہ کے علاوہ روس، انڈیا اور چائنا (RIC) کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بھی عنقریب منعقد کیا جائے گا۔ تاہم موصوفہ نے دونوں ہی اجلاس کے انعقاد کی کسی مخصوص تاریخ کا اعلان نہیں کیا جبکہ عہدیداروں کا کہنا ہیکہ سرحدی بات چیت اور آر آئی سی اجلاس آئندہ ماہ ہندوستان کے دارالخلافہ نئی دہلی میں منعقد کرنے کی توقع ہے۔ سرحدی بات چیت کا 20 واں مرحلہ حالیہ دنوں میں 73 دنوں تک چلنے والے ڈوکلام تنازعہ کے بعد دونوں ممالک (ہند ۔ چین) کے درمیان پہلی بات چیت ہوگی۔ سرحدی بات چیت قومی سلامتی مشیر اجیت دوول اور چین کے اسٹیٹ کونسلر یانگ جیچی کے درمیان ہوگی جنہیں خصوصی طور پر نمائندگی تفویض کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں دونوں افسران کو دونوں ممالک کے درمیان دیگر دورخی معاملات پر بھی بات چیت کے ذریعہ احاطہ کرنے کے اختیارات تفویض کئے گئے ہیں۔ یانگ جو فی الحال اسٹیٹ کونسل کے عہدہ پر فائز ہیں جو وزیرخارجہ کے درجہ سے کچھ درجہ اعلیٰ ہے، کو اب 25 رکنی بااختیار کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے پولیٹ بیورو کیلئے منتخب کیا گیا ہے جو حالیہ دنوں میں پانچ سال میں ایک مرتبہ منعقد کی جانے والی کانگریس میںکیا گیا تھا۔ آئندہ سال مارچ میں یانگ اپنے عہدہ سے دستبردار ہوجائیں گے جبکہ وزیرخارجہ وانگ یی کو اسٹیٹ کونسلر کے عہدہ کا مضبوط دعویدار سمجھا جارہا ہے۔

یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ چینی اور ہندوستانی قائدین سرحدی بات چیت کو بہت زیادہ اہمیت کا حامل سمجھتے ہیں اور گذشتہ کئی سال سے اس کوشش میں ہیں کہ سرحدی تنازعہ کسی نہ کسی طرح حل ہوجائے۔ قبل ازیں منعقد کئے گئے اجلاس میں خصوصی نمائندوں نے تبادلہ خیال ضرور کیا تھا اور مثبت پیشرفت بھی ہوئی تھی اور اب ہم یہ بات وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ میکانزم بہترین انداز میں کام کررہا ہے لہٰذا دونوں ممالک عاجلانہ طور پر آئندہ اجلاس کی تاریخ کا تعین کریں گے۔ اب اگر ہم اس تعلق سے چینی ماہرین کی رائے کا احاطہ کریں تو یہ معلوم ہوگا کہ وہ بھی ہند ۔ چین بات چیت میں سرحدی تنازعہ کو سرفہرست رکھنے کی تائید کرتے ہیں۔ چائنیز اسوسی ایشن فار ساؤتھ ایشین اسٹڈیز سے وابستہ ایک ماہر قیانگ فنگ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازعہ پر بات چیت ایک مثبت پیشرفت ہے کیونکہ کسی بھی تنازعہ کو ٹکراؤ کی بجائے مذاکرات کے ذریعہ حل کرنا ہی دانشمندی ہے۔ سرحدی تنازعہ اتنا پرانا ہے کہ اب اس سے بوسیدگی کی بو آرہی ہے اور حالیہ دنوں میں ڈوکلام تنازعہ نے پرانے تنازعہ کو بھی تقویت بخشی، جس نے دونوں ممالک کے تعلقات میں ہلکی سی کشیدگی پیدا کردی۔ تاہم اب جوبات ہوگی اس سے ہند ۔ چین کشیدگی کی عکاسی ہوگی یا نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا نے یہ بھی اشارہ دیا کہ آر آئی سی کے دوسرے مرحلہ کی بات چیت بھی عنقریب منعقد کی جائے گی۔ یاد رہیکہ قبل ازیں چینی عہدیداروں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ آر آئی سی کا آئندہ اجلاس ڈسمبر میں نئی دہلی میں ہوگا۔ ڈوکلام کے علاوہ 50 بلین ڈالرس کے مصارف والے چائنا۔ پاکستان۔ اکنامک کاریڈور (CPEC) پر بھی ہند ۔ چین بات چیت کریں گے۔ یاد رہیکہ سی پی ای سی چین کے ہزارہا ڈالرس کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو پراجکٹ کا حصہ ہے۔ ہندوستان نے اس پر یہ کہہ کر اعتراض کیا تھا کہ یہ پاکستان مقبوضہ کشمیر سے ہوکر گزرتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT