Wednesday , September 19 2018
Home / شہر کی خبریں / ہڑتالی جونیر ڈاکٹرس ، ہٹ دھرمی ختم کریں

ہڑتالی جونیر ڈاکٹرس ، ہٹ دھرمی ختم کریں

انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رجوع بکار ہوجائیں ، ڈپٹی چیف منسٹر ٹی راجیا کا بیان

انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رجوع بکار ہوجائیں ، ڈپٹی چیف منسٹر ٹی راجیا کا بیان
حیدرآباد۔/28اکٹوبر، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر صحت ڈاکٹر ٹی راجیا نے ہڑتالی جونیر ڈاکٹرس سے اپیل کی کہ وہ اپنا ہٹ دھرمی کا رویہ ترک کرتے ہوئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رجوع بہ کار ہوجائیں۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت جونیر ڈاکٹرس کے مطالبات پر ہمدردانہ موقف رکھتی ہے۔ جونیر ڈاکٹرس اپنے مطالبات کے حق میں جو مانگ کررہے ہیں حکومت اس سے زیادہ انہیں سہولتیں اور مراعات فراہم کرنے کیلئے تیار ہے بشرطیکہ جونیر ڈاکٹرس ہڑتال سے فوری دستبرداری اختیار کرلیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ریاستوں میں ملازمین کی تقسیم کے بعد تلنگانہ میں مخلوعہ نشستوں پر تلنگانہ کے جونیر ڈاکٹرس کا تقرر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جونیر ڈاکٹرس سے اب تک حکومت کی بات چیت میں پیشرفت ہوئی لیکن بعض مطالبات پر ڈاکٹرس کے نمائندوں کے شدید رویہ نے ہڑتال کے خاتمہ میں رکاوٹ پیدا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت جبکہ تلنگانہ کے بیشتر دیہی اور قبائیلی علاقوں میں عوام کو مختلف وبائی اور دیگر امراض کا سامنا ہے، جونیر ڈاکٹرس کی ذمہ داری ہے کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غریب ضرورتمند افراد کی طبی امداد کیلئے خود کو پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں ایک سال تک لازمی طور پر خدمات کی انجام دہی کا مقصد دیہی علاقوں میں بنیادی طبی سہولتوں کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں ایک سال تک خدمات کی انجام دہی کی صورت میں ڈاکٹرس کو مزید بہتر تجربہ حاصل ہوگا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ہڑتال کے خاتمہ کی صورت میں حکومت تمام مطالبات پر ہمدردانہ غو رکرے گی۔ ڈاکٹر راجیا نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کا حوالہ دیا جس میں ڈاکٹرس کو ہدایت دی گئی کہ وہ فوری کام پر رجوع ہوجائیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ہڑتالی ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کرنا حکومت کا مقصد نہیں ہے لیکن طبی سہولتوں کی فراہمی اور سرکاری دواخانوں میں عوام کو طبی امداد بہم پہنچانا حکومت کی ذمہ داری ہے لہذا حکومت نے سخت گیر اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر صحت نے ریاست میں ڈینگو سے اموات سے متعلق اطلاعات کی تردید کی اور کہا کہ تلنگانہ میں ڈینگو سے ایک بھی شخص کی موت واقع نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈینگو اور اس سے متعلق بیماریوں کے مسئلہ پر انہوں نے وزارت صحت کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 5اضلاع میں ڈینگو کے 53 کیسس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ ڈاکٹر راجیا نے شکایت کی کہ ڈینگو کے مسئلہ پر خانگی ہاسپٹلس عوام کو خوفزدہ کررہے ہیں اور اپنے فائدہ کیلئے عوام کے جذبات سے کھلواڑ کیا جارہا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ عادل آباد، کھمم اور نظام آباد میں ڈینگو کے زیادہ مریض پائے گئے ہیں تاہم اس مرض پر قابو پانے کیلئے موثر علاج موجود ہے لہذا عوام کو خوفزدہ ہوکر خانگی دواخانوں سے رجوع ہونے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈینگو کے مسئلہ پر عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کرنے کیلئے وہ کل عادل آباد اور نظام آباد کا دورہ کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT