Sunday , December 17 2017
Home / مضامین / ہوا خلاف چلی تو چراغ خوب جلا

ہوا خلاف چلی تو چراغ خوب جلا

 

محمد عثمان شہید ایڈوکیٹ
چراغ کج رفتار کے تیور بدلتے دیر نہیں لگتی ‘ موسم کا رنگ بدلتے دیر نہیں لگتی ‘ خزاں کی کوکھ سے بہار کو جنم لیتے دیر نہیں لگتی ‘ نفرتوں کی شب دیجور سے محبت کے اجالے پیدا ہوتے دیر نہیں لگتی ‘ ناامیدی اور مایوسی کے سوکھے پیڑ ‘ سوکھی ٹہینوں اور سوکھی شاخوں کو سرسبز و شاداب لباس پہننے دیر نہیں لگتی ۔
اسی طرح عوام کا ذہن بدلتے دیر نہیں لگتی‘ عوامی انقلاب آنے میں دیر نہیں لگتی ‘ عوام کے مستقبل کے اندیشوں سے لرزتے سوکھے لبوں پر امیدوں کی مسکراہٹ ناچتے دیر نہیں لگتی ۔ بھارت نے جب فرقہ پرستی کا زہر پی لیا اور سیکولرازم کا شجر سایہ دار رفتہ رفتہ بے لباس ہوگا گیا تو ہم ہندوستانی اپنے اور اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کے خوف سے لرزہ براندام تھے ۔ بھارت کے ہندو دیش بن جانے کا خوف ‘ مسجدوں کے منبر و محراب سے ذکر الٰہی کے بند ہوجانے کا خوف ‘ مسجدوں کے میناروں سے اذاں کے بند ہوجانے کا خوف ‘ انہیں مندروں میں تبدیل کرنے کا خوف ‘ درگاہوں پر زائرین کی آمد و رفت پر رکاوٹیںپیدا کرنے کا خوف یا انہیں مندروں میں تبدیل کرنے کا خوف ‘ ہماری نیندیں حرام کردیتا تھا اور پھر اس بات کا شدید ترین خوف تھا کہ ہم اپنے اسلاف کے کارناموں کو فراموش نہ کردیں ۔ ہماری نسل وندے ماترم پڑھتے ہوئے سوریہ نمسکار کرتے کرتے کہیں مشرک نہ ہوجائے ۔ یہ بھی خوف ہمارے دلوں کی دھڑکن تیز کردیتا تھا کہ گاؤکشی پر امتناع عائد ہوجانے کے بعد بھینس پر امتناع اور بکروں کو ذبح کرنے پر قانونی رکاوٹ پیدا نہ کردی جائے کیونکہ دشمن کو غرض اس بات سے ہے کہ ہندوستان کو مسلمانوں سے ‘ ان کے کلچر تہذیب و تمدن ‘ زبان ‘ لباس ‘ مذہب ‘ قرآن اور ان کے وجود سے مکت کردیا جائے ۔ ان کو لوح ہند سے حرف غلط کی طرح ہٹا دیا جائے تاکہ ’’ نہ بانس رہے نہ بانسری بجے ‘‘لیکن ہمارا یہ خوف اللہ کا شکر کہ دائمی ثابت نہیں ہوا ۔ ان لوگوں کو جنہیں مسلم ووٹوں کی پرواہ نہ تھی جو مسلمانوں کو گرام پنچایت ‘ بلدیہ ‘ اسمبلی اور پارلیمنٹ کے ’’سلیچھ‘‘ سمجھتے تھے جو مسلمانوں پر گاؤکشی کا فرضی الزام عائد کر کے انہیں قتل یا زخمی کررہے تھے جو مسلم پرسنل لا کا وجود برداشت کرنے تیار نہ تھے اور منصوبے بنارہے تھے کہ 2019ء میں پارلیمنٹ کی 360 نشستوں پر قبضہ کر کے ہندوستان کا دستور بدل دیں ‘ اس میں سے سیکولرازم کی روح نکال دیں تاکہ چشتی‘ گوتم و نانک کے اس ملک کو ہندو راشٹرا بنانے میں آسانی ہوجائے ۔ ناندیڑ اور گرداس پور اور وینگرا کے رائے دہندوں نے ایسا کرارا جواب دیا کہ ان کے راتوں کی نیند حرام ہوگئی ہے ‘ دن کا چین غارت ہوگیا ہے ۔ ان کی سٹی گم ہوگئی ہے ان کے ’’ خواب ‘‘ چکناچور ہوگئے ہیں ۔ وہ حواس باختہ ہیں ‘ ان کے سفلی منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے ۔

ناندیڑ کے بلدی انتخابات میں تمام فرقہ پرستوں کو مذہب کے نام پر ووٹوں کے بھکاریوں کو ‘ مذہب کے نام پر نفرت پیدا کر کے ہندو مسلمانوں کو ایکد وسرے سے دور کرنے والوں کو ‘ آر ایس ایس کے ورکرز کو ‘ بی جے پی کو رائے دہندوں نے ایساکرارا جواب دیا کہ وہ مدتوں بھلا نہ سکیں گے اور جواب یہ ہے کہ بابری مسجد کو شہید کرنے والو ‘ تاج محل کو شیو مندر بنانے کا خواب دیکھنے والو ‘ بھارت ماتا کو زعفرانی لبادہ پہنانے کا منصوبہ رکھنے والو ‘ اردو کا خاتمہ کرنے والو ‘ مسلمانوں کو قانونی دستوری عہدہ اور انتظامیہ سے دور رکھنے کی سازش کرنے والو ‘ فسادات برپا کرکے مسلمانوں کو اپنا آبائی مقام چھوڑنے پر مجبور کرنے والو ‘ کشمیریوں کو اندھا بنانے والو ‘ مسلم پرسنل لاکا پرخچہ اڑانے والو ‘ سیکولرازم کی بیخ کنی کرنے والو بی جے پی کے ہاتھوں اپنا ضمیر بیچ کر ملی مفادات کا سودا کرنے والو ‘ تمہاری کوششیں اور شیطانی منصوبے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے ۔
سیکولرازم ہندوستانیوں کے رگ رگ میں جاری و ساری ہے ‘ وہ لہو بن کر ہندوستانیوں کے بدن میںدوڑ رہا ہے ۔ ہندو مسلمان ایک دوسرے کے دشمن کبھی نہیں تھے اور نہ ہی انہیں نفرت کی دیواریں کھڑی کر کے تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔ ہندو اچھی طرح جانتا اور سمجھتا ہے کہ مسلمانوں کے بغیر اس کی ترقی و بقا ممکن نہیں اور مسلمان اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ ہندو بھائیوں سے نفرت کر کے اس ملک میں سانس نہیں لے سکتا ۔ ہندو بھائی مسلمانوں کی تاریخ سے اچھی طرح واقف ہیں کہ مسلمانوں نے اس ملک پر حکومت نہیں کی ہے بلکہ انہوں نے اقبال کی زبان میں و لحنکے ایک ایک ذرے کو دیوتا سمجھ کر اس وطن عزیز کی مٹی سے پیار کیا ہے ۔ انہوں نے اپنے وطن سے ایسی محبت کی ہے جیسے ایک ماں اپنے بچے سے کرتی ہے ۔ انہوں نے یہاں کی دولت پر ڈاکہ نہیں ڈالا بلکہ ہندوستان کو دلہن کی طرح سجانے کیلئے تاج محل ‘ قطب مینار ‘ لال قلعہ ‘ جامع مسجد ‘ آگرہ کا قلعہ ‘ ہمایوں کا مقبرہ ‘ چارمینار ‘ عثمانیہ دواخانہ ‘ ہائیکورٹ حیدرآباد جیسی کئی ایک خوبصورت عمارتیں تعمیر کیں ۔

فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی برقراری کیلئے گجرات کی رانی کرناوتی کی بہادر خان روہیلے کے مقابلے میں ہمایون بن کر مدد کی ۔ ابر بن کر حکومت کی تو راجا مان سنگھ کو افواج کا کمانڈر انچیف بنایا ۔ راجا ٹوڈرمل کو فینانس کا قلمدان دیا ۔ شیواجی نے اپنے بحری بیڑے کی کمان ایک مسلمان ابراہیم گاڑدی کو دی ۔ محبوب علی پاشاہ آصف جاہ ششم نے مہاراجہ کشن پرساد کو اپنا وزیراعظم مقرر کیا ۔ نواب عثمان علی خان آصف جاہ سابع نے شہر کا کوتوال وینکٹ ریڈی کو بنایا ۔ قلی قطب شاہ نے اکنامادنا کو خزانے کی کنجیاں حوال کردیں ۔
ہم ناندیڑ کے ہندو مسلمان مرہٹے بھائیوں کو اور دیگر تمام ووٹرز کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتے ہیں کہ انہوں نے اپنی انگشت کی ایک جنبش سے نفرتوں کی آندھی میں سیکولرازم کا چراغ روشن کردیا ۔ اپنے ووٹوں کی اہمیت کو سمجھ کر مایوسی کے گھپ اندھیرے میں امید کا چراغ روشن کردیا ۔ ہم سلام کرتے ہیں ان کے اس فیصلہ کو ‘ ہم ناندیڑ گرداس پور وینگرا کے ووٹرز کے حوصلوں کو سلام کرتے ہیں ۔ ہم سلام کرتے ہیں ان کی سمجھ بوجھ کو ‘ ہم سلام کرتے ہیں سیکولرازم کے علمبرداروں کو ‘ ہم سلام کرتے ہیں سیکولر اقدار کے محافظوں کو ۔ آر ایس ایس کا پرچار کرنے والوں بی جے پی کیلئے انتخابی مہم چلانے والو دیکھ لیا تم نے ‘ تمہاری لاکھ کوششوں کے باوجود سیکولرازم کا چراغ بجھ نہیں سکا ۔ تم ہندو مسلم اتحاد کو نفرت کی تلوار سے ذبح نہیں کرسکتے ‘ تم کبھی بھی ہندوستان کو ہندو راشٹرا نہیں بناسکتے ‘ تمکبھی بھی ہندو بھائیوں کو مسلمانوں سے دور نہیں کرسکتے ‘ لاکھ فسادات برپا کرلو مسلمانوں کے دل میں ہندو بھائیوں کے خلاف نفرت پیدا نہ کرسکوگے ۔
مسلمان کو ذلیل و خوار کرنے کیلئے ان کے ماضی کو داغدار بنانے کیلئے ان کو قابل نفرت قرار دینے کیلئے تاریخ کو بدل تو سکتے ہو لیکن دلوں کو پھیر نہیں سکتے ۔ ہندوؤں مسلمانوں کے دل میں صرف ایک دوسرے کیلئے پیار ہے صرف پیار ہے ‘ ان کے دلوں میں نفرت کی کوئی جگہ نہیں ۔ تمہارے حامی کرناٹک کی سیکولر حکومت کی بنیادیں ہلانے کیلئے کیا کیا جتن کررہے ہیں ! ۔ افواہوں کے ذریعہ یہ باور کروا رہے ہیکہ کرناٹک میں ’’ طالبان کی حکومت ‘‘ ہے ‘ کرناٹک کے ایم پی پرتاپ سنہا نے ایک رپورٹ شیئر کی اور کہا کہ ایک مسلمان نے ایک ہندو لڑکی کو چاقو مار کر ہلاک کردیا ۔ یہ خبر بعد ازاں جھوٹ ثابت ہوئی ۔ تمہارے جھوٹ کے پلندے ہے ۔ مسرز دھرر مراٹھی ‘ پرتیک سنہا گوری لنکیش جیسے سچ کے علمبردار میدان صحافت میں جرات کے ساتھ بی جے پی کے عزائم کو عوام کے سامنے ننگا کرچکے ہیں ‘ گوری لنکیش نے اپنے نوک قلم سے سچائی کو بے نقاب کرتے ہوئے طشت از بام کیا تھا کہ بنگال کے فساد کے وقت آر ایس ایس کے حامیوں نے گجرات فسادات کی ایک تصویر یہ کہہ کر چھاپی تھی کہ بنگال جل رہا ہے اور بھوجپوری فلم کے ایک سین جس میں ایک عورت کی ساڑی کھینچی جارہی تھی ۔ اس طرح شائع کیا کہ بنگال میں ہندو خواتین پر ظلم ‘ یہ فوٹو بھی شائعکی گئی جس میں ترنگے کو جلتا ہوا بتایا گیا ہے اور الزام حیدرآباد پر عائد کیا گیا جبکہ ایسا کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں ‘ بعد تحقیق کے پتہ چلا کہ یہ واقعہ پاکستان میں رونما ہوا تھا ۔ واہ رہے گوٹیلز کے چیلو … واہ تمہاری دریدہ ذہنی کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ‘ وقتی طور پر کچھ ہندو بھائی ایسی خبروں اور ایسی افواہوں سے متاثر ہوجائیں گے لیکن جھوٹے کا منہ ایک نہ ایک دن کالا ہوہی جاتا ہے ۔ تم ہندوستانی مسلمانوں سے اس ملک کو مکت نہیں کرسکتے ‘ مسلمان اس ملک کا سچا عاشق ہے ورنہ سراج الدولہ ‘ ٹیپو سلطان ‘ بیگم حضرت محل ‘ اشفاق اللہ ‘ مولانا اسمعیل ‘ محمد علی شوکت علی ‘ حسرت موہانی ‘ ابوالکلام آزاد ‘ طرح باز خاں جیسے لاکھوں جانباز آزادی کے متوالے ان کی صفوں می پیدا نہ ہوتے جبکہ تمہاری تاریخ کی کوکھ بانجھ ہے ۔
تم اپنے انجام سے باخبر ہوجاؤ ‘ نوشتہ دیوار پڑھ لو ‘ تمہاری صفوں میں اب اسٹوڈنٹ لیڈر کنہیا ‘ نوجوان جہد کار ہردک پٹیل جیسے انقلابی پیدا ہوچکے ہیں ۔ سن لو ۔
ہوا خلاف چلی تو چراغ خوب جلا
خدا بھی ہونے کا کیا کیا ثبوت دیتا ہے

TOPPOPULARRECENT